ٹی وی اور شفیق کے اماں ابا


ابا کے معصوم ذہن کو گمان ہوا کہ اماں کو شاید اپنی بدتہذیبی کا احساس ہو گیا ہے اور معذرت کی خواہاں ہیں۔ لیکن یہ تو ابا کی فقط خام خیالی تھی۔ اماں نے بات مکمل کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم سب کی اپنی اپنی پسند ہے اس لئے تین افراد کے لئے تین ٹی وی ہونے ضروری ہیں تاکہ ایک دوسرے کی پسند میں دخل اندازی بند ہو۔ ابا جواباً صرف جی کہہ سکے۔ شفیق نے دو ٹوک کہہ دیا اُسے ٹی وی نہیں چاہیے، میچ ہی دیکھنا ہوتا ہے وہ ڈرائینگ روم میں ہی دیکھ لیا کرے گا۔

دو روز بعد اماں کا ٹی وی ان کے کمرے میں اور ابا کا ٹی وی ان کی اسٹڈی میں نصب ہوگیا، جبکہ شفیق ڈرائینگ روم میں بیٹھا پاکستان اور آسٹریلیا کا دوسرا T 20 دیکھنے لگا۔ چند گھنٹوں بعد ابا اسٹڈی سے باہر آئے اور اپنا سر پکڑ تے ہوئے پریشانی کے عالم میں شفیق کے برابر آبیٹھے۔ شفیق نے کہا ابا محمد عامر کی اکانومی چیک کریں چار اوورز میں صرف 13 رنزاور دو وکٹ۔ ابا نے ایسے گھور کر دیکھا جیسے عامر کو 13 رنز بھی نہیں دینے چاہیے تھے۔

بولے تمھیں ملک کی اکانوی کی کوئی فکر ہے؟ ملک تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔ شفیق گھبرا گیا کہ اگر خدانخواستہ ملک واقعی تباہ ہوگیا تو یہ میچ یہیں روکنا پڑے گاکیونکہ ایک ٹیم تو آسٹریلیا کی ہوگی اور دوسری؟ ملک کی اکانوی کی فکر کرتے ہوئے ابا واپس اسٹڈی میں چلے گئے اور شفیق مستقبل کی فکر میں۔ شفیق گہری سوچ میں جاکر معاشیات کا گوہر نکالنے ہی والا تھا اماں نے اُسے سوچ سے ہی نکال لیا۔ وہ بُڑبڑاتے آرہی تھی کہ ”مرد ذات سے اچھا ہے انسان کتا پال لے کم از کم وفادار تو ہوگا“۔

شفیق نے اماں کی سہیلی بننے کی کوشش کی اور پوچھا، اماں ابا سے کوئی لڑائی ہوئی؟ بولیں تمھارا باپ کون سا آسمان سے اُترا ہے وہ بھی سہیل شاہ کی طرح کا ہی ہوگا۔ اماں کے منہ سے کسی غیر مرد کا نام اس بے تکلفی سے سُن کر شفیق کے غیرت نے انگڑائی لی اور وہ پوچھنے پہ مجبور ہوگیا کہ اماں یہ سہیل شاہ کون ہے؟ اماں نے نفرت سے کہا وہی بدنصیب ثانیہ کا شوہر، کمبخت سہیل شاہ۔ شفیق نے لمبی سانس لے کر غیرت کی انگڑائی کو دوبارہ نیند کی راہ دکھائی۔ اماں مردوں کی گھٹیا فطرت پہ چند ایک زنانہ قسم کی غیر فطری گالیاں دیتی وہاں سے چلی گئیں، شفیق نے دیکھا کہ میچ میں بارش شروع ہوگئی ہے اور گھڑی پہ کھانے کا وقت۔

مکمل خاموشی ہے شفیق کھانا کھاتے ہوئے پریشان ابا اور نفرت کی آگ جلتی اماں کو دیکھ رہا ہے۔ اُسے یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے اور ہوا بھی ایسا ہی۔ آغاز اماں کے حاکمانہ لہجے سے ہوا، ابا سے فرمانے لگیں میرا حق مہر مجھے ادا کردو۔ شفیق کو لگاشاید اُسکی غیر موجودگی میں طلاق واقع ہو چکی ہے، لیکن ابا کے جواب نے شفیق کو تقسیم ہونے سے بچا لیا۔ ابا نے کہا بیگم یوں اچانک؟ اور اتنی بڑی رقم کا آپ کیا کریں گی؟

اماں نے کہا یہ میرا حق ہے۔ ابا نے سوچتے ہوئے اثبات میں سر کوہلایا۔ اماں نے مزید فرمایا تم مرد عورت کو محتاج رکھنا چاہتے ہو، اُسکی پرواز کو ضرورت کے پنجرے میں قید کرکے، آزادی کو سلب کرتے ہو۔ شفیق اماں کی ڈائیلاگ ڈیلیوری سے متاثر ہوا اور ابا ششدر۔ اماں نے فیصلہ کُن انداز میں کہا کہ بہتر یہی ہوگا کہ آسانی سے حق مہر کی رقم دے دو، ورنہ میں عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتی ہوں، مجھے مجبور مت کرو۔ شفیق نے دیکھا کہ ابا مجبورو مسکین لگ رہے تھے۔

انہیں عزت کٹہرے میں کھڑی نظر آرہی تھی۔ ابا بولے بیگم پیسہ کاروبار سے نکالنا پڑے گا یہ نہ ہو۔ اماں نے جملہ کاٹ دیا کہنے لگیں اگر میراپیسہ کاروبار میں ہے تو منافع سمیت واپس کرنا پڑے گا۔ ابا فوراً انکاری ہوگئے۔ اماں فاتحانہ انداز میں وہاں سے چلی گئیں اور ابا شفیق سے مخاطب ہوئے۔ یار تمھاری اماں کو کیا ہوگیا ہے؟ ملک میں افراطِ زر کا دور دورہ ہے ایسے میں کاروبار سے رقم کیسے نکالوں؟ نہ جانے فسکل ڈیفیسٹ کب کنٹرول میں آئے گا، میں تو شئیرز بیچنے لگا ہوں۔

ابا اُٹھ کر چلے گئے اور شفیق سوچ رہا تھا اِن دونوں کو کیا ہو گیا ہے؟ شفیق نے بگڑتے حالات کو دیکھتے ہوئے دادی کو فون لگایا اور حالات بیان کیے۔ دادی نے ماہرانہ رائے دی کہ کوئی اِن دونوں کے کان بھر رہا ہے۔ فون بند کرنے کے بعد شفیق نے جاسوس بن کر مجرم تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے دبے قدم ابا کی اسٹڈی کے باہر پہنچا، دھیرے سے دروازہ کھولا تو ایک معروف صحافی کی آواز کانوں میں پڑی جو حکمرانوں کو بے حسی اور غریبوں کے لُٹ جانے اور مرجانے کا خوب شور کررہا تھا۔

ابا جواباً سگریٹ کے کشش کھینچ رہے تھے اور پروگرام کی بریک میں سر نا امیدی سے کرسی کی پشت سے ٹکا دیتے۔ اب باری تھی اماں کے کان بھرنے والے کی۔ اماں کے کمرے سے ”بدنصیب ثانیہ“ کی آواز آرہی تھی کہ میں نے وکیل سے بات کرلی ہے۔ شفیق نے دیکھا کہ وہ اپنے حقوق کی خاطر شوہر کے پرخچے اُڑا رہی تھی اور ساتھ میں ہلکا ہلکا رو کر مظلومیت کے پوائینٹس بھی حاصِل کر رہی تھی۔ جب کہ اماں ٹی وی کے اس طرف بیٹھے ”بدنصیب ثانیہ“ کا ساتھ یوں دے رہی تھیں جیسے ریسلر جان سینا کا ساتھ تماشائی دیتے ہیں۔ ”بدنصیب ثانیہ“ نے تو شوہر سے یہاں تک کہہ دیا کہ تم میری ہر بات بہت غور سے سُنتے ہو، بستر سے اُترنے سے پہلے تک۔ شفیق کو پتہ چل گیا کہ اس کے اماں ابا کے کان بھرنے والا واحد ولن ٹی وی ہے۔ شفیق نے کچن سے چھری اُٹھاتی اور کیبل آپریٹر کی بچھائی تار پر تاتاری بن کے ٹوٹ پڑا۔

اگلی صبح ناشتے کی میز اہم رہی۔ ابا نے بیٹھتے ہوئے کیبل والے کی گذشتہ اور آنے والی نسلوں کی خواتین کو موضوعِ گفتار بناتے خوب گالیاں دیں۔ شفیق نے کہا ابا یہ جس صحافی کا پروگرام آپ سُنتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ اُس نے ہر حکومت میں پلاٹ بنائے ہیں ا ور ٹیکس دینے کا بھی قائل نہیں۔ ابا نے چونک کر شفیق کی طرف دیکھا جیسے یہی آج کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز ہوگی۔ شفیق نے مزید کہا کہ اور جس چینل پہ آپ یہ پروگرام سُنتے ہیں اُسکا سیٹھ ملازمین کی کئی کئی ماہ کی تنخواہ نیچے لگائے رکھتا ہے اور جب چاہے نوکری سے فارغ کر دیتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3