روزانہ اپنے بچے کو دس منٹ دیں
میرا پانچ سال کا بیٹا پچھلے چند دن سے اسکول سے واپس آنے کے بعد بہت خاموش سا رہتا، تھوڑا گھبرایا ہوا بھی۔ دانتوں سے ناخن بی کترنے لگا تھا۔ آج میں نے بہت پیار سے پوچھنا چاہی پہلے تو بہت گھبرا سا گیا پھر ہچکچاتے ہوے جو وجہ بتائی میں خاموش سی ہو گئی۔ چھٹی کے وقت رش سا لگا رہنا ایک معمول کا عمل ہے۔ چھوٹے بچے جب تک کوئی لینے نہیں آتا اسکول کے اندر بنے پلے ایریا میں کھیلتے رہتے ہیں۔ بڑی کلاس کا کوئی لڑکا دو دن اسے رانو ں سے چھو کے گزر جاتا۔
معصوم بچہ شرمندہ سا ہو جاتا۔ اس کے ذہن میں کیسے سوال اٹھتے ہوں گے۔ کیا کیا سوچ کے پریشان ہوتا ہو گا۔ میں بچوں کو اکثر بتاتی رہتی ہو جسم کے مخصوص حصوں کو کسی کو چھونے نہیں دیتے ورنہ زینب کی طرح مار کے گندے لوگ کچرے کے ڈھیر پر پھینک جاتے ہیں معصوم ذہن ایسی باتیں سوچ کے کتنا پریشان ہوا ہو گا۔ میں اس لڑکے کے بارے سوچنے لگی وہ نجانے کتنے بچوں کو تنگ کرتا ہو گا معصوم ذہنوں میں کیسے الجھے سوال اٹھتے ہوں گے۔
بچوں کی اخلاقی تربیت نا صرف اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ بلکہ والدین کا اوّلین فرض ہونا چاہیے۔ اپنے بچوں کو ہجوم میں سے گزرنے کے آداب سکھائیں۔ دوسرے بچوں کو نا مناسب انداز میں نہیں چھوئے خصوصا چھوٹے بچوں پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو مہنگے اسکول میں داخل کروا کے بھاری فیس ادا کر کے سمجھتے ہیں ہمارا فرض پورا ہو گیا۔ ہم اپنے بچوں کو اعلی لباس بھی پہناتے ہیں مہنگے ریسٹورانٹ سے اچھا کھانا بھی کھلا کے فخر محسوس کرتے ہیں۔
سلیٹ جتنے ٹیبلٹ بھی تھما دیتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کی گرومنگ کرنا بھول جاتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی ساری ذمداری بھی اسکول کی ہی سمجھتے ہیں۔ اپنے بچوں کی ذات کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں یہی چھوٹی عادتیں بڑے خلا بناتی ہیں عادتیں پختہ ہو جائیں تو ایڈکشن بن جاتی ہیں بچہ تجسس کے ہاتھوں مجبور اور جہاں دریافت کرتے کرتے غلط راہوں پر چل نکلتا ہے۔ ہم اپنی مصروفیت میں سے روزانہ کے دس منٹ بھی اپنے بچے کے ساتھ گزاریں۔
ا سے بات چیت کریں اس کی ذات میں ایک ایک خوبی کوانڈیلیں۔ اس کی شخصیت میں پڑنے والی چھوٹی چھوٹی دراڑوں کو پر کرنے کی کوشش کریں تو بڑے شگاف سے بچ سکتے ہیں۔ ہمارے روزانہ کے دیے گئے دس منٹ ہمارے بچے کی شخصیت کو قدآور بنا سکتے ہیں۔ اسے نکھار سکتے ہیں۔ والدین سے بچہ جو سیکھ سکتا ہے کوئی استاد یا اسکول نہیں سیکھا سکتا۔ اسی لیے گھر کو اولین درسگاہ کہا جاتا ہے۔ ہمارے بچے ہمارے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ خدا کا انمول تحفہ۔
ان کی حفاظت کرنا بر ے بھلے کی پہچان دینا۔ صیح غلط کی تمیز دینا والدین کا فرض ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی بنیاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ بیج بونے کے لیے اچھی نمودار زمین کی ضرورت ہے۔ دیکھ بھال توجہ پیار کا پانی دیں۔ اپنے لمس کی خوشبو دیں۔ ارد گرد اگنے والی خورد رو جڑی بوٹیوں کو تلف کرتے رہیں۔ ایسا تنا آور درخت پروان چڑہے گا جس کے اثرا ت آنے والی نسلوں تک ہوں گے۔
مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے یا نا لاؤ ے


