ڈال سے ٹوٹے ہوئے پتے


شاہد مجھے پہچانا میں ہوں یار عارف! تیرا پنٹر، تیرا کلاس فیلو۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑلیا تھا۔

گاڑیوں کی تیز روشی میں مجھے اس کی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک سی محسوس ہوئی۔ وہ غور سے میرے چہرے کو تکنے لگا۔ وہ بدل گیا تھا، پر میں اتنا نہیں بدلا تھا کہ مجھے پہچاننے میں کوئی مشکل ہوتی۔

عارف ارے یار یہ تو ہے۔ ہا ہا ہا ہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے زور سے قہقہہ لگایا تھا۔ ابے تو چل نا پھر کھانا تو کھلا۔ مجھے بہت بھوکا ہوں یار۔

نہ جانے کیوں میری آنکھوں میں آنسو سے آگئے تھے، اتنے سالوں کے بعد ملا اور ملا بھی تو اس طرح سے ملا تھا۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پی سی کے بڑے گیٹ کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔ سڑک پار کر کے ہوٹل کی سیکیورٹی کے کیبن میں میں نے اسے غور سے دیکھا۔ دروازے پر موجود چوکیدار نے اسے روکنے کے لیے ہاتھ اُٹھایا تو میں نے کہا تھا کہ یہ میرے ساتھ ہیں۔ اس کے چہرے پر بے یقینی اور آنکھوں میں حیرت اُتر آئی تھی۔ اس کا حلیہ بہت خراب تھا۔ مجھے لگا جیسے اس نے کئی دنوں سے نہایا نہیں ہے۔ پیشانی کے پاس ایک زخم کا بھی نشان تھا مگر آنکھوں میں وہی ذہانت، وہی چمکتی بے چینی، وہی لفنگا پن اور انداز وہی تھا بے باک اور بیہودہ، وہ ویسا ہی تھا جیسے کالج میں تھا۔

ہوٹل میں داخل ہوکر میں اسے مارکوپولو ریسٹورانٹ میں بالکل آخری کونے پر لگی ہوئی ٹیبل پر لے گیا۔ مجھے یاد آگیا کہ پہلی دفعہ پرل کانٹی نینٹل جو پہلے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل کہلاتا تھا میں شاہد ہی مجھے لے کر آیا تھا۔

شاہد کو میڈیکل کے کالج کے تیسرے سال میں پاس ہونے پر اس کے بابا نے موٹرسائیکل ہنڈا ایک سو پچھتر لے کر دیا تھا۔ جسے وہ کالج لے کر آیا تھا۔ کالج کینٹین میں سب کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کی پھر سب وارڈوں میں چلے گئے تھے۔ وارڈ سے واپسی پر کلاس کے فوراً بعد اس نے مجھے اپنی ہنڈا پر بٹھایا، پھر زناٹے سے دوڑاتا ہُوا انٹر کانٹی نینٹل لے آیا تھا۔

اس ہنڈے کی ٹریٹ کھاؤ۔ اسی کانٹی نینٹل کے اسی مارکوپولو میں، میں نے زندگی میں پہلی دفعہ پانچ ستاروں والے ہوٹل کے سینڈوچ اور پیٹیز کھائے اور کافی پی تھی جس کا مزا کئی دنوں تک میرے منہ میں رہا تھا۔

آج اسی کانٹی نینٹل ہوٹل میں کئی سالوں کے بعد وہ ایک فقیر کی طرح میرے ساتھ آیا تھا۔ مارکوپولو کے بیروں نے اسے حیرت سے دیکھا مگر اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیکھ کر وہ خاموش ہوگئے تھے۔ ٹیبل پر بیٹھ کر میں نے پوچھا کہ کیا کھائے گا یار، وہی بریانی منگواؤں جس کا تو دیوانہ تھا۔ مجھے یاد تھا کہ ہر تھوڑے دنوں کے بعد برنس روڈ میں بریانی کی دکانوں میں جا کر ہم لوگ بریانی کھاتے تھے۔ بریانی کا نام سن کر اس کے چہرے پر لکھی ہوئی بھوک اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔

میں نے اس کے لیے بریانی کی ایک پلیٹ، چکن تکہ اور کباب منگائے تھے۔ وہ مجھے غور سے دیکھ رہا تھا اور بے چینی سے کھانے کا انتظار کررہا تھا۔ اس کے سوکھے ہوئے ہونٹ دیکھ کر میں نے پیپسی کولا منگوایا۔ وہ کوک کے مقابلے میں ہمیشہ پیپسی پیتا تھا۔

اس نے ایک ہی جھٹکے میں آدھا گلاس خالی کردیا۔ پھر میری طرف دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہی پرانی شریر مسکراہٹ جس کے بعد وہ کوئی ایسی بات بولتا تھا کہ دوست پریشان ہوجاتے تھے۔ یہ اس کے ریکارڈ لگانے کا طریقہ تھا۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے کہا۔ ابے ساجدہ سے شادی نہیں ہوئی تیری۔ پھر زور سے ہنسا تھا، ہا ہا ہا ہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے اس بہت پرانے تعلق کو جس کا چند ہی لوگوں کو پتہ تھا جس میں سے ایک وہ بھی تھا کے بارے میں وہ اس طرح سے بولنا شروع کردے گا۔

ابے وہ تیرے لیے تھی ہی نہیں، کہاں تو کہاں وہ، مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آیا کہ تو اس کے پیچھے پڑا ہی کیوں تھا۔ ابے تھا کیا اس میں۔ پاگل تھی، ضدی تھی اور سب سے زیادہ یہ کہ سر پھری تھی بالکل۔ پھر ہ جانے وہ بڑبڑاہٹ میں کیا کچھ کہہ گیا تھا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔ یکایک وہ خاموش ہوگیا پھر زور سے بولا۔ اچھا ہُوا مرگئی۔ میں نے ہی سوچا تھا کہ اس کا مرجانا ہی اچھا ہے۔ ابے خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔ ہے کہ نہیں۔ ابے تجھ کو خدا تکلیف میں کیسے دیکھتا۔ یہ کہہ کر وہ پھر ہنس دیا تھا۔

اسی وقت کھانا آگیا۔ جیسے ہی بیرے نے کھانا ٹیبل پر رکھا اس نے چکن تکے کی پلیٹ میں سے ایک تکہ اٹھا کر کھانا شروع کردیا تھا۔ بیرے نے میری طرف دیکھا اور میرے آنکھوں کے اشارے کو سمجھتے ہوئے جلدی جلدی کھانا لگانے لگا تھا۔

میرے دل میں اتنی شدید تکلیف ہوئی تھی کہ میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ہوں۔ میرا دوست، میرا ساتھی، میرا پرانا یار نارمل نہیں تھا۔ بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے جنہیں میں نے بڑی مشکل سے روکا تھا۔

وہ پوری توجہ سے کھانا کھا رہا تھا اور اس طرح سے کھا رہا تھا جیسے جنم جنم کا بھوکا ہو۔ میں نے اشارے سے ویٹر کو بلایا اورکہا کہ وہ اسے دیکھتا رہے میں ایک فون کرکے آتا ہوں۔ شاہد سے بھی میں نے یہی کہا تھا کہ وہ تسلی سے کھانا کھائے میں پانچ منٹ میں واپس آتا ہوں۔ مجھے لگا کہ اس نے میری بات کو سمجھے بغیر ہی اپنی رضامندی ظاہر کردی تھی۔

میں ہوٹل کے استقبالیہ پر آیا جہاں سے میں نے ویرینکا کو کمرے میں فون کر کے بتایا کہ میں واپس آ گیا ہوں لیکن نیچے ہوں اور تھوڑی دیر میں آکر تفصیل بتاتا ہوں کہ کیا کررہا ہوں۔ پھر میں نے استقبالیہ سے پتہ کیا کہ اگر میرے کمرے کے ساتھ ہی یا اسی منزل پر کوئی کمرہ خالی ہے تو مجھے دے دیں۔ اتفاق سے میرے کمرے سے دو کمرے چھوڑ کر مجھے ایک کمرہ مل گیا تھا جو میں نے فوراً ہی لے لیا۔ پھر میں نے حبیب کو فون کیا جو میرا کلاس فیلو تھا، کراچی میں ہی پی ای سی ایچ ایس کے علاقے میں جنرل پریکٹشنر تھا۔

کالج میں ہم تینوں اکٹھے رہے تھے۔ اسے یقین ہی نہیں آیا کہ میں پرانے شاہد کے بارے میں بات کررہا ہوں۔ اسے میں نے بتایا کہ میں نے اس کے لیے فی الحال ایک کمرہ لے لیا ہے۔ کم از کم آج کی رات تو وہ اچھے سے سوئے گا۔ دوسرے دن شام کو میری واپسی کی فلائٹ تھی اور میں اس کے لیے اتنے کم وقت میں کچھ کرنا چاہتا تھا۔ حبیب نے بتایا کہ وہ بارہ بجے تک آ سکے گا۔ پھر سوچیں گے کہ کیا کرنا چاہیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4