بچوں پر جنسی تشدد اور جنوبی پنجاب کے جاہل


جنوبی پنجاب سے جاہل ہمارا دماغ کھانے آ جاتے ہو!

پنجاب فرانزاک سائنس لیبارٹری لاہور نمونے جمع کروانے کے لئے جانے والے تفتیشی افسران کو لیبارٹری کے عملہ سے بھی شکایت ہیں۔ ہتک آمیز رویہ پر بہاولپور کے اے ایس آئی نعیم اختر نے واپس آکر تھانہ میں پنجاب فرانزاک سائنس لیبارٹری لاہور کے عملہ کے خلاف رپٹ درج کرائی۔ تھانہ سول لائنز کا اے ایس آئی ایک مقدمہ کے سلسلے میں شواہد کا پارسل پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری لاہو ر لے کر گیا تولیبارٹری کے اہلکار نے اعتراض لگا کر پارسل وصول کرنے سے انکار کر دیا جس پر نعیم اختر نے موقف اختیار کیا کہ پارسل نمونہ کو بہاولپور کے پی ایف ایس اے دفتر ی عملہ نے مکمل کر کے بھجوایا ہے اور میں صرف جمع کروانے آیا ہوں جس پر تکرار شدید ہو گئی اوروہاں پر موجود سینئر اہلکار سے بات کی تو اس نے بات سننا گوارہ نہ کی اور اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ”تم جنوبی پنجاب سے جاہل ہمارے دماغ کھانے آ جاتے ہو“۔

اے ایس آئی نعیم اختر کے مطابق اس نے ڈی جی سے ملنے کے لئے اصرار کیا تو ہتک آمیز رویہ کے ساتھ جواب ملا کہ تم جیسے اے ایس آئی سے ملنے کے لئے ڈی جی کے پاس ٹائم نہیں ہے۔ سیکورٹی سٹاف بلوانے پر وہ عمارت سے باہر آگیا۔ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور کے افسران نے رپٹ درج کرنے پر شدید رد عمل ظاہر کیا۔ بہاولپور پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی اپنے افسر کا ساتھ دینے کے بجائے انکوائری کرنا شروع کر دی اور نعیم اختر کو رپٹ درج کرنے کا آج بھی خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ ریجنل انوسٹی گیشن رب نواز تُلہ کا کہنا ہے کہ کیسوں کے بروقت فیصلوں کے لئے پولیس سمیت اس کیس سے منسلک ہر محکمہ اور فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ایس ایس پی رب نواز تُلہ کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت میں چالان عدالت میں پیش کرنا اور اس میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ مثلاً متاثرہ کی بروقت عمر کا تعین، گواہان کے بیانات، میڈیکل رپورٹ، بروقت نمونے لیبارٹری بھجوانا نہایت ضروری ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ناقابل تردید ثبوت ہے۔

فرانزک سائنس لیبارٹری میں 376 اور 377 دفعات کے تحت بھجوائے جانے والے نمونوں کی بروقت رپورٹ کے لئے الگ سیل قائم کیا ہے۔ اگر ڈویژنل سطح پر قائم پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹریوں کے دفاتر کو نمونے وصول کرنے کا اختیار دے دیاجا ئے اور مقررہ مدت میں رپورٹ جاری ہو جائے انصاف کی فراہمی میں تیزی آسکتی ہے اسی طرح نہ صرف تفتیشی افسران کا لاہور سفر کرنے کا گھنٹوں سفر اور غیر ضروری اخراجات اور مدعی کی شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہو گا۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن رب نواز تُلہ نے کہا کہ دین سے دوری، والدین کی عدم توجہی، موبائل فون بچوں پر جنسی تشدد کاسبب بن رہی ہے۔ ننھے پھولوں کی حفاظت ہم سب کی پوری ذمہ داری ہے اور پنجاب پولیس اس ذمہ داری نبھانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ سول سوسائٹی ساتھ دے تو اس طرح کے جرائم کرنیوالے سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے۔

پاکستان میں سال 2018 ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے اغوا، ان پر تشدد اور ریپ سمیت اسی طرح کے دیگر جرائم کے 2300 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پر ہر چوبیس گھنٹے میں 12 سے زیادہ بچے ان جرائم کا شکار ہوئے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ”ساحل“ کے اعداد و شمارکے مطابق بچوں پر جنسی تشدد کے مختلف جرائم کے زیادہ تر واقعات کا تعلق پنجاب سے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری سے جون 2018 تک ملک بھر میں بچوں کے ریپ کے 360 واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ اغوا کے 542 اور کم عمری میں شادی کے 53 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ کم عمر لڑکوں کے ساتھ بد فعلی کے 542 واقعات ہوئے اور بچوں کے لاپتہ ہونے 236 کیسز سامنے آئے ہیں اور 92 بچوں کو گینگ ریپ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنسی تشدد کے بعد 57 بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق سال 2017 کی نسبت 2018 کے دوران جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2017 کے پہلے چھ ماہ میں 1764 واقعات کے مقابلے سال 2018 کی پہلی ششماہی میں 2322 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

”ساحل“ کا کہنا کہ بچوں کے خلاف سب سے زیادہ جرائم کا سامنا چھ سے دس سال کی عمر کے بچوں کرنا پڑا۔ اسی طرح زیادہ تر واقعات دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ہوئے ہیں ان میں 26 فیصد واقعات شہری علاقوں میں پیش آئے۔ رپورٹ میں دستیاب معلومات کے مطابق بچوں کے خلاف مختلف قسم کے جرائم کے 56 فیصد لڑکیاں متاثر ہوئیں جبکہ 44 فیصد واقعات میں لڑکے متاثر ہوئے۔ تنظیم نے ملک کے مختلف اخبارات میں بچوں کے خلاف جرائم کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر یہ اعداد و شمار مرتب کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 32 واقعات میں پولیس نے رپورٹ کو درج کرنے سے انکار کر دیا۔

بچوں کا محفوظ مستقبل ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو روکنے اور اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لئے جہاں معاشرے کے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وہاں پاکستا ن ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کو بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرکے غیر اخلاقی اور بے راہ روی پھیلانے والی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے یقینی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اخبارات، ٹی وی، ریڈیو کو مستقل بنیادوں پر آگاہی مہم چلانا ہو گی۔ بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کے مقدمات کے فیصلوں کے لئے مدت کا تعین اور ملزمان کو بروقت سزائیں دینے جیسے ترجیحی اقدامات کرنے کے لئے حکومت کو موثر قانون سازی کرنا ہو گیکیونکہ بچے کسی بھی ملک و قوم کے معمار و مستقبل ہوتے ہیں اور معصوم بچوں کا محفوظ مستقبل ہی محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3