منٹو پڑھنا منع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کہ منصف کے سامنے ایک ایسے انسان کا مقدمہ پیش کیا جانے والا تھا جو کہ کئی دہائیاں قبل وفات پا چکا تھا۔ مقدمے کا لبِ لباب یہ تھا کہ سعادت حسن منٹو نامی ایک مصنف طبی موت پاجانے کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا اور مسلسل معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔
ہرکارے نے آواز دی۔
سعادت حسن منٹوحاضر ہو۔

دنیا نے دیکھا کہ سادہ سا لباس پہنے، خدائی عذاب میں مسلسل مبتلا رہنے کے سبب مدقوق الحال منٹو، اپنی لاش گھسیٹتا ہوا کٹہرے تک پہنچا۔ ایک نظر زمینی خدا پر ڈالی اور پھر مجمعے کی جانب دیکھنے لگا۔

فرد ِ جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ سعادت حسن منٹو اپنی موت کے بعد بھی اپنی حرکتوں سے باز آنے پر راضی نہیں ہے، اس کی تحریریں مسلسل نوجوان نسل کو گناہوں پر آمادہ کررہی ہیں۔ گناہ بھی کون سا۔ راست باز معاشرے کی راستی پر سوال اٹھانے کا گناہ۔

منٹو کے وکیل نے آگے بڑھ کر صفائی دینا شروع کی۔ اور الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب ایسا بالکل نہیں ہے، میرا موکل بس وہی لکھتا ہے جو وہ معاشرے میں دیکھتا ہے۔ اس نے اپنے پاس سے کچھ بھی تحریر نہیں کیا بلکہ اپنے سماجی تجربات کو قلم زد کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

آبجیکشن می لارڈ۔ وکیل استغاثہ دھاڑا۔ اپنی چال ڈھال سے وکیل استغاثہ کوئی خدائی فوجدار نظر آتا تھا، سب کی توجہ اس پر مرکوز ہوگئی، جج بھی ہمہ تن گوش ہوا۔

وکیلِ استغاثہ نے کہنا شروع کیا۔ جج صاحب! بھولی سی صورت والا یہ شخص ایک انتہائی گھناؤنا مجرم ہے اور میرے فاضل دوست جو کہ یہ کہہ رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ صرف معاشرے کا چہرہ دکھاتا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ اس معزز معاشرے کی توہین کررہے ہیں بلکہ معاشرے کا حصہ ہونے کے سبب یہ آپ کی بھی توہین کررہے ہیں، یہ توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں می لارڈ۔

استغاثہ کے وکیل نے گہری سانس لی۔ اور پھر بولنا شروع ہوا۔
آپ خود ہی بتائیں جج صاحب! ۔ کیا آپ ٹھنڈے گوشت کے شوقین ہیں، کیا آپ نے کبھی کالی شلوار میں دلچسپی لی، کیا آپ نے کبھی بازاری عورتوں کو معزز سمجھنے کی گستاخی کی، اور آپ تو آپ کیا خود میرے فاضل دوست یہ سب کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ نہیں! ہرگز نہیں۔

جج کی تیوریاں چڑھ گئیں۔ وکیل صفائی سے کہا کہ مزید دلائل دیں۔

وکیلِ صفائی نے بولنا شروع کیا۔ جناب میرے موکل پر ماضی میں بھی ایسے ہی الزامات لگتے رہے ہیں، تین بار برطانوی راج میں اور تین بار تقسیم کے بعد، لیکن کبھی ان الزامات میں سزا نہیں سنائی گئی۔

برطانوی دور کے ججز کے فیصلوں کی ذمہ دار یہ عدالت نہیں، اور تب ملک میں عوامی آئین نہیں تھا، جبھی یہ قانون کے شکنجے سے بچ گئے، لیکن ایسا بار بار نہیں ہوگا۔ اب ملک میں ایک عوامی حکومت، آئین اور با اختیار عدلیہ ہے، اب فیصلہ ثبوتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

وکیل استغاثہ اپنے دلائل دیں۔ منصف نے حکم دیا۔
وکیل ِ استغاثہ نے بولنا شروع کیا۔ جج صاحب! ملزم کی حرکتیں تو دیکھیں، ساری زندگی معاشرے میں غلاظت گھولنے کے بعد اپنی قبر کے کتبے پر لکھواتا ہے کہ اس کا نام ’لوحِ جہاں پر حرفِ مکرر نہیں تھا‘ ۔

منٹو نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ لکھوانا تو میں کچھ اور چاہتا تھا لیکن اس کے بعد آپ نے میری قبر بھی اکھاڑ پھینکنی تھی، خیر وہی بات میں نے ذرا منفرد پیرائے میں کردی، بالکل اپنے افسانوں کی طرح۔

خاموش رہو۔ تم ملزم ہو۔ منصف کی آواز گونجی۔

استغاثہ کے وکیل نے پھر بولنا شروع کیا۔ اس کی ہمت تو دیکھیں، یہ کبھی فرشتوں کو گنجا کہتا ہے تو کبھی خواتین کی شلوارویں ٹٹولتا ہے اور جب اس کے قلم کی جرات حد سے بڑھ جاتی ہے تو یہ ٹھنڈا گوشت لکھ بیٹھتا ہے۔ اور تو اور جج صاحب اس نے تو قانون کو بھی منگو کوچوان کے ساتھ نتھی کردیا ہے۔ اس کے یہاں عورتیں شکاری ہوتی ہیں اورمرد شکار۔ اب آپ ہی بتائیے اگر اس کے افسانے پڑھ کر عورتیں خود شکار پر نکل پڑیں تو پھر ہم کیا کریں گے؟ میں اس عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ ملزم کو اس کی حرکتوں پر سخت سے سخت سزا دی جائے۔

کیا تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہوگے۔ یاد رکھو کہ یہ آخری موقع ہے۔ جج نے منٹو سے کہا۔

انصاف کے کٹہرے میں کھڑے منٹو نے ایک نظر مجمع پر اور دوسری منصف پر ڈالی اور کہنا شروع کیا۔
جج صاحب! ”قانون بنانے والے جاہل نہیں ہو سکتے، لیکن سمجھ میں نہیں آتا قوانین میں اکثر مضحکہ خیز خامیاں کیوں رہ جاتی ہیں۔ لوگ مجھے سیاہ قلم کہتے ہیں، میں تختہ سیاہ پر کالی چاک سے نہیں لکھتا، سفید چاک استعمال کرتا ہوں کہ تختہ سیاہ کی سیاہی اور بھی زیادہ نمایاں ہو جائے“ ۔ لوگ کہتے ہیں کہ میرے لکھنے سے مذہب خطرے میں پڑجاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ”مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُ لّو سیدھا کرنے کے لیے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں“ ۔

مجمع دم سادھے سن رہا تھا۔ جج کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھی۔

منٹو نے پھر بولنا شروع کیا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ”یہ نئی چیزوں کا زمانہ ہے۔ نئے جوتے، نئی ٹھوکریں، نئے قانون، نئے جرائم، نئی گھڑیاں، نئی بے وقتیاں، نئے آقا، نئے غلام اور لطف یہ ہے کہ نئے غلاموں کی کھال بھی نئی ہے جو ادھڑ ادھڑ کر جدت پسند ہو گئی ہے۔ اب ان کے لئے نئے کوڑے اور نئے چابک تیار ہو رہے ہیں۔ آج کا ادیب ایک غیر مطمئن انسان ہے۔ اپنے ماحول، اپنے نظام، اپنی معاشرت، اپنے ادب، حتیٰ کہ اپنے آپ سے بھی“ ۔

منٹو نے گہری سانس لی اور پھر کہنا شروع کیا۔ آپ خود ہی بتائیں کہ ”میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔ میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا، اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا ہے۔ ہماری تحریریں آپ کو کڑوی اور کسیلی لگتی ہیں، مگر اب تک مٹھاسیں آپ کو پیش کی جاتی رہی ہیں۔ ان سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ہے۔ نیم کے پتے کڑوے سہی، مگر خون ضرور صاف کرتے ہیں، جب تک انسانوں میں اور خاص طور پر سعادت حسن منٹو میں کمزوریاں موجود ہیں، وہ خوردبین سے دیکھ دیکھ کر باہر نکلتا اور دوسروں کو دکھاتا رہے گا“ ۔ ​

منٹو خاموش ہوا تو کمرہ عدالت میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔ عدالت کا ماحول دیکھ کر منصف چلایا۔ آرڈر! آرڈر! ۔

”تمام ثبوت اور خود منٹو کی تقریر یہ بتاتی ہے کہ یہ شخص صرف فحش نہیں بلکہ خطرناک حد تک گمراہ بھی ہے اور معاشرے میں اس کی کسی بھی صورت موجودگی، ہمارے پاک باز معاشرے کے لیے انتہائی مضر ہے، میں حکم دیتا ہوں کہ اس شخص کو اس کی تحریروں سمیت جلا کرراکھ کردیا جائے اور پابندی عائد کردی جائے کہ آئندہ کوئی شخص اس ملک میں سعادت حسن منٹو کا نام بھی نہیں لے گا، بصورت دیگر قانونی کارروائی کا مرتکب ہوگا۔ ۔ عدالت برخواست کی جاتی ہے“ ۔

منٹو نے فاتحانہ نظر منصف پر ڈالی اور گویا ہوا کہ ”یہ لوگ جو اپنے گھروں کا نظام درست نہیں کر سکتے، یہ لوگ جن کا کیریکٹر بے حد پست ہوتا ہے، سیاست کے میدان میں اپنے وطن کا نظام ٹھیک کرنے اور لوگوں کو اخلاقیات کا سبق دینے کے لئے نکلتے ہیں۔ کس قدر مضحکہ خیز چیز ہے! میں اس آدمی سے ہر گز ہر گز اپنا سر پھڑوانے کے لئے تیار نہیں جسے سر پھوڑنے کا سلیقہ ہی نہ آتا ہو، اگر آپ کو یہ سلیقہ نہیں آتا تو سیکھیے! دنیا میں رہ کر جہاں آپ نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا اور محفلوں میں جانا سیکھتے ہیں، وہاں پتھر مارنے کا ڈھنگ بھی آپ کو سیکھنا چاہیے“ ۔
عدالت خاموش ہوچکی تھی۔ منٹو کا کہا ہوا فضاؤں میں گونج رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •