جہاں خواب ڈھلتے ہیں


میں نے قریب جا کر پوچھا۔

’ گل نصیب یہ تمہارا بیٹا ہے کیا؟ ‘

’ جی میڈم صیب۔ ‘ وہ پلٹ کر بولا۔ ’یہ امارا بیٹا اے اس کا نام اے زیارت گل۔ امارا چار بیٹی اے اور یہ ایک ای بیٹا اے‘

میں نے ذرا قریب ہو کر اس بچے کو دیکھنا چاہا تو اس نے پل کے پل اپنے باپ کی ستون نما ٹانگ کی اوٹ سے اپنا سر نکالا اور مجھے دیکھا۔

میں بڑی الگ طرح کی خاتون ہوں اور جذبات کبھی شاذ ہی مجھ پر غالب آتے ہیں لیکن اس دن مجھے اس بچے سے پہلی نظر میں عشق ہو گیا۔

بچے تو خیر سب ہی پیارے ہوتے ہیں لیکن اس بچے کو تخلیق کرتے وقت قدرت نے اپنی فیاضی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ بے حد سبک ناک نقشہ۔ بے داغ اجلی جلد۔ لال اناری لب۔ سونے جیسی گوری سرخی مائل رنگت۔ گہری سبز بڑی بڑی آنکھیں اور ماتھے پر بھورے بھورے بالوں کے چھلے۔ بلا شبہ وہ فطرت کی حسین ترین تصویر تھا۔

میں نے زیارت گل کو دوبارہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ میری بارعب شخصیت سے ڈر کر باپ کے پیچھے ایسا چھپا کہ پھر نہیں نکلا۔ ’لکا زیارتا شاباس۔ ‘ گل نصیب نے بہتیرا اسے پچکارا لیکن وہ نہ مانا بلکہ اوں اوں کرنے لگا تو میں ہنس پڑی۔

’چلو کوئی بات نہیں گل نصیب‘ میں نے کہا۔ ’اسے کسی وقت میرے دفتر میں لانا۔ ‘

’جی میڈم صیب۔ ‘ گل نصیب نے کہا۔

اگلے روز جب گل نصیب ڈرے سہمے ہوئے زیارت گل کو گود میں اٹھائے میرے دفتر میں لایا تو میں نے اسے پہلی بار ٹھیک سے دیکھا۔ وہ باپ سے واپس لے جانے کی ضد کر رہا تھا۔ میں نے اپنی میز کی دراز کھولی اور پھر اس کی آنکھوں کے پاس لے جا کر ایک دم اپنی بند مٹھی کھول دی۔ رنگ برنگے ریپرز میں لپٹی اتنی بہت ساری میٹھی گولیاں ایک دم اپنے سامنے دیکھ کر ننھے بچے کے چہرے پر حیرت اور مسرت سے بھرے جو تاثرات ابھرے وہ انمٹ اور ناقابل فراموش تھے۔ اس نے ایک لمحے کو اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ باپ کا اشارہ پاتے ہی اس نے ساری گولیاں میری کھلی ہتھیلی سے اٹھائیں اور باہر بھاگ گیا۔ ہم دونوں ہنس پڑے۔

اس دن سے میری اور زیارت گل کی دوستی ہو گئی اور وہ گاہے گاہے میرے پاس آنے لگا۔ میں نے اس کے باپ کو کچھ پیسے بھی دیے کہ اپنے بیٹے کو کچھ نئے کپڑے اور جوتے خرید دے۔ کچھ دن بعد میں نے زیارت گل کو نئے لباس اور نئے جوتوں میں دیکھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ اور زیادہ بھی حسین لگ رہا تھا۔

سکول کی پرنسپل بننا میرے زندگی کا اولین خواب تھا جو تب سے میری آنکھوں میں سمایا ہوا تھا جب میں گھر میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی ’میڈم‘ بنا کرتی تھی۔ میں اکثر چشم تصور سے دیکھتی کہ میں ایک بہت بڑے سکول کی سربراہ ہوں۔ اپنی شاندار گاڑی سے اتر کر جب سکول میں داخل ہوتی ہوں تو ہرطرف سے ’گڈ مارننگ میڈم‘ کی صدائیں جھرنوں کی طرح بہتی ہوئی آتی ہیں اور پھر میں اپنے شاندار دفتر میں داخل ہو جاتی ہوں جس کے باہر میرے نام کی تختی لگی ہے۔ ماسٹرز کے بعد کچھ عرصہ میں نے یونیورسٹی میں پڑھایا لیکن مزہ نہیں آیا تو چھوڑ دیا۔ اس دوران میرا رشتہ آ گیا۔ لڑکا انجینئر تھا اور کسی پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا۔ گھر والوں نے جھٹ پٹ ہاں کر دی اور یوں میں بیاہ کر غلام سرور شاہ صاحب کے گھرانے میں آ گئی۔ اگلے سال فراز صاحب دنیا میں تشریف لے آئے تو ہماری دنیا مکمل ہو گئی۔ اب ہمارا سارا وقت فراز کے گردا گرد گھومتا تھا۔ وہ تھا بھی تو کتنا پیارا گل گوتھنا موٹو سا بچہ۔ اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے ہمیں پتہ بھی نہ چلا کہ زندگی کے چار سال کیسے گزر گئے۔ اب سرور کی طرف سے دوسرے بچے کا مطالبہ ہونے لگا تھا۔ پہلے پہل اشاروں میں اور پھر کھل کر۔ لیکن میں نے صاف منع کر دیا۔ میرے پاس وقت ہی کہاں تھا اپنا خاندان بڑھانے کا۔ مجھے تو اب اپنے اس خواب کو جگانا اور پروان چڑھانا تھا جسے میں نے پچھلے پانچ سال سے سہج سمیٹ کرایک مخملیں صندوق میں سلا رکھا تھا۔

فراز چار سال کا ہوا تو میں نے اسے آیا کے سپرد کیا اور خود گھر سے نکل کھڑی ہوئی اپنے سپنے سچ کرنے کے لئے۔

ایک مناسب رقم میں نے پہلے ہی پس انداز کر رکھی تھی۔ چنانچہ شہر کے مضافات میں ایک نئی آباد ہوتی ہوئی ہاوسنگ سوسائیٹی میں ایک پلاٹ خرید کر میں نے اپنے سکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اگلے دو سال مجھے سوائے اس سکول کو بنانے اور سنوارنے کے اور دنیا میں کسی چیز کا ہوش نہیں رہا۔ دھوپوں میں کھڑے ہو ہو کر میری گلابی رنگت سیاہ پڑ گئی۔ سر جھاڑ منہ پہاڑ۔ جاننے والے مجھے طرح طرح کے القابات سے نوازتے لیکن میرے خواب اتنے طاقتور تھے کہ وہ مجھے اٹھائے پھرتے تھے۔ مجھے کسی کی تنقید کی پروا نہ تھی۔

آخر وہ مبارک دن آن پہنچا کہ جب میرے سکول کا افتتاح ہوا۔ یہ فروری کا ایک خوشگوار دن تھا۔ آج میرا دیرینہ خواب تعبیر ہونے جا رہا تھا۔ سکول میں ہر طرف چہل پہل تھی۔ ایک منسٹر صاحب کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ دیگر معززین شہر کا ایک ہجوم موجود تھا۔ میرے سکول کی۔ یعنی میرے اپنے سکول کی۔ شاندار عمارت جگ مگ جگ مگ کر رہی تھی۔ اور اس کے ماتھے پر اس کے نام کے نیچے سکول کا ماٹو اردو اور انگریزی میں لکھا ہوا اپنی الگ بہار دے رہا تھا:

’جہاں خواب ڈھلتے ہیں‘

Where Dreams are cast

سکول کا یہ ماٹو سرور کا آئیڈیا تھا جو مجھے پسند آیا تھا۔ اس ماٹو کو منسٹر صاحب نے بھی پسند کیا اور اپنی تقریر میں اس کی بہت تعریف کی تھی۔

سرور نے گل نصیب کو کسی جاننے والے کی سفارش پر مجھ سے پوچھے بغیر ہی رکھ لیا تھا۔ مجھے ان کی یہ بات کچھ زیادہ پسند تو نہ آئی تھی۔ لیکن گل نصیب نے اپنے با تمیز رویے سے دھیرے دھیرے مجھے قائل کر ہی لیا کہ سرور کا انتخاب غلط نہ تھا۔ چنانچہ میں نے گل نصیب کو نوکری کے ساتھ رہنے کے لیے سکول کا سرونٹ کوارٹر بھی دے دیا۔ وہ سراپا تشکر تھا۔

میری محنت رنگ لائی اور سکول میری توقعات سے بڑھ کر کامیاب ہوا۔ اس کامیابی میں سکول کے ماٹو نے بھی چپکے چپکے بہت کام کیا تھا۔ ہمارا پہلے سال کے داخلوں کا ہدف بہ آسانی پورا ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سکول کی شہرت دور و نزدیک ہر جگہ جا پہنچی اور جلد ہی اس کا نام شہر میں برطانوی طرز پر تعلیم دینے نمایاں ترین اداروں میں ہونے لگا۔ دوسرے سال سے تو یہاں داخلے کے لیے سفارشیں آنے لگیں اور ہمیں کئی لوگوں کو منع کرنا پڑا۔ پہلے سال کی آمدنی سے میں نے وہ تمام قرض اتار دیے جو سکول کی تعمیر کے دوران میں میرے سر پر چڑھے تھے۔ دوسرے سال سے فراز کے نام سے کھولے گئے فارن کرنسی اکاونٹ میں رقم تیزی سے بھرنے لگی تھی۔ میرا سکول میرا پہلا خواب تھا جس کی تکمیل نے میرے دوسرے خوابوں کی تعبیر کے راستے کھولنے تھے۔ میں ابھی سے اپنے فراز کو ہارورڈ یا پرنسٹن یونیورسٹی سے گاون اور ہڈ پہنے ڈگری ہاتھ میں لئے نکلتا ہوا دیکھ رہی تھی۔

لیکن فراز کے حوالے سے ایک مشکل ابھی سے آن پڑی تھی۔

یک دم وہ اداس رہنے لگا تھا۔ اب اس کا دل نہ پڑھائی میں لگتا تھا اور نہ کھیل میں۔ وہ ایک ہی جگہ پر گھنٹوں بیٹھا ایک طرف کو دیکھتا رہتا تھا۔ کھاتا بھی ٹھیک سے نہیں تھا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے میرے لئے فراز کے مسئلے کو سمجھنا مشکل نہ تھا۔ ڈرتے ڈرتے میں نے سرور سے اس بات کا ذکر کیا تو حسب توقع انہوں نے بہت روکھائی سے مجھے دیکھا۔

’ خود ہینڈل کرو‘ ان کا تین لفظی جواب تھا جس کے بعد انہوں نے نظریں واپس کتاب پر گاڑ دیں۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب زیارت گل ہمارے گھر کی زندگی میں داخل ہوا۔ میں نے گل نصیب سے کہا کہ وہ زیارت کو روزانہ کچھ دیر کے لئے ہمارے گھر چھوڑ دیا کرے۔ وہ بخوشی مان گیا۔ زیارت کے لئے ہمارا گھر اور اس کا ماحول قطعی اجنبی تھا۔ اوپر سے زبان کامسئلہ بھی تھا۔ زیارت ابتدا میں گھبرایا ہوا اور خوف زدہ تھا۔ لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بچوں نے مل کر اجنبیت کے تمام بند تالے دوستی کی مہربان چابی سے کھول ڈالے اور یوں کہ میں خود حیران رہ گئی۔

اب دونوں لڑکے گھر کے لان میں فٹبال کھیلتے اور خوب چیخم دھاڑ مچاتے۔ مجھے ان کو چپ کرانا پڑتا۔ جب وہ دونوں کچن ٹیبل پر بیٹھ کر برگر اور کوک اڑاتے یا مل کر سکوبی ڈو کے کارٹون ٹی وی پر دیکھتے تو کوئی نہیں کہ سکتا تھا کہ یہ ایک ماں باپ کے بچے نہیں ہیں۔ زیارت بڑے ذوق و شوق سے فراز کی کلرنگ بکس میں رنگ بھرتا تھا۔ فراز نے اسے اپنی پچھلے سال کی سب کتابیں پڑھنے کو دے دیں تھیں۔ زیارت صرف حسین ہی نہیں نہایت ذہین بچہ بھی تھا۔ اس نے کمال تیزی سے پڑھنا لکھنا سیکھنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اردو اور انگریزی دونوں میں رواں ہو گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3