جہاں خواب ڈھلتے ہیں
اور پھر وہ دن بھی آ گیا جو اگر نہ آیا ہوتا تو شاید میری زندگی میں زیادہ سکون رہتا۔
اس روز میں ذرا دیر سے گھر پہنچی تھی کیوں کہ سکول کے بعد مجھے مارکیٹ کا ایک چکر لگانا تھا۔ فراز نے مجھ سے کچھ کارٹون سی ڈیز کی فرمائش کر رکھی تھی۔ انہی کو ڈھونڈنے میں مجھے وقت لگ گیا تھا۔ مطلوبہ سی۔ ڈیز لے کر جب میں فراز کے کمرے میں پہنچی تو باہر ڈور میٹ پر مجھے فراز کے ساتھ زیارت گل کے جوتے بھی پڑے نظر آئے۔ میں نے دبے پاوں کمرے میں جھانکا تو فراز نظر نہ آیا۔ شاید وہ واش روم میں تھا کیوں کہ وہاں سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ البتہ زیارت گل کمرے میں موجود تھا۔ اس کا منہ دوسری طرف تھا۔ اس نے فراز کا سکول یونیفارم پہن رکھا تھا۔ اسی کے سکول شوز پاوں میں تھے اور اسی کا سکول بیگ اس نے اپنے کاندھے پر اٹھا رکھا تھا۔ وہ فراز ہی کے انداز میں چلنے کی مشق کر رہا تھا۔ اور ساتھ کچھ بول بھی رہا تھا۔ شاید ’گڈ مارننگ ٹیچر‘ کہہ رہا تھا۔
اس لمحے مجھے یوں لگا کہ میں چوراہے پر کھڑی تھی کہ ہوا کا ایک تیز جھکڑ آیا اور مجھے بے لباس کر کے چلا گیا۔ میرے ہاتھ پیر بھی جم گئے تھے اور میری ستر پوشی کے لئے اٹھنے سے قاصر تھے۔
کئی منٹ تک میں بالکل گنگ کمرے کے دروازے میں کھڑی اس معصوم پٹھان بچے کو دیکھتی رہی جو میرے بچے کے کپڑے پہن کر اس کی نقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک وہ پلٹا تو اس کی نظر مجھ پر پر پڑ گئی۔ ایک دم اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور آنکھیں آنسووں سے بھر آئیں۔
’ یہ یہ ام کو فراز بابو نے دیا میڈم جی۔ ‘ وہ ہکلا ہکلا کر بول رہا تھا۔ ’یہ یونی فارم یہ شوز۔ تم خود پوچھ لو۔ ام ابی اتار دے گا بس ابی اتار دے گا۔ ‘
وہ رو رہا تھا اور میں نے اسے سینے سے لگایا ہوا تھا۔
’ کوئی بات نہیں زیارت گل۔ کوئی بات نہیں۔ بس روتے نہیں شاباش چپ۔ ‘ میں نہ جانے کسے تسلیاں دے رہی تھی۔
اس دن کے بعد سے زیارت گل نے مجھے بہت تنگ کرنا شروع کر دیا۔ وہ ہر جگہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ جب میں فراز کے فارن کرنسی اکاونٹ میں رقم جمع کرانے لگتی تو وہ پاس بیٹھا اپنی درد انگیز آنکھوں سے مجھے تکتا رہتا۔ جب میں ’تعلیم سب کے لیے‘ ٹائپ کے کسی سیمینار سے خطاب کر رہی ہوتی تو وہ حاضرین میں بیٹھا مجھ پر مسکرا رہا ہوتا۔ جب میں فراز کے لئے نئے جوتوں اور کپڑوں کی شاپنگ سے بھرے بیگ اپنی گاڑی میں لاد رہی ہوتی تو وہ چپکے چپکے دکان کے شیشوں کے پیچھے سے مجھے دیکھتا رہتا۔
اگر ڈمہ ڈولا نہ ہوا ہوتا تو شاید میں اس لڑکے کے ہاتھوں پاگل ہی ہو جاتی۔
اس روز صبح ناشتے کی میز پر کڑک سلائس پر جیم بٹر لگاتے ہوئے میں نے ریموٹ سے ٹی وی آن کیا تو تمام چینلز ایک ہی نیوز بریک کر رہے تھے اور وہ یہ کہ گذشتہ رات باجوڑ ایجنسی کے ایک دور دراز علاقے ڈمہ ڈولا میں ایک دینی مدرسے پر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اسی سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر مدرسے کے طالب علم تھے۔ اس دن مجھے پہلی بار علم ہوا کہ باجوڑ نام کا علاقہ پاکستان میں واقع تھا۔
اس دن صبح میری سیکرٹری ایجوکیشن کے ساتھ ایک میٹنگ تھی اس لئے وہاں سے ہوتی ہوئی سکول پہنچی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ گل نصیب میرے دفتر کے باہر کاریڈور میں فرش پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ زیارت گل پاس بیٹھا باپ کو تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایک چھ فٹے پٹھان کو یوں روتے ہوئے دیکھنا میرے لئے ایک ہولناک تجربہ تھا۔ دریافت کرنے پر گل نصیب نے اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بتایا کہ وہ خود بھی ڈمہ ڈولا کا رہنے والا تھا۔ اس کے کسی عزیز نے وہاں سے فون کر کے کسی مقامی آدمی کے ذریعے ابھی ابھی رات کے حملے کی خبر اس تک پہنچائی تھی۔ گل نصیب کو اب تک یہ پتہ نہیں تھا کہ اس حملے میں اس کا کون جیا اور کون مرگیا تھا۔
’تم جاؤ ابھی گل نصیب۔ ‘ میں نے اس سے کہا۔ ’جا کر اپنے عزیزوں کی خبر لو۔ یہاں کے معاملات ہم دیکھ لیں گے۔ تم جاؤ۔ ‘ ساتھ ہی میں نے پرس سے تین ہزار نکال کر اسے دے دیے۔ وہ شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتا اور مجھے دعائیں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی زیارت گل بھی چلا گیا۔
اس دن کے بعد میں نے زیارت گل کو کبھی دوبارہ نہیں دیکھا۔ اس کے جانے کے بعد میرا ذہنی خلجان دھیرے دھیرے کم ہونے لگا۔ میرا سکول زبردست طریقے سے چلتا رہا۔ ہر سال سینئر کیمبرج میں دنیا بھر میں ٹاپ پوزیشن ہولڈرز میں میرے سکول کے بچوں کے نام ضرور ہوتے۔ فراز کے فارن کرنسی اکاونٹ میں رقم برابر جمع ہوتی رہی۔ اب میں اس قابل ہو گئی ہوں کہ اگلے سال اسے امریکا روانہ کر سکتی ہوں۔ فراز ہے بھی بہت لائق بچہ۔ ہر سال کلاس ٹاپ کرتا ہے۔ وہ اتھلیٹ بھی ہے اور اس کے ساتھ سکول کی طرف سے انگریزی کا بہترین مقرر بھی منتخب ہو چکا ہے۔
میری زندگی میں سب کچھ سیٹ چل رہا تھا لیکن آج گل نصیب نے دوبارہ آ کر سب کچھ اپ سیٹ کر دیا ہے۔ وہی ساری پاگل سوچیں جنہیں میں نے مشکل سے سلایا تھا پھر نیند سے جاگ پڑی ہیں اور میری جان کھانے لگی ہیں۔ نیو یارک اور نوا کلی۔ باجوڑ اور بروکلین۔ میران شاہ اور مین ہیٹن۔ شریعت اور جمہوریت، دہشت گرد اور مجاہد، کافر اور مومن، ٹریننگ اور جہاد۔
میں انہی سوچوں میں گم تھی کہ نیاز چائے کی ٹرے کے ساتھ آج کے اخبارات میرے قریب میز پر رکھ کر چلا گیا۔ میں نے دھیان بٹانے کے لیے یونہی ایک اخبار اٹھا کر اس کی ہیڈ لائن دیکھی۔ یہ ایک بہت چیختی چنگھاڑتی ہوئی پانچ کالمی سرخی ہے جس کے مطابق گزشتہ رات پھر ملک کے کسی شہر میں ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس میں بہت سے افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ شہ سرخی کے نیچے ایک کونے میں لگے ہوئے ایک چھوٹے سے فوٹو کے نیچے لکھا تھا کہ دھماکے کے مقام سے نو عمر خود کش بمبار کا سر مل گیا ہے اور اس کے اجزا کو ڈی۔ این۔ اے ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ شناخت جلد متوقع ہے۔
مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں اس چھوٹے فوٹو کو قریب سے دیکھ سکوں۔ ایک نامعلوم خیال سے میرے جسم میں تھرتھری سی چھوٹ گئی ہے۔
میں نے اخبارات کا پلندہ اٹھا کر سائیڈ باسکٹ میں ڈال دیا ہے اور پھر سے آج کی ڈاک دیکھنے میں مصروف ہو گئی ہوں۔

