والدین کو مار کر بچے بازیاب کروانے والی سی ٹی ڈی


ویک اینڈ ہے اور بچے خوش ہیں۔ گاؤں میں ان کے چچا کی شادی ہے۔ آپ کی اہلیہ نے آپ کی تین اور پانچ سال کی بچیوں کو ایسی محبت سے تیار کیا ہے کہ ان کے معصوم چہروں پر نظر نہیں ٹکتی۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والا آپ کا بیٹا ہیرو لگ رہا ہے۔ تیرہ برس کی بیٹی خود ہی سج سنور گئی ہے۔ وہ اب بڑی ہو رہی ہے خود تیار ہونے کی شوقین ہے۔ اس شادی کی تیاری وہ تین مہینے سے کر رہی تھی اور میچنگ کپڑے اور زیور تیار میں مصروف تھی۔ آپ نے گاڑی نکالی اور لاہور سے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں اچانک پولیس کی ایک پک اپ قریب پہنچی اور آپ کی گاڑی پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ گاڑی میں ننھے بچوں کے خوفزدہ چہرے ان کو تک رہے ہیں۔ آپ نے گھبرا کر گاڑی روکی اور منتیں کرتے رہے کہ ہماری تلاشی لے لو، ہم سے پیسے لے لو، ہمیں مت مارو۔

فائرنگ ہوتی ہے۔ سامنے ونڈ شیلڈ سے سیدھی گولیاں آتی ہیں۔ مرنے سے پہلے آپ یہ دیکھتے ہیں کہ برسوں کی رفیق آپ کی اہلیہ مر چکی ہے۔ آپ کے چھوٹے سے بیٹے کے گولی لگ چکی ہے اور بیٹی کا ہاتھ بھی زخمی ہے۔ آپ دم توڑ دیتے ہیں اور آپ کے یہ ننھے بچے ساری عمر کے لئے احساس محرومی لئے دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہ کبھی سکون کی نیند نہیں سو پائیں گے۔ ان کی آنکھیں چاہے کھلی ہوں یا بند، ان کے سامنے یہ قیامت کی گھڑی موت تک زندہ رہے گی۔ ساہیوال میں یہی ہوا ہے۔ یہ آپ کے یا میرے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہماری قسمت اچھِی اور خلیل کی قسمت بری تھی کہ یہ تباہی اس کے خاندان پر ٹوٹی۔ لیکن کیا ہم ہمیشہ خوش قسمت رہیں گے یا اگلی باری ہماری اور ہمارے بچوں کی ہے؟

اس کے بعد سی ٹی ڈی کے مضحکہ خیز اور پل پل بدلتے موقف دیکھیے۔ پہلے دعوی کیا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بچوں کو اغوا کر کے لے جا رہے تھے۔ بچوں کو بازیاب کروا لیا گیا۔ بازیاب ایسے کروایا گیا کہ پہلے ان پر سیدھی فائرنگ کی گئی۔ پھر ان کو ایک پیٹرول پمپ پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دیر بعد فائرنگ کرنے والوں کو کچھ ہوش آیا تو واپس آ کر بچوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

پھر ترجمان پولیس کا موقف آتا ہے کہ نہیں یہ اغوا کار نہیں بلکہ انتہائی مطلوب دہشت گرد تھے۔ یہ پنجاب میں داعش کے سب سے خطرناک دہشت گردوں میں شامل تھے اور یہی دہشت گرد امریکی شہری وارن وائن اسٹائن اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغوا میں بھی ملوث تھے۔ ان کی گاڑی اور ایک موٹر سائیکل کو روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق فائرنگ سے دو خواتین سمیت 4 افراد ہلاک جبکہ 3 دہشت گرد فرار ہوگئے۔ داعش کے ان خطرناک ترین دہشت گردوں میں دوسری خاتون ایک تیرہ برس کی بچی تھی۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ جائے وقوع سے خودکش جیکٹس، دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

سی ٹی ڈی کی بدقسمتی کہ بچہ، عمیر خلیل، ہوش میں رہا۔ اس نے بیان دے دیا کہ یہ اغوا کار نہیں اس کے والدین تھے۔ اس نے بتا دیا کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی پک اپ آئی اور اس نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ خلیل نے منتیں کیں کہ ہماری تلاشی لے کر دیکھ لو، پیسے چاہئیں تو وہ لے لو، ہمیں زندہ رہنے دو۔ سی ٹی ڈی کو مارنے میں دلچسپی تھی۔

بچے کی بات پر اعتبار نہ بھی کریں تو عینی شاہد موجود ہیں جن کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا نشانہ بنانے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی، جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر اس گاڑی میں پاکستان کا مطلوب ترین دہشت گرد، تحریک طالبان کا سربراہ بھی جا رہا ہوتا تو کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے ارد گرد موجود ننھے بچوں کی وجہ سے اس پر فائرنگ کرنے کا حق رکھتے تھے؟ کیا ان بچوں کی جان کا تحفظ ان کی پہلی ذمہ داری نہیں تھی؟ یا پھر تین برس کی ننھی بچی بھی ایسی خوفناک دہشت گرد ہے کہ اسے دیکھتے ہی گولی مارنی لازم ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق محلے دار اس خاندان کی شرافت کی گواہی دے رہے ہیں۔ وہ احتجاج کرتے ہوئے لاہور کی سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ذیشان نامی ایک محلے دار کو بطور ڈرائیور لے کر جا رہے تھے جو ایک معمولی سی کریانے کی دکان چلاتا تھا اور اپنی گاڑی میں کرائے پر اپنے جاننے والوں کو ضرورت پڑنے پر ادھر ادھر لے جاتا تھا۔ سی ٹی ڈی کا ترجمان اسے داعش کا سربراہ قرار دے رہا ہے۔

پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کہہ رہے ہیں کہ مرنے والوں کا تعلق دہشتگرد تنظیم سے تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے دہشتگردوں نے انسانی ڈھال استعمال کی۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے ساہیوال واقعے کے بارے میں سوال پر سوال کیا گیا، مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کیا یہ ہماری سیاسی قیادت ہے؟ کیا ان کو یہ علم نہیں ہے کہ ان کی ذمہ داری عوام کے احساسات اور خواہشات کو زبان دینا ہے؟ شکر ہے کہ وزیراعظم نے آئی جی پنجاب سے اس کی رپورٹ طلب کی ہے۔ مگر یہ وہی رپورٹ ہوئی جو پنجاب اور وفاق کے وزیر اطلاعات کو ملی تو پھر ان کو بھی یہ تین برس کی معصوم بچی دہشت گرد دکھائی دینے لگے گی۔

تحقیقات کریں۔ یہ ظلم کرنے والوں میں سے جو قصور وار ثابت ہوں، ان کے خلاف مقدمہ ویسے ہی تیز رفتاری سے چلایا جائے جس تیزی سے قصور کی زینب کے قاتل کے خلاف چلایا گیا تھا اور جلد از جلد سزا دی جائے۔ اور جو افسران اس وقت مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے اپنے ظالم اہلکاروں کے ساتھ کھڑے انہیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے، ان کا بھی کچھ کیا جائے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے، بچوں کی موجودگی میں اگر خطرناک ترین دہشت گرد بھی ہوتا تو اس گاڑی پر گولی چلانا غلط تھا۔ یہ فیصلہ کس نے کیا؟ یہ پالیسی کس نے بنائی؟

اب پنجاب پولیس کو کچھ احساس ہوا ہے کہ اس کا موقف اتنا احمقانہ ہے کہ عوام اسے قبول کرنے کو تیار نہیں اور وہ شدید غصے میں ہیں، تو ساہیوال واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی جس کی سربراہی ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کریں گے۔ بہرحال کمیٹی رپورٹ بناتی رہے۔ مقتول خلیل کی والدہ صدمے سے فوت ہو چکی ہیں۔ اور عام شہری سہمے بیٹھے ہیں کہ وہ دہشت گردی والوں سے اپنی جان بچائیں یا انسداد دہشت گردی والوں سے۔

سی ٹی ڈی نے ننھے بچوں سے بھری گاڑی پر فائرنگ کر کے والدین مار دیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1075 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar