ایک غریب کی ہمیشہ کے لئے امیر کر دینے والی عید


بارہ سال پہلے کی بات ہے۔ پنڈی سے کوئٹہ آتے ہوئے رات کے دو بجے ٹرین روہڑی جنکشن پر رکی تھی۔ ہم لوگ چائے پینے نیچے اتر آئے تھے۔ ایک ٹی سٹال کے قریب ایک مفلوک الحال آدمی اپنے چھ سات سال کے بچے کے ساتھ کسی ٹرین کا انتظار کر رہا تھا۔ بیٹا باپ سے سرگوشیوں میں کچھ کہتا۔ مفلوک الحال باپ پہلے اسے دھتکارتا، پھر اسے پکڑ کر سینے لگاتا، ایک نگاہ ارد گرد دوڑاتا اور پھر آسمان کی طرف دیکھ کر جانے کیا بڑبڑاتا۔ دھتکارنے اور بھینچنے کا یہ عمل تین چار ہوا۔ مجھے ان کی زبان تو سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن اتنا اندازہ ہوا کہ وہ سندھی بول رہے تھے۔

انسان کبھی کبھی ویسے ہی اپنی الجھنوں سے چھٹکارا پانے کے لئے دوسروں کے مسائل میں خود کو الجھا لیتا ہے۔ میں اس کے قریب گیا تاکہ جان سکوں کہ مسلۂ کیا ہے؟ لیکن نہ مجھے اس کی کوئی بات سمجھ آئی اور نہ اسے میری۔ اتنے میں کھوکھے والا چائے لے کر آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس آدمی سے پوچھو کہ اس کو کیا مسلۂ ہے؟ یہ کیوں اپنے بیٹے کو بار بار دھتکار رہا ہے۔

جواب مختصر تھا۔ وہ کسی بھٹے میں مزدور تھا۔ عید پر گھر جا رہے تھے۔ جو مزدوری ملی وہ بیوی کے علاج پر لگ گئی۔ بیٹےکے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ عید پر اسے پینٹ شرٹ لے کر دے گا لیکن پیسے نہیں تھے۔

میں سٹوڈنٹ تھا۔ سال بعد گھر جاتا تھا۔ گھر والوں کے لئے کچھ تحائف ضرور لے کر جاتا لیکن چھ سال کے بچے کے لئے میرے پاس کچھ نہ تھا۔ میں اپنے ڈبے میں گیا اور یونیورسٹی کے باقی دوستوں سے درخواست کی کہ اگر کسی کے پاس چھ سال کے بچے کے لئے کوئی جوڑا ہو تو ایک غریب بچے کی عید ہو جائے گی۔ دوستوں نے سخاوت کا مظاہرہ کیا۔ ایک کے بیگ سے جینز شرٹ نکلی۔ دوسرے کے بیگ سے کرتا نکلا۔ تیسرے کے بیگ سے جوتے نکلے۔ ایک دوست نے اس غریب آدمی کے لئے اپنا نیا جوڑا نکال کر دیا۔ کچھ غیرت مجھے بھی آئی اور اس کی بیوی کے لئے ماں جی کے لئے لیا ہوا ایک جوڑا نکالا۔ ہم سب دوستوں نے یہ چیزیں مل کر اس آدمی کے حوالے کیں۔دوستوں نے کچھ رقم جوڑ کر اس کے حوالے کی۔

شاید بہت بار اس سے مفلوک الحال اور غریب لوگوں کو ہم نے نظر انداز کیا ہو گا۔ بہت بار پیشہ ور اور ٹھگ سمجھ کر دھتکارا بھی ہو گا۔ یہ بس ایک جذباتی سی کیفیت تھی۔ شاید ہم سے کسی نے بھی اس کو کوئی نیکی یا کوئی قربانی نہ سمجھا ہو۔ یونیورسٹی کےلڑکے ایک ٹرین میں گاتے ہنستے گھروں کو جا رہے تھے اور راستہ میں ایک غریب ملا تو اس کے بچے کی ایک خواہش پوری ہو گئی اور بس۔۔

داغستان کے ابو طالب نے کہا تھا کہ میں نے ٹالسٹائی جیسی ہیٹ تو خرید لی ہے مگر اس جیسا سر کہاں سے لاؤں۔ چاند راتیں بہت آئیں مگر اس جیسی چاند رات کہاں سےلاوں؟ ٹرین کی طرف واپس جاتے اس مفلوک الحال کی آنکھوں میں آنسووں نے بری طرح جکڑ لیا۔ ان آنسووں کو دیکھ کر جتنی خوشی ہوئی وہ کسی اور چاند رات کو نصیب نہ ہو سکی۔

یہ پیغام دینا، نیکی کی دعوت دینا، اچھے کی ترغیب دینا، نصیحت کرنا بڑے لوگوں کے کام ہیں۔ ہم تو بقول رسول حمزہ توف پتھر ہیں۔ اور وہ دن زیادہ دور نہیں جب ہم جڑ جائیں گے، کسی گرجے،زنداں یا باڑی کی دیوار میں۔

کہنا صرف یہ ہے کہ کبھی کسی کی چھوٹی سی آرزو، ایک آس ایک خوشی کی امید بن جائیں تو خوشی روح کی گہرائیوں میں اتر جائے گی۔ اپنی خوشی کے لئے آزما کر دیکھ لیجیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 184 posts and counting.See all posts by zafarullah

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments