کیا صرف میری ایک کمی ہی میری شناخت ہے؟
آیئے آج دیکھتے ہیں کہ کس قسم کی جگہ پہ کس قسم کی بلئینگ پائی جاتی ہے۔ اسکولوں میں عموما جسمانی ساخت، رنگ، ذات کی بنیاد پہ مذاق اڑانا سب سے عام ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اساتذہ طلبہ کو روکنے کی بجائے مختلف طریقوں سے خود بھی اس نامناسب فعل کا حصہ ہوتے ہیں۔ اپنے لیکچر کو ہلکا پھلکا بنانے کے لئے کسی موٹے یا دبلے بچے پہ کمنٹ کردینا کسی بچے کے نکمے ہونے کو بار بار زیر بحث لانا کسی بچے کے بات چیت کے انداز کی وجہ سے اسے بار بار احساس دلانا کہ وہ مکمل لڑکا یا لڑکی ہے اور اسے ایسا ہی رویہ رکھنا چاہیے اساتذہ کی طرف سے کی جانے والی بلئینگ ہے۔
کسی زیادہ ذہین بچے کے بلاوجہ نمبر کاٹ لینا اس کی غلطی بنا کر کلاس کے سامنے بے عزت کرنا بلئینگ کا ایسا طریقہ ہے جو کسی بھی ذہین بچے کی زندگی برباد کر دیتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں سوچنے اور سوال کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی بجائے انہیں پیچھے رکھنے کے لیے اوپر بیان کیے گئے حربے استعمال کیے جاتے ہیں اور بچے اپنی عزت نفس بچانے کے لئے سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور ہم حیران ہوتے ہیں کہ امتحان میں کم مارکس آئے تو اتنی سی بات پہ بچے نے خودکشی کیوں کرلی یا تعلیم کیوں چھوڑ دی۔
اسکولوں کی بلئینگ زدہ ماحول میں بچے آہستہ آہستہ تعلیم میں دلچسپی گنواتے جاتے ہیں۔ بلئینگ کا شکار بچوں کو اسکول سے خوف آنے لگتا ہے۔ ہر لمحہ بے عزتی یا مذاق اڑائے جانے کا خوف ان کی ہر صلاحیت ختم کردیتا ہے۔ اسکول انتظامیہ کی حیثیت سے پرنسپل اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ اول تو خود کسی بھی قسم کی بلئینگ سے گریز کریں۔ ایک ایسی کمیٹی بنائیں جو ایسے اساتذہ پہ مشتمل ہو جو بچوں کی نفسیات سمجھتے ہیں اور نرم مزاج رکھتے ہیں۔
بلئینگ کا شکار بچے کا مسئلہ سن کر سب سے پہلے ان بچوں کو الگ کیا جائے اگر ایک سیکشن میں ہیں تو سیٹس دور رکھی جائیں، یا سیکشن تبدیل کیا جائے، بلئینگ کرنے والے بچے کو سزا دینے کی بجائے یہ پتا کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ بچہ خود ایسے کون سے مسئلے کا شکار ہے جس کی بنیاد پہ وہ اس منفی عادت میں مبتلا ہوا۔ جہاں تک ممکن ہو اس بچے کی مدد کریں۔ اب ہم ایک اور قسم کی بلئینگ پہ بات کرتے ہیں مگر پہلے ذرا یہ کیس دیکھیے۔
شہلا ایک 35 سالا کنواری خاتون ہیں جو کہ ایک نجی ادارے میں کچھ عرصے سے دفتری کام کی جاب پہ مامور ہیں۔ شہلا کا رنگ دبتا ہوا ہے بلکہ صاف الفاظ میں کہا جائے کہ کالا ہے اور خود کو محفوظ رکھنے کی خاطر وہ سادہ لباس کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کی عموما کولیگز ان کو اس بات پہ ٹوکتی رہتی ہیں کہ انہیں ”اپ ٹو ڈیٹ“ رہنا چاہیے کیونکہ ان کی اب تک شادی نہ ہونے کی وجہ ان کی کم صورتی ہے۔ کئی مذاق میں ان سے کہتی ہیں کہ کسی دن کوئی چھیڑے تو شکر کیا کرو ورنہ تمہیں کون دیکھتا ہوگا۔
کئی دفعہ کسی مرد کولیگ سے بات کرنے کے بعد ان کی خواتین ساتھی ورکرز نے شاباشی نما مذاق اڑایا کہ ’اسے ”پھنسا“ لو تو لائف سیٹ ہوجائے گی ویسے تو رشتے آتے نہیں تمہارے‘ ۔ شروع میں شہلا ایک نمایاں صلاحیت رکھنے والی ورکر تھیں مگر اس قسم کی باتیں شہلا کی روزمرہ کی کارکردگی پہ اثر انداز ہونے لگیں اور اب روز کام میں کئی غلطیاں کرجاتی ہیں۔ آفس میں وہ دوست بنانے سے کتراتی ہیں گھر والوں سے چھپ کر وہ کئی رنگ گورا کرنے والی کریمیں خریدتی رہتی ہیں مگر تنخواہ کم ہونے کے باعث سستی کریمیں ہی خرید پاتی ہیں کچھ عرصے سے چہرے پہ جلن کے ساتھ ساتھ کالے نشان پڑنے شروع ہوگئے ہیں۔
آفسز یا کام کی جگہوں کچھ الگ اقسام کی بلئینگ نظر آتی ہے مذاق اڑانا تو شاید ہمارا معاشرتی مزاج بن گیا ہے مگر آفسز میں اس کے علاوہ جنسی نوعیت کے اعتراضات افواہیں پھیلانا اور سازشیں کرنا بلئینگ میں آتا ہے۔ خواتین کو سب سے زیادہ جنسی نوعیت کی بلئینگ کا سامنا ہوتا ہے جس میں ان کے لباس پہ تنقید، ان کی مرد کولیگز سے بات چیت پہ تنقید یا انہیں ڈرا کر دوستی پہ مجبور کرنا شامل ہیں۔ اس کے لیے عموماً بدنام کرنے کی دھمکی کا سہارا لیا جاتا ہے جو کارگر بھی رہتا ہے۔
مردوں کو البتہ عموماً سازش کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں ایک سروے کے مطابق خواتین انچارج عموماً خواتین ماتحتوں کو زیادہ تنقید اور دوسری اقسام کی بلئینگ کا نشانہ بناتی ہیں اور مرد انچارج مرد ماتحتوں کو۔ اس میں عمومی وجہ پیشہ ورانہ حسد یا ذات برادری کی بنیاد پہ تحقیر ہوتی ہے۔ آفس میں بلئینگ سے بچنے کا طریقہ اول تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے دور رہا جائے جو افواہیں پھیلا سکتے ہیں یا مذاق اڑاتے ہیں۔
اگر منیجمنٹ مددگار ہے تو فورا اپنا مسئلہ اس سے بیان کیا جائے۔ جنسی طور پہ ہراساں کیے جانے کی صورت میں یا مار پیٹ کی صورت میں پولیس سے رابطہ ضرور کریں۔ تنگ کرنے والے پہ بالکل ظاہر نہ کریں کہ آپ ان کے حربے سے ڈر رہے ہیں۔ عموماً لوگ صرف ہمارا چڑنا یا گھبرانا دیکھ کر اپنے مذاق کو مزید سنگین کرتے چلے جاتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ دوسرا بندہ کس ذہنی تکلیف سے گزر رہا ہے۔ ایسے افراد کی بات پہ شدید ردعمل دکھانے سے وہ لوگ مزید لطف لیتے ہیں اور دوبارہ وہی عمل دہراتے ہیں جب کہ ان کی بات کو سنجیدگی سے نظر انداز کردیا جائے تو مزید بات بڑھانے سے گریز کرتے ہیں کیوں کہ انہیں ”مزہ“ نہیں آیا۔
اور اگر اس روئیے کے بعد بھی نامناسب رویہ جاری رہے تو باقاعدہ کمپلین کرنا ضروری ہے۔ اب آتے ہیں ایک اور قسم کی بلئینگ کی طرف پچھلے سال فیصل آباد کے علاقے منصور آباد میں ایک چچا نے اپنی سگی تین سالہ بھتیجی کو نہر میں پھینک دیا جس سے وہ بچی ڈوب کر مرگئی۔ مزید تفتیش پہ چچا نے بتایا کہ اس کا بڑا بھائی اسے سب گھر والوں کے سامنے مارتا تھا اور بھائی کے بچے اس کا مذاق اڑاتے تھے جو اس سے برداشت نہیں ہوا۔ اخبار نے اس واقعے کو عدم برداشت کا نتیجہ کہا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



