بچوں پر جنسی تشدد اور جنوبی پنجاب کے جاہل


جنسی تشدد کا شکار بچوں کے کیسوں میں دس سا ل سے قانونی معاونت فراہم کرنیوالے امتیاز احمد سومرو ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 34 کے تحت بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی روک تھام ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یو این سی آر سی یونایئٹڈ نیشن چائلڈ رائٹس کنونشن 1989 کے تحت پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور یہ ایک انٹرنیشنل کنونشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمات کے اندراج کے وقت حقائق کے مطابق دفعات کا اندراج نہیں کیا جاتا اور ان واقعات کا معمول کے مطابق زیر دفعہ 376 یا 377 اندرا ج کیا جاتا ہے حالانکہ 2015 ء کریمنل لاء (ترمیم) کے تحت 377 /Aاور 377 /B اور جنسی ہراساں کرنے کی دیگر دفعات 292 A، B، C کا اضافہ کیا گیا ہے لیکن مقدمات کے اندراج میں یہ دفعات شامل نہیں کی جاتیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک حکم (SCMR 2013 203 ) کا حوالہ دیتے ہوئے ا متیاز سومرہ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے حکم میں بچوں پر جنسی تشدد کے حوالے سے ان کیمرہ ٹرائل اور 164 کا بیان خاتون مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ اور متاثرہ بچے کوسرکاری یا غیر سرکاری تنظیم (این جی او) سے کونسلنگ کروا نے کا حکم صادر کیا تھا لیکن اس پرعمل درآمد دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایڈوکیٹ امتیاز احمد سومرو کا مزید کہنا تھا کہ ڈی این اے رپورٹ کا کئی کئی ماہ تک نہ آنا بھی تفتیش میں تاخیر کی اہم وجہ ہے۔ اسی طرح ان مقدمات کی تفتیش انسپکٹر یا سب انسپکٹر کو کرنا چاہیے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ نئے بھرتی ہونیوالے یا جونیئر سطح کے پولیس افسر تفتیش کرتے ہیں اور ان کی کم علمی کی وجہ سے زیادہ تر فائدہ ملزمان کوپہنچتا ہے۔

ملزم یہ جرم کیوں کرتا ہے؟

ماہر نفسیات (کلینکل) مس سعدیہ کا کہنا ہے کہ اس جرم کے مرتکب افراد کے حوالے سے ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر ملزمان بچپن میں خود اس قسم کی زیادتی کا شکار ہو چکے ہوتے یا انہوں نے کسی کے ساتھ زیادتی ہوتا دیکھی ہو تو بڑے ہو کر وہی حرکت دوسرے بچو ں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوے کیسسززکی ایک بڑی وجہ آسانی سے دستیاب غیر اخلاقی فلمیں بھی ہیں۔ ملزمان بچوں کے ساتھ زیادہ تر پیار کا حربہ ا ختیارکرتے ہیں اگر بچے کو گھر سے توجہ نہ ملے تو وہ باآسانی اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔

والدین اور بچوں میں بات چیت کا عمل اور رابطہ کمزور ہونا بنیادی کوتاہی میں شامل ہوتا ہے۔ والدین بچوں کو جتتا اعتماد د ے کر رابط مضبوط رکھیں گے بچہ اتنا محفوظ رہے گا اور اگر کوئی کوشش کرے گا تو بچہ فوراً والدین کو بتا ئے گا۔ مس سعدیہ کا کہنا ہے کہ بچے کے ساتھ زیادتی کی کوشش یا زیادتی کی صورت میں بچہ انتہائی خوف کا شکار ہو جاتا ہے اور ان میں مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں بستر گیلا کرنا، دباؤ کا شکار ہونا، سکول میں کار کردگی کا متاثر ہونا، ڈراؤنے خواب، کھانا پینا کم کر دینا، رویوں میں تبدیلی اور تنہائی پسند ہونا شامل ہیں۔ مس سعدیہ کاکہنا ہے کہ والدین بچوں کی کسی حرکت کو ہر گز نظر انداز نہ کریں بلکہ ان پر نظر رکھیں اگر بچہ کسی خاص جگہ یا شخص سے ڈرتا یا گھبراتا ہے تو وجہ جاننے کی کوشش کریں اور بچے کی طرف متوجہ ہوں۔ زیادتی کا شکار بچوں کے غم کا مداونہ ہوتو اس کی شخصیت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری!

عوامی سہولت کے لئے پولیس کلچر میں تبدیلی کے لئے اربوں روپے کے اخراجات اور بلندوبانگ دعوؤں کے باوجود پنجاب میں ڈویژنل یا ضلعی سطح پر فارنزک لیبارٹریاں نہیں بن سکیں۔ پورے پنجاب کے لئے لاہور میں ایک فرانزک سائنس لیبارٹری ہے جہاں صوبہ پنجاب کے سات سو سے زائد تھانوں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت کے دوسرے صوبوں سے بھی کیس بھجوائے جاتے ہیں۔ ڈویژنل سطح پر پنجاب فرانزک لیبارٹری کے دفاتر میں موجود عملہ کی ذمہ داری صرف نمونہ سیل کرکے تفتیشی افسر کے حوالے کر دینا ہے جسے تفتیشی افسر خود لاہور جا کر جمع کرواتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2013 ء سے اب تک تفتیشی افسران اور مدعی لاہور کے چکر لگا نے پر کروڑوں وپے خرچ کر چکے ہیں۔ یہ شکایت بھی عام ہیں کہ تفتیشی افسران تمام تر سفری اخراجات آج بھی مقدمہ کے مدعیوں اور کیس سے متعلق دیگر افراد سے وصول کر تے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فرانزک سائنس لیبارٹری کا منصوبہ 2013 ء میں مکمل کیا گیا جس کے بعد صوبہ بھر کے ڈویژن سطح پر قائم لیبارٹریوں کو بند کر دیا گیا اور پولیس کو تمام تر نمونے فرانزک سائنس لیبارٹری کو جمع کروانے کو لازم قرار د یتے ہوئے وہاں سے جاری ہونیوالی رپورٹ کو کیس کا حصہ بنائے جانے کے بھی احکامات جاری ہوئے۔

اس فیصلے کا فائدہ لاہور اس سے ملحقہ شہروں کے تھانیداروں اور مدعیوں کو تو ہوا لیکن صوبہ کے دور دراز علاقوں کے تھانوں اور سائلین کے لئے درد سر بن گیا۔ زیر تفتیش مقدمات کی بروقت تکمیل نہ ہونے میں اہم رکاوٹ ڈی این اے رپورٹ کا وقت پر نہ ملنا ہے۔ پولیس کے ایک ذمہ دار افسر کے مطابق جنسی تشدد جیسے سینکڑوں مقدمات میں ملزمان کے گناہ گار یا بے گناہ ثابت کرنے کے لئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور سے ڈی این اے رپورٹ کا کئی کئی ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے چند سال قبل آر پی او بہاولپور کی جانب سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور کو آگاہ کرتے ہوئے تحریر کیا گیا کہ ڈی این اے رپورٹ کے بروقت نہ ملنے کی وجہ سے 80 فیصد مقدمات کی تفتیش ایک طویل عرصہ تک التواء کا شکار رہتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3