مہک کی مہک


پہلی خاموش ملاقات، بے شمارسوالات، الجھے ہوئے خیالات اور اس کے سرد ہاتھ۔ خوف، ڈر، تکلّف، پریشانی، اُلجھن، سردی میں گرمی، باتوں کا ربط ! بے ربط گفتگو اور سوالات۔ اور پھر اگلے سٹاپ پر۔ ایک بس میں بیٹھ کر اپنے اپنے کالج تک کا خاموش سا سفر !

اس ملاقات کے بعد ملاقاتوں میں اضافہ ہوتاگیا۔ کبھی بس کا اکٹھے سفر، انتظار اور پھر اس انتظارکا انتظار۔ چلتا رہا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں، تذکرے، تبصرے اور مشورے چلتے رہے۔ تعلیم کے مراحل اور عشق کی منازل طے ہوتی رہیں۔ وہ میری ذات کے گرد گھومتی رہی۔ مجھے سمجھانے، سدھارنے، بنانے اور بہلانے میں لگی رہی۔ میں اس سے باتیں اور ملاقاتیں بھی کرتاتھا۔ مگر میرے اندر کا خوف اور بے دلی مجھے الجھائے ہوئے رکھتے تھے۔ میں جب اس کے ساتھ ہوتا تو، عجیب وغریب خیالات، توہمات، وسواس اور پریشانیاں میرے ہمراہ ہوتی تھیں۔

اس کے سوال وجواب اور احساسات وخیالات کا میرے پاس کوئی معقول جواب نہ تھا۔ اور نہ مجھے ان سب کا ادراک تھا۔ میں تو عورت ذات کو ایک صنفِ نازک کم اورشجر ممنوعہ زیادہ سمجھتا تھا۔ یہ میرے جدِامجد کی طرف سے نسل در نسل منتقل ہونے والا ڈر تھا یا یہ میرے اردگرد کا ماحول، اخلاقی اقدار، معاشرتی اطوارتھے یا ابّا جی کی ماراور امّی جی کی پھٹکارکاڈرتھا، مگر میں نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی وعدہ، کوئی قسم اور جھوٹا ”لارا“ نہیں لگانا چاہتا تھا۔ سو میں اس سے اور خودسے ڈرتارہتا تھا۔ ایک خوف میں، خوفزدہ رہتا تھا !

کبھی بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی دیکھی ہے آپ نے؟ ۔ ”وہ بولی“ میرے نفی میں گردن ہلانے پر وہ بولی، بارش کا پہلا قطرہ اس کے کنوارے جسم پر جب گرتاہے، تو وہ مَس ہوتے ہی اپنی ٹھنڈک کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے بعد قطرے اور جسم دونوں پر جو بیتتی ہے، یہ آپ کبھی بھی نہیں سمجھ سکیں گے۔ دہکتے جسم پر، بوسہ لینے والا ٹھنڈاقطرہ، بالکل اسی طرح دوبارہ آبی بخارات میں بدل جاتاہے، جس طرح گرم لوہے پر گرنے والے پانی کی چھینٹیں ”شوں“ کی ایک تیز آواز کے ساتھ، جل جاتی ہیں اور ہوا کے ساتھ، ہواہوجاتی ہیں، بلاتوقف۔

قطرے کا دوبارہ جل کر ہوا ہو جانا اور جسم میں پیدا ہونے والی کسک اور اینٹھن اور پھر بدن کا پگھل کر پارہ ہوجانا، آپ کبھی محسوس نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے بندے کا رومانٹک نہ سہی، حساس اور صاحبِ دل ہونا ضروری ہے۔ تم پتھرکے دور کے پتھرآدمی ہو۔ تمھیں ان نازک معاملات، خوبصورت محسوسات اور محبت کی عنایات کا ادراک کہاں۔

میں خود پر تنقیدبڑی بے دلی سے سننے اورحوصلے سے برداشت کرنے کے بعد بڑی مشکل سے ابھی قطرے اورجسم کے اس ملاپ اور اختلاط سے قبل، دوران اور مابعد کی کیفیات کے بارے میں زبردستی سوچنے کی کوشش کررہاتھا کہ اس نے کہا

”بارش کی یہ خودسر، آزادبوندیں، زلفوں میں الجھ کر، موتیوں کی طرح اٹک جاتی ہیں، کچھ پگھل جاتی ہیں اور کچھ اپنے احساسات پرقابو نہ رکھ سکنے کی بدولت گرتی، پڑتی، پھسلتی ہوئی، کبھی ماتھے، آنکھوں اور گالوں کے راستے سفرکرتی ہوئی، ہونٹوں پر، بیرونی کناروں کے ساتھ، چھوٹی چھوٹی لکیروں کو“ جپھا ”مارلیتی ہیں اور زندگی بھر اس بوس وکنار میں مبتلارہنے کی خواہش میں، اپنی زندگی ختم کرلیتی ہیں۔ “

مگرانسان کی طرح، کچھ پانی کے قطرے بھی سرشت کے کافرہوتے ہیں۔ سو اپنی بے چینی، بے سکونی اور اضطراب کے ہاتھوں مجبور، مچلتے رہتے ہیں، اوراپنا سفرجاری رکھتے ہیں۔ بلاتکلف اور بنا کسی رکاوٹ اور روک ٹوک، ان کا سرسے پاؤں کی طرف سفر، شاید کشش ِثقل کی وجہ سے کم اور چسکے کے لیے زیادہ ہوتاہے ! وہ دراصل نئی دنیادریافت کرنا چاہتے ہیں، وجودِ زن کے نئے رُخوں اور پہلوؤں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ نظاروں کے حیرت کدے میں گم ہونا چاہتے ہیں۔

اس لیے جان لینے، دیکھ لینے، چکھ لینے کی حسرت میں وہ پھسلتے پھسلتے، صراحی گردن کا سفر اور اس کی دائیں جانب کے تِل کو بچاتے ہوئے، سینے کے درمیان کی نالی میں سے، ایسے راستہ بناتے جاتے ہیں، جیسے ”دشوار“ پہاڑوں میں سے برساتی نالہ، بعض مقامات سے تنگ و تاریک اور بعض جگہوں سے روانی کے ساتھ گزرتاہے۔ مگرا س کی روانی میں رکاوٹ اور کوتاہی ہرگز نہیں ہوتی۔ یہ پانی کے قطرے، اپنی حرکت سے مسلسل ایک گہرا مگر پرلذت گھاؤ لگا تے ہوئے، پگھلتے جاتے ہیں، پھسلتے جاتے ہیں، جلتے جاتے ہیں۔ قطرے پر گوہرہونے تک کیا بیتتی ہے، یہ معلوم نہیں، مگرقطرے کی شرارتوں سے، اس لڑکی پر جو بیتتی ہے، جسم کوجسم میں ڈھلنے، پگھلنے، جلنے اور مچلنے کے اس عرصہ میں جو نشہ طاری ہوتاہے اس کا نعم البدل یقینا پوری کائنات میں نہیں !

بارش کے یہ معصوم قطرے کبھی جسم کی گولائیوں سے لِپٹتے ہیں، کبھی صراحیوں اور لمبائیوں سے برسرِ پیکار ہوتے ہیں۔ اس کی سدھ بدھ بھلادیتے ہیں۔ اس کے جسم پر لمبی لمبی خون آمیز لکیریں کھینچ کر، اس کو سودا میں مبتلا کرتے ہیں۔ اور وہ آنکھیں بند کرکے آسمان کی طرف دیکھتی ہے، بازوپھیلا کر پوری کائنات کو اپنے سینے میں چھپانے کی خواہش لیے دیوانہ وار اپنی ایڑیوں پر گھومتی ہے۔ جیسے 360 oڈگری گھومنے سے، وہ گول زمین کو اس کی تمام خوبصورتیوں سمیت، سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالے۔ سب کچھ اپنے اندر سمالے، جذب کرلے۔

اس کی ان تمام خود سے کہی ہوئی باتوں سے، مجھ پر اس قدر سردی میں، جسم اور قطرے کی گرمی، بارش کی بوندوں کی بے تکلفی، بنا روک ٹوک سفر کی داستان اور جسم کے مختلف زاویوں (Curves) کی ساخت اور شناخت واضح ہوگئی۔ زندگی میں پہلی بار ”پہاڑوں کا سینہ چیرنے اور سینے کے پہاڑوں میں سے راستہ بنانے والے پانی کے بے ضرر قطرے کی طاقت اورمنہ زور ہمت کا احساس ہوا۔

باتیں کرتے کرتے اس کی آواز جیسے کہیں دور سے آرہی ہو۔ اوراس کے لہجے میں ایک عجیب سا خمار بڑھتا جارہاتھا۔ اور آنکھوں میں ایک عجیب سا سرور تھاجیسے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کسی اور دنیا میں موجود ہو۔ مجھے ایسا لگ رہاتھا، جیسے وہ اس وقت، دور کہیں سرسبزو شاداب جنگلوں میں، کسی بہت بڑے درخت کے نیچے، اپنے سرخ وسفیدنازک پاؤں کے ساتھ، پنجوں کے بل بارش میں، سرسبز گھاس پر، مورنی کی مانند، اپنے پر پھیلا کر، رقص کررہی ہو۔ اپنے ہی محور پر گھوم رہی ہو۔ ا ور پوری کائنات اُس کے ساتھ رقص میں شامل ہوکر، وجد سے جھوم رہی ہو، چوم رہی ہو۔ جہاں درختوں کے پتوں سے ٹکراکر، بارش کے قطرے، اس کے بالوں کو چومنے کے بعد، اس کے پاؤں چھولینے کے لیے، بے تاب، تیزی سے زمین کی طرف سفرکنا ں ہوں۔

میں اس کو خوابوں کی دنیا سے واپس نہیں لانا چاہتاتھا۔ مگراس کے اصرار پر مجھے کہنا پڑا۔ ”زندگی میں کبھی موقع نہیں ملا اس سب کا۔ اور ہوسکتاہے، بے شمار دفعہ کبھی بس سٹاپ پر، کبھی گاڑی میں، گزرتے ہوئے، کئی لوگوں کو دیکھا ہو، مگرکچھ یاد نہیں۔ ٹھیک سے۔ کیونکہ زندگی کے جھمیلوں میں اُلجھ کر، اِدھر اُدھر دیکھنے کا اور سوچنے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا۔

وہ تُنک کربولی ”میں دیکھنے کی بات نہیں کررہی۔ محسوس کرنے کی بات کر رہی ہوں۔ بارش میں بھیگی لڑکی، اس کا جسم اور جسم کی خوشبو سے مہکنے والاسماں ! دیکھنے کو توہم روزانہ بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں، مگردراصل ان ہزاروں میں سے، چند ایک ہماری یادداشت میں کندہ ہوجاتے ہیں۔ ثبت ہوجاتے ہیں۔ زندہ رہ جاتے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے۔ ان کی آنکھیں، ناک نقشہ، کوئی بات، کوئی تکرار، سوال یا کوئی جواب، کوئی خوشبو اورجسم کی خاص مہک، ہمیشہ ہمیشہ تک، باقی رہ جاتی ہے، مستقل ! “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

لیاقت علی ملک

لیاقت علی ملک ۔۔۔ داروغہ ہے۔ خود ہی عدالت لگاتا ہے، خود ہی فیصلہ سناتا ہے اور معاف نہیں کرتا۔۔۔ بس ایک دبدھا ہے۔۔۔وہ سزا بھی خود ہی کاٹتا ہے ۔۔ ۔۔کیونکہ یہ عدالت۔۔۔ اس کے اپنے اندر ہر وقت لگی رہتی ہے۔۔۔۔

liaqat-ali-malik has 12 posts and counting.See all posts by liaqat-ali-malik