خواتین مردوں سے زیادہ عمر کیسے پاتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 14
  •  

نیپالی خواتین روایتی لباس میں

نیپال سمیت دنیا بھر میں خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ عمر پاتی ہیں

دنیا بھر میں مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ عمر پاتی ہیں۔

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے مطابق سنہ 2016 میں عالمی سطح پر دنیا کی آبادی کی اوسط عمر 72 سال تھی لیکن جب اسے مردوں اور خواتین میں تقسیم کیا گیا تو خواتین کی عمر 74 سال دو ماہ ٹھہری جبکہ مردوں کی اوسط عمر 69 سال اور آٹھ ماہ سامنے آئی۔

سنہ 2010 کی مردم شماری کے مطابق امریکہ میں 53،364 افراد کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی جن میں صرف 9،162 افراد مرد تھے جبکہ باقی 44،202 خواتین تھیں۔

سنہ 2018 میں روم کے میئر سے ملاقات کے دوران صد سالہ افراد
مردوں سے زیادہ خواتین کا اپنی 100ویں سالگرہ منانے کا امکان ہے

تو آخر خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں زندہ رہتی ہیں اور ان کی اس سبقت کی وجہ کیا ہے؟

آئیے ہم یہاں تین اہم وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں:

1. جین

انسانی شرح اموات کے اشاریے میں فی الحال 40 ممالک کے اعدادو شمار موجود ہیں جن میں سویڈن اور فرانس کے اعدادوشمار بھی شامل ہیں جو کہ بالترتیب سنہ 1751 اور 1816 سے موجود ہیں۔

جبکہ جاپان اور روس جیسے ممالک کے اعدادوشمار 20ویں صدی کے نصف سے ہی دستیاب ہیں۔

بہرحال تمام ممالک میں جمع ہر سال کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیدائش پر خواتین کی طویل عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

بظاہر ایسا معلوم پڑتا ہے کہ روز ازل سے ہی مرد اپنی جینیاتی بناوٹ کے سبب نشانے پر ہیں۔

جینین

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر ڈیوڈ جیمز نے کہا: ‘نر جینین مادہ جینین کے مقابلے زیادہ شرح میں مرتے ہیں۔’ اس کی ایک ممکنہ وجہ وہ کروموزوم ہو سکتے ہیں جو ہماری جنس کا تعین کرتے ہیں۔ خوااتین میں دو ایکس (XX) کرموزوم ہوتے ہیں جبکہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائی (XY) کروموزوم ہوتے ہیں۔ اور انھی کروموزوم میں جین ہوتی ہے۔ ایکس کروموزوم میں بہت ساری جینز ہوتی ہیں جو آپ کو زندہ رہنے میں معاون ہوتی ہیں۔

بی بی سی کے کراؤڈ سانئس ریڈیو پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ جیمز نے بتایا: ‘اگر آپ میں جینیاتی طور پر کوئی نقص ہے اور آپ خاتون ہیں تو آپ کے پاس بیک اپ ہے لیکن اگر آپ مرد ہیں تو آپ کے پاس کوئی بیک اپ نہیں ہے۔’ ایکزیٹر یونیورسٹی کی پروفیسر لورنا ہیریز کہتی ہیں کہ ‘دیر سے حمل ٹھہرنے کے معاملے میں لڑکوں کے مرنے کا خدشہ 20 سے 30 فیصد ہوتا ہے۔ اور ان کے وقت سے پہلے پیدا ہونے کے امکانات بھی 14 فیصد زیادہ ہیں۔ مرد بچے عام طور پر سائز میں بڑے ہوتے ہیں اس لیے پیدائش کے وقت ان کو چوٹ لگنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔’

چڑیوں میں نر کے پاس دو ایکس کروموزوم ہوتے ہیں اور وہ مادہ چڑیوں سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔

2. ہارمونز

عنفوان شباب کی عمر میں بچے ہارمونز میں تبدیلی کے سبب لڑکی اور لڑکے کی شکل میں بڑھتے ہیں۔

کابل کے ایک قبرستان میں دو خواتین

جنگوں میں بھی مردوں کی زیادہ اموات ہوتی ہیں

مردوں والی صفات کا انحصار زیادہ تر ٹیسٹیسٹرون پر ہوتا ہے جیسے آواز کا بھاری ہونا، سینے پر بال آنا وغیرہ۔ مردوں میں موت کی شرح ٹیسٹیسٹرون میں ابال کے وقت بڑھ جاتی ہے اور یہ زمانہ ٹین ایج کے آخری برسوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ مردوں کے زیادہ خطرے والے کام جیسے مار پیٹ، کار اور بائیک کو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ چلانا اور خودکشی وغیرہ بھی ہیں۔

چند سال قبل کوریا کے سائنسدان ہان نام پارک نے 19ویں صدری سے چو سُن خاندان کے شاہی دربار کے ریکارڈز کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ انھوں نے 81 خواجہ سراؤں کی بھی جانچ کی جن کے فوطوں کو سن بلوغ کو پہنچنے سے قبل ہی نکال لیا گيا تھا۔ ان کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان خواجہ سراؤں نے تقریباً 70 سال کی عمر پائی جبکہ دربار کے دوسرے مردوں کی اوسط عمر 50 سال ہی تھی۔ جبکہ تین خواجہ سرا نے اپنا 100واں یوم پیدائش بھی منایا۔

بہر حال اس کے تعلق سے تمام مطالعوں میں یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ خواجہ سرا عام مردوں کے مقابلے میں اس قدر زیادہ جیتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ بغیر فوطے والے (انسان اور جانور) نسبتاً زیادہ دن جیتے ہیں۔ خواتین کے جنس والے ہارمون اوسٹروجین کو اینٹی آکسیڈنٹ پایا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے زہریلے کیمیائی مادے کو صاف کرتا ہے جس سے خلیوں پر دباؤ پڑتا ہے۔

جانوروں پر جو تحقیق کی گئی ہے ان سے پتہ چلتا ہے کہ جن مادوں میں اوسٹروجین نہیں ہوتا وہ ان کے مقابلے زیادہ دن نہیں جیتیں جن کا آپریشن کر دیا گیا ہے۔ یعنی یہ مردوں میں خواجہ سراؤں کے بالکل الٹ ہے۔ سپین میں سنہ 2005 میں محققوں نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا جس میں ثابت کیا گیا تھا کہ اوسٹروجین عمر سے منسلک جین کے ساتھ ساتھ زہر کش اینزائم کو بھی جلا بخشتے ہے۔ اوسٹروجین خراب کولیسٹرول کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کرتا ہے اور اس طرح یہ دل کی بیماریوں سے کچھ حد تک حفاظت فراہم کرتا ہے۔

3. پیشہ اور برتاؤ

کشیدگی والے خطے میں مردوں کی طویل عمر میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ لیکن جن علاقوں میں طبی سہولیات کم ہیں وہاں خواتین بچے کی ولادت کے دوران مرتی ہیں۔ سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور حد سے زیادہ کھانا کھانا بھی چند ایسے عوامل ہیں جو صدیوں سے عورتوں اور مردوں کی عمر کے فرق کو بڑھاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر روس کے مردوں کو وہاں کی خواتین کے مقابلے میں 13 سال پہلے مرنے کا خدشہ رہتا ہے اور اس کا جزوی سبب بلا نوشی ہے۔

لمبی لیکن صحت مند نہیں

لیکن یہ صرف یکطرفہ سبقت یا برتری نہیں ہے۔ ہر چند کہ خواتین زیادہ دنوں تک جیتی ہیں لیکن وہ اپنی عمرکے آخری مرحلے میں بیماریوں سے زیادہ پریشان رہتی ہیں۔ مختلف ممالک میں 16 سے 60 سال کے درمیان کی خواتین اسی عمر کے مردوں کے مقابلے میں ڈاکٹر کے پاس زیادہ جاتی ہیں۔

الاباما یونیورسٹی کے سٹیون این آسٹڈ اور کیتھلین ای فیشر نے سیل پریس نامی طبی جریدے میں شائع اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ‘مغربی معاشرے میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین ڈاکٹروں کے پاس جاتی ہیں، زیادہ دوا لیتی ہیں، طبی وجوہات کی وجہ سے زیادہ دن کام سے چھٹیاں لیتی ہیں اور ہسپتالوں میں زیادہ دن گزارتی ہیں۔’

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش، چین، مصر، گواٹےمالا، انڈیا، انڈونیشیا، جمیکا، ملائیشیا، میکسیکو، فلپائن، تھائی لینڈ اور تیونس میں خواتین کو بڑھاپے میں زیادہ جسمانی پریشانیاں ہوتی ہیں۔

فرق کم ہو رہا ہے

حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مستقبل قریب میں مرد اور خواتین کی طویل عمر میں جو فرق ہے کم ہو جائے گا۔

برطانیہ کے ایک سکول میں بچے
برطانیہ میں آنے والی دو دہائیوں میں مردوں اور خواتین کی عمر کے فرق میں کمی آ جائے گی

امپیریئل کالج لندن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں سنہ 2030 میں خواتین اور مردوں کی عمروں میں صرف پونے دو سال کا فرق رہ جائے گا۔ قومی شماریات سٹیٹسٹکس کے دفتر کے مطابق آج اگر برطانیہ میں ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اس کے 79 سال اور دو ماہ جینے کا امکان ہے جبکہ اگر لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اس کے 82 سال نو مہینے جینے کا امکان ہے۔ کاس بزنس سکول میں شماریات کے پروفیسر لیس میہیو کی رہنمائی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2032 تک مرد اور خواتین کی عمر تقریباً برابر ہو جائے گی۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے لیس میہیو کے حوالے سے لکھا ہے کہ ‘تمباکو نوشی اور شراب نوشی میں کمی نے مردوں کو بے تحاشا فائدہ پہنچایا ہے کیونکہ خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ شراب نوشی اور تمباکو نوشی کی جانب مائل رہے ہیں۔’ انھوں نے مزید کہا: ہم لوگوں نے دل کی بیماریوں سے نمٹنے میں بہت ترقی کی ہے جو کہ مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔’ اور جن ممالک میں سڑکوں سے منسلک حادثے کم ہو رہے ہیں وہاں بھی مردوں کی زندگی میں اضافی عمر شامل ہو رہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 14
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8064 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp