ڈال سے ٹوٹے ہوئے پتے
مجھے ان کا گھر یاد آ گیا، گارڈن کے علاقے میں پرانے کراچی کے طرز پر بنا ہوا پرانا سا، بڑا سا مکان تھا۔ بڑا سا صحن جہاں کئی نیم اور پیپل کے درخت لگے ہوئے تھے جن کے سائے میں ہم لوگ کرسی ڈالے، گپ شپ لگاتے اور کبھی کرکٹ کھیلتے تھے۔ ان کا کھاتا پیتا گھرانہ تھا، نہ جانے کتنی دفعہ میں نے اور حبیب نے ان کے گھر پر کھانا کھایا تھا۔ راتوں کو رہے تھے۔ آنٹی نے ہماری خاطر کی تھی۔ وہ ایک مہربان خاتون تھیں۔ شاہد اور شاہد کے دوست ان کے لیے اہم تھے۔
یہ سوچ کر میں دوبارہ سے پریشان سا ہو گیا کہ شاہد کو اس طرح دیکھ کر ان کے دل پر کیا گزرتی ہو گی۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا تھا کہ رات میں اس کے ہی کمرے میں رہوں گا صبح حبیب دوبارہ آجائے گا پھر ہم سب ساتھ ناشتہ کریں گے، اس کے بعد اسے لے کر اس کے گھر جائیں گے اور دیکھیں گے کہ ہم لوگ شاہد کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ اس کے خاندان کے ساتھ مل کر کس طریقے سے مدد کی جا سکتی ہے۔
ہم دونوں چوتھی منزل پر اس کمرے میں گئے جہاں وہ اُسی طرح سے بستر پر بے سدھ سورہا تھا۔ ہم دونوں اسے دیکھتے رہے، شاید ہم دونوں ہی اس کے بارے میں اپنے اپنے طرح سے سوچ رہے تھے۔ حبیب تھوڑی دیر کے بعد یہ کہہ کر گھر چلا گیا کہ وہ صبح صبح پہنچ جائے گا، میں اسی کمرے میں دوسرے بستر پر سو گیا تھا۔ صبح حبیب کے آنے کے بعد ہم تینوں نے ساتھ ہی ناشتہ کیا۔ گہری نیند کے باوجود اس کے چہرے پر تھکاوٹ تھی، وہ ہر بات کا صحیح صحیح جواب دے رہا تھا اگر اس کے کپڑے گندے سے نہیں ہوتے تو وہ بالکل ہی عام آدمیوں کی طرح عام آدمی ہی لگتا۔
میں نے اس سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اپنے گھر جانا چاہے گا۔ ہاں چلتے ہیں گھر چلتے ہیں تم لوگوں کو کافی پلاؤں گا گھر پر۔ اس نے سرعت سے جواب دیا۔ ایسا لگتا ہی نہیں تھا کہ اسے کوئی دماغی بیماری ہے۔ میں اس کے لیے اپنے کمرے سے نئے اور صاف ستھرے کپڑے لے کر آیا، جس پر اس نے ممنونیت کا اظہار کیا تھا۔ اس کے چہرے پر وہی ذہانت تھی اور آنکھوں میں وہی چمک مگر کبھی کبھی شدت سے احساس ہوتا کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہا ہے بے سمجھے بوجھے کہہ رہا ہے۔ میں نے کپڑے غسل خانے میں رکھ دیے اور وہ نہانے چلا گیا تھا۔
آج ہی شام کو مجھے جانا تھا، میری خواہش تھی کہ اگر وہ اپنے گھر پر رہے تو میں اسے پابندی سے ہر ماہ کچھ پیسے بھیجتا رہوں گا تاکہ اس کا کام چلتا رہے۔ حبیب کا بھی یہی خیال تھا کہ ہم دو تین دوست اس کی مدد کر سکتے تھے اور کرنا بھی چاہیے تھا۔ آخر کار ہم نے ایک عرصہ کالج میں ساتھ گزارا تھا، اس دوستی کے کچھ تقاضے تھے۔ مجھے اور حبیب کو ان تقاضوں کا احساس تھا اور ہم دل سے چاہتے تھے کہ اس کے کام آئیں۔
نہانے دھونے کے بعد وہ نکھرا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے ویریکا کو بتایا کہ میں تھوڑی دیر میں واپس آجاؤں گا، پھر عائشہ کے گھر چل کر وہاں سے شام کو ائرپورٹ چلے جائیں گے۔
میں اور شاہد حبیب کی گاڑی میں بیٹھ کر پرل کانٹی نینٹل سے نکل کر میٹروپول کے سامنے سے ہوتے ہوئے زینب مارکیٹ کی طرف جا رہے تھے۔ شاہد مسلسل باتیں کررہا تھا۔ نہ جانے کہاں کہاں کی باتیں۔ اس نے کہا تھا کہ صبح کے وقت تو سب ہی گھر پر ہوں گے، ایک دفعہ پھر ناشتہ کرنا پڑ جائے گا۔ زینب مارکیٹ والی سڑک پر سرخ سگنل پر گاری رُکی تھی اور اس سے پہلے کہ گاڑی دوبارہ روانہ ہوتی شاہد دروازے کو کھول کر باہر نکلا اور انتہائی تیز دوڑتا ہوا صدر کی جانب چلا گیا۔
ہم دونوں کی ہی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کریں، وہ ایک بار پھر ہماری زندگی سے نکل گیا تھا۔ تھوڑی دیر ہم نے اسے صدر کی سڑکوں پر تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اس کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ اگر نکل ہی کھڑے ہوئے ہیں تو اس کے گھر چلے چلتے ہیں شاید گھر والوں سے کچھ پتہ چل سکے۔ ان سے ہی بات کرتے ہیں شاید وہ لوگ اس سے ملتے ہوں گے، اس کی باتوں سے تو ایسا ہی لگا تھا کہ اس کی ملاقات ہوتی رہی ہے۔ شاید یہ ممکن ہو کہ ان کے ذریعے سے ہی ہم لوگ اس کی مدد کرسکیں۔
گارڈن کے علاقے میں پرانا سا وہ گھر بڑی بری حالت میں تھا۔ سارے دروازے اور کھڑکیاں تختوں کے ذریعے بند کردیے گئے تھے، چار دیواری کے پتھر ٹوٹ گئے تھے۔ بوڑھا نیم کا درخت خاموشی سے سر جھکائے ہمیں پہچان کر اُداس اُداس سا لگ رہا تھا۔ گھر میں کہیں بھی کوئی نہیں تھا۔

