کیا صرف میری ایک کمی ہی میری شناخت ہے؟


 آپ کا کیا خیال ہے کیا واقعی یہ چچا کی عدم برداشت تھی یا بڑے بھائی کا نامناسب رویہ؟ یہ بلئینگ کی ایک سب سے حساس قسم ہے یعنی گھر پہ کی جانے والی بلئینگ۔ والدین بہن بھائیوں یا سسرال والوں کی طرف سے مذاق اڑایا جانا، بار بار کسی جسمانی، معاشرتی یا صلاحیتی کمی پہ تنقید کرنا، جسمانی تشدد یہ سب کسی بھی شخص کی شخصیت پہ ناقابل تلافی اثر ڈالتے ہیں۔ عموما اسکول اور آفس میں بلئینگ کا شکار ہونے والے گھر پہ بلئینگ کا شکار بھی ہوتے ہیں اور یہی وہ وجہ ہوتی ہے کہ وہ گھر والوں سے مدد نہیں لے پاتے۔

 گھر والے ان کی مدد کی بجائے ان کی ہی غلطی سمجھ کر یا تو انہیں مورد الزام ٹہراتے ہیں یا خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ پاکستان میں والدین معاشرتی دباؤ میں آکر اپنے بچوں کو تمام عیبوں سے مبرا بنانا چاہتے ہیں۔ کچھ والدین بچوں میں موجود جسمانی یا ذہنی کمی کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں اور برملا بار بار اس بات پہ زور دیتے ہیں کہ بچے میں یہ کمی نہیں ہے اور بچے کو وہ سب کرنے پہ مجبور کرتے ہیں جو اس کے بس کی بات ہی نہیں۔

 دوسری طرف کچھ والدین اس بات کا ادراک کر کے کہ بچے میں کوئی جسمانی ذہنی یا معاشرتی کمی ہے وہ بچے کو ”سدھارنے“ کے لیے مسلسل ناقابل عمل ہدایات دیتے ہیں جو بچے کے لیے ذہنی تکلیف کا باعث بنی رہتی ہیں اور نتیجتاً یا تو بچہ ضدی ہو جاتا ہے اور کوئی بات نہیں مانتا یا پھر کچھ بھی کرنے سے ڈرنے لگتا ہے۔ شاید آپ یہ سوچیں کہ آخر والدین اپنی اولاد سے یہ منفی سلوک کیوں کریں گے تو اس کی بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں ہماری ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ تمام والدین ہمیشہ اولاد کا بھلا چاہتے ہیں جبکہ منطقی نظر سے دیکھا جائے تو ایسا نہیں ہوتا۔

 والدین بھی اولاد سے حسد کا شکار ہوسکتے ہیں مثلا اولاد میں اگر وہ صلاحیت ہے جس کی بنیاد پہ ماں یا باپ کو اپنی زندگی میں بلئینگ سہنی پڑی تو وہ لاشعوری طور پہ اولاد کی اس صلاحیت سے حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بیٹے کی خواہش کے وقت بیٹی کا پیدا ہوجانا یا بیٹی کی خواہش پہ بیٹے کا پیدا ہوجانا یا پھر نا چاہتے ہوئے اولاد کا دنیا میں آجانا اولاد کو ان چاہا اور بوجھ بنا دیتا ہے جس کا اظہار والدین کے رویئے سے ظاہر ہونے لگتا ہے۔

 کبھی کبھی مائیں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہوکر پیدا ہونے والے بچے کو اپنی پریشانی کی وجہ سمجھنے لگتی ہیں اور ماں کا مناسب علاج نا ہوپانے کے باعث اس اولاد سے مستقل منفی جذبات ماں کے دل میں جاگزیں ہوجاتے ہیں۔ باپ کا کسی خاص اولاد سے منفی رویئے کی وجہ باپ کا ماں پہ شک کرنا بھی ہوتا ہے جس کے باعث وہ ہمیشہ اس شش و پنج میں رہتا ہے کہ یہ اسی کی اولاد ہے یا نہیں اور اسے وہ بچہ غیر ضروری بوجھ لگتا ہے۔ سب سے عمومی وجہ والدین کا شدت سے یہ چاہنا کہ جو پریشانی ہم نے دیکھی وہ ہماری اولاد نا دیکھے اور وہ خود پہ جبر کر کے ان سے سخت رویہ اپناتے ہیں تاکہ معاشرے میں اچھے والدین کہلائے جاسکیں اور ان کی اولاد کی باتہذیب، ذہین، باصلاحیت یا خوبصورت ہونے کی وجہ سے تعریف ہو۔

 تعلیم اور آگہی کی کمی کے باعث ان کی نیک نیتی منفی رویئے کا شکار ہوجاتی ہے اور نتیجے میں اولاد کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ بلئینگ میں بلئینگ کرنے والا اور اس کا شکار ہونے والے کے تعلق میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ہر جگہ بلئینگ کرنے والا کسی نا کسی پہلو سے بلئینگ سہنے والے پہ زبردست ہوتا ہے اور اسی کا وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اب سب سے آخر میں سوال آتا ہے کہ بلئینگ کو ختم کیسے کیا جائے۔ تو اب ہم آخر سے پہلے کی جانب چلتے ہیں یعنی سب سے اہم ہے گھر پہ، گھر والوں کا رویہ نیک نیت والدین کو سمجھانا آسان ہے کیونکہ بہرحال وہ اولاد کا بھلا چاہ رہے ہیں۔

 باقی اقسام کے والدین کے لئے آس پڑوس کے لوگوں کو اپنا اخلاقی فرض نبھانا ضروری ہے تاکہ انہیں ان کے منفی رویئے کا بار بار احساس دلایا جاسکے۔ ایک بات کا خیال رکھیں بچوں کو گھر سے اعتماد دیں ان سے بغیر کسی وجہ کے پیار کریں۔ چاہے وہ موٹے ہیں، دبلے ہیں، کالے ہیں، پڑھائی میں کمزور ہیں، لڑکی ہونے کے باوجود خوبصورت نہیں، یا لڑکا ہونے کے باوجود نازک اندام ہیں۔ انہیں یقین دلائیں کہ ان کی اہمیت ان کی جسمانی ساخت ذہنی صلاحیت حد یہ کہ تمیز اور بدتمیزی کی وجہ سے نہیں۔

 انہیں اپنی صلاحیتیں ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ اتنا اعتماد دیں کہ بلئینگ کا شکار ہونے پہ وہ فورا آپ کو بتا سکیں۔ بچوں کے لیے اہم ہدایات میں سب سے اہم کچھ باتیں یہ ہیں کہ انہیں سکھائیں کہ بلئینگ کرنے والے سے دور رہیں ہاتھا پائی سے گریز کریں اور ایسے لوگوں کے ساتھ رہیں جو مثبت رویہ رکھتے ہیں۔ بچوں کو بتائیں کہ دوستی ایسے بچوں سے کرنی چاہیے جو دوسروں کا مذاق نہیں اڑاتے اور دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اس طرح بچے خود بہ خود بلئینگ کرنے والے بچوں سے دور رہیں گے بلئینگ کا شکار شخص اگر ذہنی طور پہ زیادہ دباؤ کا شکار ہے تو اپنی طور پہ مشورہ دینے کی بجائے اول کام یہ کریں کہ اس بچے یا بالغ کو کسی ماہر نفسیات سے ملوائیں تاکہ اس کا مسئلہ صحیح طریقے سے حل ہوسکے۔ ذہنی اورخاص کر معاشرتی مسائل کا حل کبھی بھی کسی ایک بندے کی ذمہ داری نہیں ہوتی جب تک ہم سب اپنی اپنی جگہ اپنا مثبت کردار ادا نا کریں اس قسم کی منفی رویئے کم ہونا مشکل ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima