افغان لڑکی جو امریکہ میں محفوظ تھی
وہ جیسے ہی گاڑی سے اُتری دو چھوٹی چھوٹی بچّیاں، شاید سات آٹھ سال کی ہوں گی، ماما کہہ کر لپکتی ہوئی اس کی طرف آئی تھیں۔ میرے کانوں میں فارسی کی شیرینی کسی شربت کی طرح اُترتی چلی گئی۔ دونوں بچّیوں کا چہرہ کِھلا ہوا تھا، ثریا کے چہرے کی تراوٹ کو میں نے پہلی دفعہ شدت سے محسوس کیا۔
”ڈاکٹر تیمور، یہ میری بڑی بیٹی ہے بہار اور یہ دوسری بیٹی ہے سوسن، اور وہ میری والدہ ہیں نگار خانم۔“ اس نے کھڑے کھڑے ہی سب سے میرا تعارف کرادیا تھا۔
”خوش آمدید“ اس کی ماں نے بڑی شستہ انگریزی میں مجھے اندر چلنے کو کہا۔
میں اپنا چھوٹا سا سوٹ کیس اُٹھا کر گھر میں داخل ہوگیا۔ ”آئیں پہلے مُنھ ہاتھ دھولیں پھر فون کرتے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ مجھے اشارے سے کمرے کی طرف لے گئی تھی۔ ”پھر کھانا کھا کر میں آپ کو چھوڑدوں گی۔“
میں نے مُنھ ہاتھ دھویا اور باہر آکر ثریا کو مقامی منتظم کا نمبر نکال کر کردیا تھا۔ شام زیادہ ہوچکی تھی آفس میں کوئی نہیں تھا، لیکن ثریا نے پتہ کرلیا کہ کل کی میٹنگ مین ہٹن میں واقع میریاٹ کے کانفرنس سینٹر میں تھی، اسی ہوٹل میں میرا انتظام بھی تھا مگر کسی غلط فہمی کی بناء پر ہوٹل کی گاڑی نیویارک کے جان ایف کینڈی ایئرپورٹ پر میرا انتظار کرکے واپس ہوٹل آچکی تھی۔
پھر یہی فیصلہ ہوا کہ میں رات ثریا کے گھر پر گزارلوں اور صبح ثریا کو بھی مین ہٹن ہی جانا ہے جہاں وہ مجھے چھوڑدے گی۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ چلو اچھا ہوا ثریا سے ملاقات ہوگئی ورنہ خوامخواہ مجھے پریشان ہونا پڑتا۔
ثریا کی ماں کے پکائے ہوئے افغانی کھانے بہت لذیذ تھے۔ ثریا بھی بہت مہمان نوازی سے کام لے رہی تھی اور دونوں خوبصورت بچّیاں ثریا ہی کی طرح جاذبِ نظر تھیں اور باتوں باتوں میں مجھے پتہ لگ گیا تھا کہ بچّیوں کا باپ افغانستان کی جنگ میں مارا جاچکا تھا۔
کھانے کے بعد گرم گرم قہوے کے گھونٹ لیتے ہوئے میں ثریا کی ماں سے پوچھ بیٹھا کہ افغانستان سے کیسے نکلے تھے وہ لوگ۔
”پاکستان کی مہربانی سے“ دونوں کے مُنھ سے بے ساختہ نکل گیا۔ پھر دونوں اکٹھے ہی مسکرائے۔ میں نے ان کے لہجے میں ہلکا سا طنز محسوس کرلیا تھا پھر اس کی ماں نے بتانا شروع کیا جیسے وہ سب کچھ بتانے کے لیے تیار بیٹھی ہوں۔
”ہم لوگ قلعہ فتح اللہ میں رہتے تھے، یہ کابل کا اچھا علاقہ ہے۔ میرا شوہر کابل یونیورسٹی میں فزکس کا پروفیسر تھا۔ اس نے ماسکو کے لوممبا یونیورسٹی سے فزکس میں پی ایچ ڈی کیا تھا اور میں محکمہ خارجہ میں ڈائریکٹر تھی، میں نے بھی کابل یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری لی اور وہیں میری ملاقات نصرامین سے ہوئی تھی۔ وہاں ہی میرے والد نے آکر نصر سے ملاقات کی پھر بزرگوں کی مرضی سے ہماری شادی ہوگئی تھی۔
ثریا سب سے بڑی بیٹی اور باقی دو بیٹے ہم سب لوگ بہت اچھے انداز سے رہتے تھے، وہاں پھر نہ جانے کیا ہوگیا، کیسے ہوگیا، ہاتھیوں کی لڑائی تو تھی ہی امریکہ اور روس کی۔ پھر پڑوسی بھی ملا تو پاکستان جیسا جس نے پڑوسی ہونے کے بجائے صرف دلّالی کا کام کیا اور آج میں نیویارک میں ہوں۔ اپنے وطن، گھر، در ہر ایک سے دور۔ ظاہر شاہ سے داؤد اور داؤد سے نجیب تک ہمارا ملک روندا گیا، پیسا گیا اور ملکوں کی اس سیاست میں ہمارا سب کچھ ختم ہوگیا۔
مجھے پاکستان پر تنقید اچھی تو نہیں لگی مگرمیں نے اندازہ لگالیا کہ وہ دفتر خارجہ میں کام اچھا کرتی ہوگی۔
”آپ کی بہت سی باتیں درست ہیں، غریب عوام تو کہیں کے بھی ہوں خمیازہ انہیں ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے آپ کو تو پتہ ہی ہوگا۔ “ میں نے جواب دیا تھا۔
ہم نے بہت بھگتا ہے جب پاکستان کے پڑھائے ہوئے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو پہلی رات ہی میرے شوہر کو گولی ماردی گئی اور میرے دونوں بیٹے نہ جانے کہاں کھوگئے۔ آج تک ان کا پتہ نہیں چلا، نہ ان کی لاشیں دریافت ہوئیں۔ اگر زندہ ہیں تو پتہ نہیں کہاں ہیں اور اگر مرگئے ہیں تو ان بے نام قبروں میں دفن ہوگئے ہوں گے جن تک ہم کبھی بھی نہیں پہنچ سکیں گے، نہ کوئی فاتحہ درود اور نہ کوئی مزار کہ جہاں ہم فاتحہ پڑھ لیں۔ ”
ان کی کہانی میں میری دلچسپی بڑھ گئی تھی۔ دونوں بچّیاں صوفوں پر ہی سوگئی تھیں۔ میں ثریا سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا۔ میں نے سوال کیا ہی تھا کہ اس نے کہا ”ذرا ٹھہر جائیں ڈاکٹر صاحب میں انہیں ان کے بستروں پر سُلا کر آتی ہوں۔ اس نے بڑے پیار سے انہیں اُٹھایا اور انہیں ان کے کمروں میں سُلانے لے گئی۔
”ثریا کو ہم نے ملالے ہائی اسکول میں پڑھایا جس کے بعد کابل یونیورسٹی سے ثریا نے ڈگری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بہت سارے رشتے آئے ہوئے تھے اس کی شادی ہم لوگوں کی مرضی سے ہوئی، دفتر خارجہ میں رمضان صاحب میرے ساتھ ہی کام کرتے تھے، حمزہ شریف ان کا بیٹا تھا، اس نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری لی تھی اور اس وقت محکمہ معاشیات میں کام کررہا تھا مگر مجھے کیا پتا تھا کہ میری یہ بچّی اپنی اس بھری پُری جوانی میں ہی میری طرح سے بیوہ ہوجائے گی۔“ ثریا کی ماں نے کہا، ان کی آواز میں بلا کا درد تھا۔
ثریا بھی دوبارہ آکر بیٹھ گئی اور ساتھ ہی ایک گرم گرم قہوے کافنجان بھی بھرلائی تھی۔ جب طالبا ن کا قبضہ ہونے والا تھا تو ثریا کے شوہر نے ثریا اور بچّیوں کو مزار شریف بھیج دیا۔ ہم لوگوں کا بھی تعلق مزار شریف سے ہے۔ مزار شریف افغانستان کا ثقافتی شہر ہے، وہاں کا کلچر، آداب، روایات سب اپنے آپ میں بہت کچھ لیے ہوئے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ثریا کی ماں کے چہرے پر ایک طرح کا سُرخ رنگ پھیل گیا تھا۔ وہ مزار شریف کا ذکر اس طرح سے کررہی تھی جیسے کوئی اپنے بچھڑے ہوئے محبوب کا ذکر کرتا ہے۔
شہر کا نام مزارِ شریف کیوں ہے؟ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے، اس کے بارے میں ذرا بتائیں۔ میں نے بڑی دلچسپی سے پوچھا کیونکہ حقیقت میں افغانستان کا پڑوسی ہونے کے باوجود مجھے قندھار، ہرات، مزار شریف، جلال آباد کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں تھیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

