افغان لڑکی جو امریکہ میں محفوظ تھی


میں ہیوسٹن سے نیویارک جارہا تھا۔ ہیوسٹن میں، میں نے ماحولیات کے بارے میں ایک بڑی میٹنگ میں شرکت کی تھی۔ ماحول اور اس کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے بارے میں دنیا بھر سے ماہرین کو بلایا گیا تھا۔ تین دن تک ہم لوگوں نے اپنے اپنے مقالات کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں رہنے والے اربوں انسانوں نے دنیا کے، سمندروں، دریاؤں کو، پہاڑوں آبشاروں کو، جھیلوں جنگلوں کو، ندیوں نالوں کو اور یہاں تک کہ صحراؤں کو اپنی عادتوں، اپنے عمل سے گندہ کرکے رکھ دیا ہے۔

آلودگی بڑھتی جارہی ہے۔ دوسری جانب سورج اور ہمارے درمیان کثافت بھی بڑھ گئی ہے۔ وہاں سردی ہورہی ہے جہاں گرمی ہونی چاہیے، وہاں بارش ہورہی ہے جہاں مٹّی اُڑنی چاہیے، یہ تبدیلیاں فطری طور پر آہستہ آہستہ نہیں ہورہی ہیں بلکہ یکایک بڑی تیزی سے ہورہی ہیں اور اگر اسی طرح سے ہوتی رہیں تو فطرت کا جو حساب کتاب ہے، اس کا توازن بگڑ جائے گا بلکہ بگڑگیا ہے۔ اسے جتنی جلدی صحیح کیا جائے اُتنا ہی بہتر ہے۔ ماہرین تو صرف اپنی رائے دے سکتے تھے، ان آراء پر عمل کرانا تو حکومتوں اور سیاسی لوگوں کی ذمہ داری ہے اورکوئی بھی ذمہ داری پورا کرنے کوتیار نہیں تھا۔

کانفرنس کے بعد ہیوسٹن کے بڑے سے ہوائی اڈے سے ڈیلٹا ایئر کے ذریعے مجھے نیویارک کے لاگارڈیا ایئرپورٹ جانا تھا جہاں میرے لیے گاڑی کا انتظام تھا جو مجھے کسی ہوٹل لے جائے گی۔ دوسرے دن نیویارک میں ہی ایک اورمیٹنگ تھی جس کے بعد میں نے دو چار روز گھوم کر نیویارک سے ہی لندن ہوتے ہوئے کراچی واپس جانے کا پروگرام بنایا تھا۔

میں زندگی میں پہلی دفعہ جہاز کے فرسٹ کلاس میں بیٹھا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جتنی آرام دہ سیٹیں بنی ہوئی ہیں اور جس طرح سے خاطر مدارت ہورہی ہے ان آسائشوں میں سفر کرنے والے کے لیے ان کو چھوڑنا کتنا مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑا آدمی، بڑا سیاستدان اور بڑا بے ایمان ان آسائشوں کو قائم رکھنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا ہے۔ غریب سے امیر بن جانا تو ہر ایک کو قبول ہے پر امارت سے غربت ناقابل قبول ہوتی ہے۔ جب تک ٹھنڈے پانی سے نہاتا رہتا ہے تو انسان کو وہی اچھا لگتا ہے لیکن ایک بار ٹھنڈا اور گرم پانی ملا کر نہانے کے بعد صرف ٹھنڈا پانی ناقابل قبول ہوجاتا ہے۔ ٹھنڈے پانی والے حمام سے گرما گرم شاور اور باتھ ٹب کا فاصلہ تو آسانی سے طے ہوجاتا ہے لیکن واپسی کا راستہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔

میں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ لڑکی میرے برابر والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی، گوری چٹی سرخی مائل بال اور سلیقے سے پہنے ہوئے قیمتی امریکی کپڑے اور انداز میں بلا کی بُردباری تھی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ تیس پینتیس سال سے زیادہ عمر نہیں ہوگی اس کی۔

اس نے آتے ہی اپنے بیگ میں سے لیپ ٹاپ نکالا اور اس پر کوئی کام کرنے لگی۔ میں تھوڑی دیر سوچتا رہا، نیوز ویک، ٹائمز اور نیویارک کی ورق گردانی کرنے کے بعد اپنے بیگ سے دیوان غالب کا دستی ایڈیشن نکال کر پڑھنے لگا۔

مجھے لگا جیسے اس کی نظریں غالب کے دیوان پر تھم گئی ہیں، اس سے پہلے کہ میں اس کی طرف توجہ دیتا وہ خود ہی پوچھ بیٹھی کہ تم اُردو پڑھ رہے ہو، اس نے انگلش میں سوال کیا تھا۔

”او ہاں، میں پاکستان سے آیا ہوں ایک کانفرنس کے سلسلے میں۔ یہ ہمارا ایک بہت اچھا شاعر ہے اس کا مجموعہ پڑھ رہا ہوں۔“
”میں جانتی ہوں یہ غالب کا دیوان ہے، میں نے غالب کا فارسی کلام پڑھا ہے میں افغانی ہوں۔ فارسی اسپیکنگ افغانی۔“

”اوہ گریٹ مگر آپ افغانی لگتی نہیں ہو۔ بالکل امریکن سو فیصد امریکن اور آپ کی تو انگلش بھی بالکل امریکن جیسی ہے۔ میرا نام تیمور ہے میں اسلام آباد میں پڑھاتا ہوں۔“

”میرا نام ثریا ہے، ثریا نصیب۔ میں کابل سے آئی ہوں اور اب نیویارک ہی میں کام کرتی ہوں۔ رہا امریکن لگنے کا تو ابھی اگر کابل کے کپڑے پہن لوں تو بالکل افغانی لگوں گی۔ افغانستان میں پشتو اور فارسی بولنے والے سب ہی لوگ یورپین لوگوں کی طرح سُرخ وسفید ہیں، یہاں آکر ان کے کپڑے پہن لو تو یہ لوگ ہمیں بھی کاؤکیشین ہی سمجھتے ہیں۔“ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔ ”آپ کیسے آئے ہیں اسلام آباد سے؟ سرکاری دورے پر آئے ہوں گے؟“ اس نے سوال بھی کیا اور جواب بھی دیا۔

”سرکاری ہی سمجھیں۔ اقوام متحدہ نے ماحولیات اور اس کی آلودگی پر ایک میٹنگ بلائی تھی۔ بس اس میں شریک ہوکر اب نیویارک جارہا ہوں جس کے بعد پھر واپس پاکستان چلا جاؤں گا۔“ پھر اسے تفصیل سے میں نے بتایا کہ آلودگی کس طرح سے ماحول، فضا، ہوا اور پانی کو خراب کررہی ہے۔ اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو بہت جلد انسان خود اپنے ہاتھوں اپنا شکار ہوجائے گا۔ اس نے بڑی توجہ سے میری بات سنی، مجھے دیکھتی رہی پھر سوال کر بیٹھی، ”مگر کیا یہ مسئلہ حل ہوسکے گا؟“

”یہ میں نہیں کہہ سکتا ہوں۔ میرا یہ کام بھی نہیں ہے اور نہ ہی میں کوئی سیاستدان ہوں۔ لیکن یہ جانتا ہوں کہ اگر یہ مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو نسل انسانی کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔“ میں نے جواب دیا تھا۔

”نسل انسانی تو مسلسل اپنے آپ کو تباہ کرتی رہی ہے۔ یہ کون سی نئی بات ہوگی؟“ اس نے ذرا طنزیہ انداز میں کہا۔

”مجھ سے بہتر تم سمجھتی ہو۔ اس بات کو مگر ماحول کی بربادی نے چالیس ملین سالوں تک زمین پر حکمرانی کرنے والے عظیم الشان ڈائنوسار کی تمام نسلوں کو منٹوں گھنٹوں میں ختم کردیا تھا۔ ماحول کی بربادی تو اپنی ہی بربادی ہوتی ہے۔ انتہائی بے رحم اور سفاک۔ دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں، تمدن اور ثقافتیں جنگ و جدل اور قتل عام کے باوجود ختم نہیں ہوسکیں مگر ماحول کی خرابی، بیماریاں اور قدرتی آفات جو بربادی لائیں وہ مستقل بن گئیں۔ انسان کی آپس کی جنگوں میں انسان تو ہارگئے مگر تہذیبیں تمّدن چلتے رہے مگر ماحول کی بربادی نے سب کچھ برباد کردیا“ میں نے اس کے طنز کو نظرانداز کرتے ہوئے سادا سا جواب دیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں