ٹی وی اور شفیق کے اماں ابا
میرا دوست شفیق اپنے نام کی طرح شفیق اور سلجھا ہوا لڑکا ہے اُسکی زندگی میں الجھن تب آئی جب وہ اور اس کے اماں ابا جوائنٹ فیملی کا جوائنٹ کھول کر پوش علاقے کے کھلے گھر میں آگئے۔ شفیق کی دادی نے بہت کوشش کی کہ اُنکا نورِ نظر نظروں کے سامنے رہے لیکن نورِ نظر کی منظورِ نظر زیادہ کار گر رہی اور ایسا ہو نہ سکا۔ شفیق کے ابا اچھا کماتے ہیں تو اب اندرون شہر کے دو دو کمروں کے چار منزلہ مکان میں تین بھائیوں کے ہمراہ رہنا مشکل ہوگیا تھا۔
چنانچہ شفیق کے اماں ابا نے بوریا بستر وہیں چھوڑا اور سپرنگ والے میٹریس پہ سونے یا جاگنے کے مزے لوٹنے گلبرگ شفٹ ہوگئے۔ شفیق کی اماں اس کشادہ مکان میں نقل مکانی پہ بے حد مسرور تھیں۔ شفیق ا پنے ہی اماں ابا کی اکلوتی اولاد ہے جس کی ایک ہی معقول وجہ سمجھ میں آئی ہے وہ شفیق کی اماں کے دماغ کا وہ کیڑا ہے جو اب ”اینا کونڈا“ بننے والا تھا۔ یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، کیونکہ یہاں نہ شفیق کی دادی کی کِل کِل تھی اور نہ ہی شفیق کے چچاوں کی خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے غفلتوں کی کلکاریاں۔ یعنی کہ چین ہی چین۔
اس پُر امن گھر کی پہلی سرد جنگ کا آغازموسمِ سرما کی ایک سرد شام میں ہوا۔ جب شفیق اور ابا پھڑپھڑاتے گیس ہیٹر کو پاس رکھے صوفوں پہ چوکڑیاں لگائے پاکستان اورآسٹریلیا کے مابین پہلے T 20 کی دوسری اننگز میں شعیب ملک اور عماد وسیم کی بیٹنگ سے لطف اُٹھا رہے تھے۔ سکور کچھ یوں تھا کہ پاکستان کو 33 گیندوں پہ 68 رنز درکار تھے۔ شفیق براہِ راست دونوں کھلاڑیوں کو مشورے بھی دے رہا تھا اور وہ دونوں سنیئر بلے باز بھی سعادت مندی سے شفیق کے مشوروں پہ عمل کررہے تھے۔
جہاں وہ سنگل کہتا سنگل لے لیتے اور جہاں شفیق کہتا گیند تماشائیوں میں پھینک دیتے۔ شفیق کے ابا نے بلے باز کی دسترس سے باہر کی ایک گیند کو امپائر کی جانب سے وائیڈ قرارنہ دینے پہ اُسے گالیوں سے بھی نوازا لیکن اس لغو گوئی کا امپائر کو پتہ نہیں چلا کیونکہ تب تک وہ اوور ختم کرنے کی آواز لگا کر دور لیگ امپائرکی پوزیشن پہ جا چکا تھا۔ میچ مکمل گرمی پہ تھا کہ ایک سرد لہجے نے کانوں میں خراشیں ڈال دیں یہ لہجہ تھا شفیق کی اماں کا اور سوال تھا ”تم لوگوں کا میچ ابھی ختم نہیں ہوا“؟
سوال میں ایسی رعونت تھی کہ شفیق کے ابا کو تو جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی، ان کا ماننا ہے کہ کم بولو تبھی عزت بچ سکتی ہے۔ ابا کے ہتھیاروں کو زمین بوس دیکھ کر مجبوراً شفیق نے جواب دیا، اماں بس ختم ہونے والا ہے پانچ اوور رہ گئے۔ جواب آیا پانچ اوور بہت ہوتے ہیں، شفیق نظریں ٹی وی پہ جمائے بولا جی اماں مجھے بھی لگتا جیسے دونوں مار رہے ہیں ایک اوور پہلے ہی میچ ختم کردیں گے۔ محکمہ موسمیات کی کے توقع کے خلاف بادل گرجے، دونوں ناظرین نے پہلے ایک دوسرے کو اور پھر بادل کو دیکھا۔
بادل یعنی اماں بولیں تم لوگوں کے میچ نے میری جان کھا رکھی ہے۔ تب جا کرشفیق کو سمجھ میں آیا کہ اماں کا وہ جملہ یعنی پانچ اوورز بہت ہوتے ہیں T 20 میچ پہ تبصرہ نہیں اُس سے نفرت کا اظہار تھا۔ بادل مزید گرجا، میچ بند کرو، پتہ نہیں ثانیہ، مسٹر ملک کے چنگل سے نکلی یا نہیں؟ جملے کا اختتام فکر مندی سے بھر پور تھا۔ شفیق نے ذرا سوچا اور جواب دیا اماں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ثانیہ بھابی قطعاً شعیب ملک کے چنگل میں نہیں وہ دونوں تو بہت خوش ہیں، ابا نے بھی شفیق کی تائید میں سر ہلایا۔
اماں نے بیزاری سے کہا میں اپنے پسندیدہ ڈرامے ”بدنصیب ثانیہ“ کی ہیروئین ثانیہ اور اس کے باس سلطان ملک کی بات کررہی ہوں۔ شفیق اور ابا پہ بجلی گری کیونکہ اماں کی شکستہ ودلگرفتہ بدنصیب ہیروئین کے چکر میں عماد وسیم کی ہٹ بانڈری لائن پہ کیچ ہوگئی۔ شعیب ملک اور عماد وسیم ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے جبکہ ابا اور شفیق کے پاس یہ آپشن بھی نہیں۔ امپائیر نو بال چیک کررہاتھا کہ اتنے میں اماں نے فیصلہ کُن NOکہہ دیا اور ریموٹ پکڑ کر بیٹھتے ہوئے ٹیشن ہی ختم کردی۔
ڈرامہ کے چینل پہ میچ سے بھی ٹینس گانا شروع تھا جس میں ایک عورت درد بھری آواز خدا کو پکار رہی تھی۔ بول کچھ یوں تھے کہ ”اے میرے خدا یہ کیسا نصیب ہے میرا۔ نہ توں ہی مِلا نہ وہ ہی مِلا“ نہیں پھر بھی کوئی گلہ ”وغیرہ وغیرہ۔ اماں کی حرکت تو بُری لگی لیکن شفیق کو اس گانے میں ایک بات اچھی لگی کہ سارے گلے کرنے بعد گلوکارہ نے کلیئربھی کردیا کہ کوئی خاص گِلہ بھی نہیں۔ جس ٹی وی پہ شفیق کچھ دیر پہلے کھلاڑیوں کو پچ کے کنارے بھاگتے دیکھ رہا تھا اب وہاں ثانیہ سڑک کے کنارے دوڑرہی ہے، اور اُسکا باس گاڑی میں بیٹھا ہاتھ مل رہا ہے۔
شفیق نے ایک نظر ابا پہ ڈالی تو وہ بھی بھاگتی ہوئی ہیروئین کو دیکھ کر ہاتھ مل رہے تھے۔ اماں کی ہیروئین اور ابا کے درمیاں کم ہوتے فاصلے پہ شفیق کا وہاں بیٹھے رہنا مناسب نہ تھا کیونکہ وہ دوڑتی ہوئی اسی جانب آرہی تھی۔ شفیق نے یہاں دو مختلف انسانی رویے دیکھے ایک اس کی اماں کا جو زیرِ لب باس کو کوس رہیں تھیں اور دوسرا ابا کا جن کی آنکھوں میں ثانیہ کے لئے احساس تھا۔ شفیق آسانی سے اس نتیجے پہ پہنچ گیا کہ عورتیں نفرت جبکہ مرد محبت کرنے کے قائل ہیں۔ شفیق نے کچھ سوچ کے سر جھٹکا اور گوگل پر سکور دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
رات کو کھانے کی میز پہ پہلے اور حتمی مذاکرات شروع ہوئے۔ اماں کا کہنا تھا کہ ہم سب بلکہ دنیا میں ہر انسان کو من مطابق زندگی جینے کا حق ہے، پہلے تو شفیق کو لگا کہ یہ بات غائبانہ طور پر دادی کو سُنائی گئی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ انسانوں کو ایک دوسرے پہ حقوق کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، معاشرت کے لئے۔ لیکن کھانے کی میز پہ معاملہ معاشرتی علوم کے بجائے ”بے بنیادی“ انسانی حقوق کا تھا۔ اماں نے کہا کہ مجھے اچھا نہیں لگا کہ تم لوگ میچ دیکھ رہے تھے اور میں نے ڈرامہ لگا لیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


