ٹی وی اور شفیق کے اماں ابا


ابا نے بے یقینی سے کہا تم سچ کہہ رہے ہو؟ شفیق نے یہاں میرا حوالہ دیا کہ سجاد حیدر زیدی کئی نیوز چینلز میں نوکری کے بعد فارغ بھی کیا جا چکا ہے۔ شفیق کے ابا کو میری سچ گوئی پر یقین ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں میں شاعری بھی کرتا ہوں۔ شفیق نے کہا ابا ملک کے حالات ایسے بُرے بھی نہیں، جیسے یہ بے عمل مفکر دکھاتے ہیں۔ ابا نے کچھ سوچ کر کیبل آپریٹر اور اس کے خاندان کو دیے گئے القابات واپس لینے کا عندیہ دیا۔

ابھی شفیق کے ابا سدھرے ہی تھے دوسرے بگڑے ہوئے بڑے کی انٹری ہوگئی۔ اماں گردن تانے آئیں اور ابا پہ سرسری نظر ڈالتے ہوئے بیٹھ گئیں۔ اماں نے گفتگو کا کچھ یوں آغاز کیا ”تم نے رقم کا بندوبست کرلیا یا بھول گئے؟ تمھیں ویسے بھی رات کے وعدے یاد نہیں رہتے کیونکہ تم میری ہر بات بہت غور سے سُنتے ہو۔ “ شفیق جانتا ہے آگے جملہ کِن پوشیدہ لمحات کی طرف بڑھے گا چنانچہ وہ فون کان سے لگا کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔ اُسے یقین ہے کہ مرد پہ اس قدر ذاتی حملے کی تاب نہ لاتے ہوئے ابا نے مبلغ 30 لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کا چیک اماں کے حوالے کر دیا ہو گا۔

شفیق لان میں ٹہلتے ہوئے میرے وٹس اب کا منتظر تھا کہ ابا اُس سے نظر ملائے بغیر آفس کے لئے نکل گئے۔ میرے دونوں وٹس اپ ملتے ہی شفیق میں جیسے بجلی سی بھر گئی، وہ تیزی سے اندر کی جانب گیا۔ جہاں اماں ٹی وی آن کیے اور موڈ آف کیے بیٹھی ہیں۔ شفیق نے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں رات کیبل چلی گئی تھی ”بدنصیب ثانیہ“ کی قسط ادھوری رہ گئی۔ شفیق نے اعتماد سے سوال کیا اماں آپ ستارہ بنتِ فیروز کو جانتی ہیں؟ اماں کو یہ نام سُن کر جیسے سارے زمانے کی خوشیاں مل گئیں۔

کہنے لگیں ہاں ہاں یہ تو میری فیورٹ مصنفہ ہیں پہلے ڈائجسٹ میں لکھا کرتی تھیں اب ٹی وی پہ ریٹنگ لے رہی ہیں۔ یہ ”بدنصیب ثانیہ“ بھی انہی نے لکھا۔ شوہروں اورسسرالیوں کی بے رحمی اور چالاکیوں کو ایسے کھول کھول کر واضح کرتی ہیں کہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ شفیق نے موقع بھانپ کر سوال کیا اماں جب میری شادی ہوگی تو ہم سسرال والے، میں شوہر اور آپ ساس ہوں گی ناں؟ اماں کو چشم کشا جھٹکا لگا مگر یہ کہتے ہوئے پہلو بدل گئیں کہ شفیق ابھی تمھاری شادی کی عمر نہیں۔

اب باری تھی میری بھیجے ہوئے دونوں وٹس اپ کی۔ پہلے وٹس اپ میں کسی سستے سے سالانہ جریدے میں شادی کے بعد ستارہ بنتِ فیروز کا پہلا انٹرویو چھپا تھا۔ انٹرویو کے مطابق محترمہ شوہر کومجازی خدا مانتی ہیں۔ گھر داری ان کا مشغلہ اور جوائینٹ فیملی کو بچوں کی تربیت گاہ سمجھتی ہیں۔ موصوفہ نے اپنے باس سے شادی کی تھی لیکن اصولوں کی پکی ہیں اور محبت میں شراکت کی قائل نہیں اسی لئے باس کو مجبور کیا کہ پہلے پہلی زوجہ کو طلاق دیں۔

یہ اضافی معلومات شام کے اخبارات سے لی گئیں تھیں۔ پھر باری آئی وٹس اپ ویڈیو کی جس میں ستارہ بنتِ فیروز بیگ اُٹھائے کسی تقریب میں اپنے شوہر کے پیچھے پیچھے کسی بچے کی مانند چل رہی ہیں۔ اماں کے حقوقِ نسواں کا بُت تراشنے والی ستارہ بنتِ فیروز کا ذاتی مجسمہ پاش پاش ہو گیا۔ اماں نے شدتِ غم سے مٹھیاں بھینچ لیں لیکن پھر خیال آیا کہ بائیں مٹھی میں حق مہر کا چیک تھا۔ اتنے میں شفیق کے ابا کا فون آیا کہ پراپرٹی ڈیلرگھر دیکھنے آ رہا ہے۔

شفیق نے اماں کو پریشانی سے دیکھا۔ اماں نے فون پکڑتے ہوئے ابا کو تسلی دینے کی کوشش کی اور کہا ”آپ گھبرائیں نہیں میں آپ کے ساتھ ہوں“۔ اماں نے برسوں بعد ابا کو آپ کہا تھا لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اماں کے حق مہر کے چکر میں ابا کو اسٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے کافی شیئرز بیچنے پڑے یوں اسٹاک ایکسچینج کے ساتھ ہی کمپنی بھی بیٹھ گئی۔ اب معاملہ 30 لاکھ سے سنبھلنے والا نہیں تھا، مجبوراً پوش علاقے کا یہ بڑا مکان ہی کاروبار کو سنبھال سکتا تھا۔

چنانچہ مکان بک گیا اور شفیق مع اماں اور ابا واپس دادی کے پاس شفٹ ہوگئے۔ چوتھی منزل پہ دو کمروں والا مکان جہاں صرف ایک ٹی وی ہے۔ جب T 20 میچ آتا ہے تو سب میچ دیکھتے ہیں ورنہ عام دنوں میں اماں ظفر معراج کے لکھے ہوئے ڈراموں سے شریکِ حیات کے ساتھ شراکت کے ہنر سیکھتی ہیں۔ جبکہ شفیق کی دادی نے پورے گھر میں اعلان کر دیا ہے کہ بچوں کے ساتھ اماں اور ابا کے ٹی وی پروگراموں پہ نظر رکھی جائے کہیں کچھ غیر معیاری پروگرام ان کی اخلاقیات تباہ نہ کر دیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3