ڈال سے ٹوٹے ہوئے پتے


میں واپس ٹیبل پر آیا تو وہ کافی کچھ کھاچکا تھا۔ میں نے بیرے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ونیلا آئسکریم لانے کو کہا تھا۔ مجھے یاد تھا کہ وہ ہمیشہ ونیلا آئسکریم کھاتا تھا، اس کی پسندیدہ ترین آئسکریم تھی۔ وہ آئسکریم دیکھ کر مسکرایا اور دوبارہ سے آئسکریم پر ٹوٹ پڑا تھا۔

میں اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ تیس پینتیس سال پہلے میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شاہد اس طرح سے کھوجائے گا۔ اتنا ذہین آدمی اور اس کا یہ انجام۔ ذہنی بیماری بھی کیا بیماری ہوتی ہے، آدمی کو سرطان ہو جائے تو بہتر ہے، تکلیفیں اٹھانے کے بعد انسان مر جاتا ہے مگر مسلسل تکلیف کے عمل سے تو نہیں گزرتا ہے۔ ایک ایسی تکلیف جس کا مریض کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا مگر اس کے دوست احباب رشتہ دار مسلسل تکلیف میں ہوتے ہیں۔

شاہد کا تعلق پڑھے لکھے خوشحال گھرانے سے تھا۔ اچھے اسکول کا پڑھا ہوا، ڈی جے سائنس کالج سے انٹر میں شاہد آٹھویں نویں نمبر پر تھا جس کی وجہ سے فوراً ہی اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں ہو گیا تھا۔ میں نے اور حبیب نے نیشنل کالج سے انٹر کیا۔ میرٹ لسٹ میں ہمارا نام تقریباً آخر میں تھا لیکن نہ جانے کیوں کالج میں دوسرے تیسرے ہفتے ہی میں شاہد سے دوستی ہو گئی تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس کی بے ساختہ شرارتوں نے ہمیں اس کی طرف متوجہ کرلیا تھا۔

دوسری وجہ اس کی ذہانت تھی جس کا اندازہ اس وقت ہُوا جب ہم ایک ہی گروپ میں اور ہم نے پہلی دفعہ مردہ جسم کا چیرپھاڑ کرنا شروع کیا۔ شاہد کو جسم کے ایک ایک حصے کے مختلف اعضا کے نام ازبر تھے۔ اسے تو ہم سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا ہوگا مگر ہمیں اس کی دوستی کا بہت فائدہ ہُوا پھر ہماری دوستی بڑھتی ہی چلی گئی تھی۔

میں اسے تک رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس نے مجھے بڑی گندی سی گالی دے کر مخاطب کیا تھا۔ حرامی کے بچے، کتے کے پلے تیری وجہ سے میں برباد ہوگیا، تیری وجہ سے صرف تیری وجہ سے۔ تجھے اورتمہارے جیسوں کو پڑھایا میں نے اور تم سب حرامی امریکا چلے گئے اور میں یہاں اکیلا رہ گیا اور برباد ہوگیا، ختم ہوگیا۔ مجھے بُرا نہیں لگا تھا۔ ذہنی مریض تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان کے ذہن تو ہوا میں اُڑتے رہتے ہیں۔ کبھی ایک بات تو کبھی دوسری بات۔

کہیں ایک جگہ تو کہیں دوسری جگہ پر۔ کبھی ایک لہر میں تو کبھی دوسری لہر میں، کبھی ایک موڈ میں تو کبھی دوسرے موڈ میں بولنے پر آئیں گے تو بولتے چلے جائیں گے، کبھی ذہانت سے بھری گفتگو تو کبھی انتہائی جاہلانہ انداز۔ ایک نارمل اور ایب نارمل کا یہی تو فرق ہوتا ہے، یہی بات تو ایک عام آدمی کو پاگل بنا دیتی ہے۔

تم صحیح کہہ رہے ہو، میں نے اس سے کہا تھا، چلو اوپر کمرے میں چلتے ہیں تم آرام کر لو، تھکے ہو گے۔ تمہیں سو جانا چاہیے۔

وہ فوراً ہی راضی ہوگیا تھا۔ ہم دونوں چوتھی منزل کے کمرہ نمبر چار سو اٹھارہ میں پہنچے تھے جس کی چابی میں نے استقبالیہ سے لے لی تھی۔ وہ کمرے میں آتے ہی بستر پر گرگیا تھا۔ میں اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ جوتے اُتاردے اور آرام سے سوجائے۔

تھوڑی دیر مجھے تکتے رہنے کے بعد اس نے جوتے اُتاردیے اور تکیوں کے سہارے لیٹ گیا تھا۔ اس نے موزے نہیں پہنے ہوئے تھے۔ اس کے پیروں پر جابجا نئے اور پرانے زخموں کے نشان تھے۔ یہ وہی پیر تھے جنہیں اس کی ماں نے محبتوں کے ساتھ بچپن سے موزے پہنائے ہوں گے۔ ان کی مالش کی ہوگی، کسی جگہ پر چوٹ لگ جانے پر تڑپ تڑپ اُٹھی ہوں گی۔ اب وہی پیر میرے سامنے تھے گندے، ناخن ٹوٹے ہوئے، زخموں کے نشان سے بھرے ہوئے۔ ایک نازو نعم میں پلے بڑھے ہوئے بچے کے پیر نہیں تھے بلکہ کسی ایسے آوارہ گرد کے ننگے ننگے پیر جو سڑکوں پر گھومتا پھرتا رہا ہوگا۔ مہینوں جس نے اپنے پیر نہیں دھوئے ہوں گے۔ کہیں ٹھوکر لگی ہوگی، کہیں کانٹا چبھا ہوگا۔ انہیں دیکھ کر میں نہ جانے کیوں پھر آبدیدہ سا ہوگیا تھا۔

میں نے اسے کمبل اُڑھا دیا اور آرام سے لیٹ جانے کے لیے کہا تھا۔ تکیے پر سر رکھتے ہی اس کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔ نہ جانے کب کا تھکا ہارا، کتنے دنوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا، ایسے تھکے تھکے انسانوں کو تو آرام دہ گرم بستر پر نیند فوراً ہی آجاتی ہے۔

تھوڑی دیر میں جب وہ گہری نیند سوگ یا تو میں اپنے کمرے میں گیا تھا۔ ویرینکا ٹیلی ویژن پر الفریڈ ہچکاک کی پرانی فلم ربیکا دیکھ رہی تھی جواپنے آخری لمحوں میں تھی۔ میں نے اسے کچھ کہے بغیر اپنے لیے کافی بنائی۔ ویری نیکا رات کو کافی بالکل نہیں پیتی۔ میں کرسی پر بیٹھ کر کافی پینے کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ کل شام کو مجھے واپس جانا تھا میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں اپنے اس پرانے دوست کے لیے کیا کروں جس کے در گھر، بھائی بہن، ماں باپ کسی کا بھی مجھے پتہ نہیں تھا۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ فلم ختم ہو گئی۔ ویری نیکا نے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔

میں نے اسے شاہد کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے چہرے پر ہمدردی پڑھی جا سکتی تھی۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ سو جائے میں حبیب سے مل کر شاہد کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے پتہ تھا کہ اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس دنیا کے بارے میں اس کے تصورات سے آگاہ تھا اور یہی ایک وجہ تھی کہ وہ مجھے پسند آئی اور میں نے اس سے شادی کی تھی، وہ ایک اچھی ڈاکٹر، اچھی انسان، بہترین بیوی، محبت کرنے والی ماں اور دوست تھی اور ساتھ ساتھ سماجی معاملات میں بہت ترقی پسندانہ خیالات رکھتی تھی۔

ضرور کچھ کرنا چاہیے جو کرسکتے ہو کرو۔ مجھے اندازہ ہے تم کیا محسوس کررہے ہوگے۔ ہم باتیں ہی کررہے تھے کہ نیچے استقبالیہ سے حبیب کا فون آگیا۔ میں نے اسے اچھی نیند سونے کا مشورہ دیا اور کمرہ کھول کر حبیب سے ملنے چلا گیا تھا۔

حبیب نے مجھے بتایا کہ شاہد سے اس کی ملاقات پانچ چھ سال پہلے ہوئی تھی۔ وہ بھی اسے روڈ پر ہی مل گیا تھا۔ ایمپریس مارکیٹ کے سامنے گارڈن روڈ پر وہ الیکٹرونک مارکیٹ سے ایک فون خرید کر آ رہا تھا تو وہ ملا تھا۔ وہیں ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں دونوں نے سینڈوچ کھائے اور چائے پی تھی۔ اس وقت بھی اس کا بُرا حال تھا۔ کافی دیر تک وہ بالکل ایک عام نارمل آدمی کی طرح بات کرتا رہا تھا مگر پھر یکایک کھڑا ہوگیا تھا اور یہ کہتے ہوئے بھاگنے لگا تھا کہ وہ اسے پکڑ لیں گے، اس سے پہلے کہ کوئی اور بات ہوتی میں اس سے پوچھتا کہ وہ کون ہیں جن سے وہ خوفزدہ ہے جو اسے پکڑ لیں گے مگر وہ صدر کی بھیڑ میں کھو گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ شاہد کے والد فوت ہوچکے ہیں، شاید ماں زندہ ہوں، اس کا چھوٹا بھائی اس کا خیال رکھتا تھا۔ اب کچھ پتہ نہیں ہے کہ ان کے گھر میں کون ہے اور کیسے رہ رہے ہیں سب۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4