طبی طور پر بچے پیدا کرنے کے ناقابل شخص تین بچوں کا باپ کیسے بنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر میسن اپنی نئی اہلیہ کے ہمراہ

یہ کہانی برطانیہ میں رہنے والے ایک ایسے شخص کی ہے جو ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ تین بچوں کے والد ہیں۔ ان کے تین بچوں میں جڑواں بیٹوں کی عمر 19 سال ہے جبکہ بڑے بیٹے کی عمر 23 ہے۔

لیکن سنہ 2016 میں ہونے والی ایک طبی جانچ کے دوران انھیں پتہ چلا کہ انھیں ایک ایسا مرض لاحق ہے جس کے سبب وہ کبھی باپ نہیں بن سکتے۔

یہ بات اپنے آپ میں عجیب لگ سکتی ہے۔

سنہ 2016 میں جب رچرڈ میسن کو اپنی اس بیماری کا علم ہوا تو حیرت و استعجاب کی انتہا نہ رہی۔

اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹروں سے ایک بار پھر سے طبی جانچ کی گزارش کی۔

اس ٹیسٹ کے نتائج نے رچرڈ کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ انھوں نے اپنی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جس کے بعد ان کی اہلیہ کو اپنے شوہر کے ساتھ فریب کرنے پر اڑھائی لاکھ پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنے کے لیے کہا گیا تاہم انھیں اپنے بچوں کے اصل والد کی شناخت پوشیدہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے۔

لیکن یہ سب ان کے لیے کس قدر تکلیف دہ تھا یہ ان کی زبانی ہی پڑھیے:

پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی

جب میں نے اپنی طبی جانچ کی رپورٹ پڑھی تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

ایسے افراد جو ‘سسٹک فریبوسس’ نامی بیماری کا شکار ہوتے ہیں وہ باپ نہیں بن سکتے۔

جب میں نے یہ سنا تو میرے منھ سے یہی نکلا ‘یا خدا میں تو تین بچوں کا باپ ہوں، آپ کی جانچ میں ضرور کوئی گڑبڑی ہوئی ہے۔’

جواب میں، ڈاکٹر نے کہا کہ ‘ہماری جانچ بالکل درست اور آپ اس بیماری کے شکار ہیں۔’

بیوی کا سامنا

اگر مختصر الفاظ میں کہیں تو مجھے اس کے بعد اپنی اہلیہ سے بات کرنی تھی۔ ایک طویل عرصے تک ڈاکٹروں کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے۔ اس انکشاف نے مجھے بہت صدمہ پہنچایا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر ہوا کیا اور میں نے کیا کیا۔۔۔’

میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ آخر میرے ان تینوں بچوں کا والد کون ہے۔ ایسی کسی چیز کا سامنا ہونے کے بعد آپ کو کسی چیز پر بھروسہ نہیں رہتا۔ لیکن میرا ذہن صرف ایک ہی بات پر غور کر رہا تھا اور میں یہی جاننا چاہتا تھا کہ آخر میرے بچوں کا حقیقی باپ کون ہے۔ میں اس شخص سے ملنا چاہتا تھا۔ ہر طرح کے خیالات دل میں آ رہے تھے۔ ذہن وسوسوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہیں میرا کوئی دوست یا بہت ہی قریبی کوئی شخص تو میرے بچوں کا حقیقی والد نہیں۔

چند الجھے ہوئے سوالات

میں جاننا چاہتا تھا کہ جب میں اپنے بچوں کو فٹبال یا رگبی کھیلتے ہوئے دیکھتا تھا تو کیا وہ شخص بھی وہاں موجود ہوتا تھا۔ کیا وہ شخص کبھی میرے بچوں کی پیرنٹس-ٹیچر میٹنگ میں موجود ہوتا تھا؟ میں واقعی نہیں جانتا کہ وہ شخص کون ہے۔

آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ اگر آپ پر اس قسم کا کوئی اسرار کھلے تو آپ کی زندگی اس سے کس قدر متاثر ہوگی۔ یہ قدرتی امر ہے کہ ہر شخص اس طرح کی معلومات چاہے گا۔ ایک نہ ایک دن میرے بچے یہ جاننا چاہیں گے کہ ان کا حقیقی والد کون ہے تو میں کیا بتاؤں گا۔

بی بی سی نے ان کی اہلیہ سے اس کے متعلق بات کرنی چاہی لیکن ابھی تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10302 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp