زمین سے بڑے پیمانے پہ زندگی کا خاتمہ ہو نے کا خطرہ


اگر اسی رفتار سے جنگلات کی کٹائی جاری رہی تواگلے 100 سال سے بھی کم عرصے میں زمین سے تمام رین فاریسٹ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ درخت گرین ہاؤس گیسوں کو جذب کرتے ہیں اور تیزی سے درختوں کی کٹائی گلوبل وارمنگ میں اضافے کا باعث ہے۔ جنگلات جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے میں مددگار ہیں وہیں پر جنگلات خشکی پر بسنے والے 80 فیصد جانوروں اور پودوں کی رہائش گاہ ہیں۔ جنگلات کی کٹائی حیاتیاتی تنوع میں تبدیلی کا باعث ہے۔ سالانہ 4000 سے 6000 جانداروں کی نسلیں جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے معدوم ہو رہی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کی وجوہات میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بننا، کاغذ اور فرنیچر کی صنعت، پام آئل کی پیداوار اور جانوروں کی فارمنگ شامل ہیں۔

کسی بھی عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا اخراج اس کا ”کاربن فٹ پرنٹ“ کہلاتا ہے۔ معدنی تیل کے جلنے میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج ہوتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ کاربن کا اخراج کرنیوالا ملک چین ہے جس کا اخراج پوری دنیا کا 29.5 فی صد بنتا ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جو چین کے آدھے سے بھی کم کاربن خارج کر رہا ہے۔ دس بڑے کاربن کا اخراج کرنیوالے ممالک مل کر پوری دنیا کا 67.6 فیصد کاربن خارج کرتے ہیں۔

کاربن کا اخراج گلوبل وارمنگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ چونکہ گرین ہاؤس گیس ہے اس لئے وہ سورج کی تپش کو روک کر واپس خلا میں جانے نہیں دیتی اور زمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھتا جاتا ہے۔ درجہ حرات بڑھنے سے سمندروں کی کاربن کو جذب کرنے کی سکت کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے اور یہ عمل مسلسل شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ کاربن کا اخراج تیزابی بارش کا باعث بھی ہے جو انسانوں، پودوں اور جانوروں سب کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔

اوزون گیس سطح زمین سے 15 سے 30 کلومیٹر اوپر قدرتی طور پر ایک ڈھال کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ سورج سے آنے والی الٹرا وائلٹ بی مضر شعاعوں کو روکتی ہے۔ ایسی آلودگی جس میں کلورین اور برومین شامل ہو ’اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے کی وجہ بنتی ہے۔ الٹرا وائلٹ بی شعاعیں زمین پر انسانوں میں جلد کے کینسر اور آنکھوں کے موتیا کا سبب بنتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ جانوروں کے لئے بھی نقصان دہ ہو تی ہیں۔ الٹرا وائلٹ بی شعاعیں یک خلوی جانداروں جیسی الجی کے تولیدی عمل میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔

الجی، جو غذائی کڑی میں سب سی نچلے درجے پر آتی ہے، کی تولید میں کمی دوسرے جانوروں کی آبادی میں کمی کا باعث ہوگی۔ جہاں الٹرا وائلٹ بی شعاعیں زیادہ پائی گئی ہیں وہاں مچھلیوں اور مینڈکوں کی تولید میں بھی کمی ہوئی ہے۔ اوزون کہ تہہ کو سب سے زیادہ نقصان ”CFCs“ یعنی کلورو فلوروکاربن پہنچاتے ہیں۔ جب یہ زمین کی اوپری سطح پر پہنچتے ہیں تو الٹرا وائلٹ کی وجہ سے ٹوٹ جاتے ہیں اور کلورین خارج کرتے ہیں۔ کلورین آکسیجن کے ساتھ عمل کرکے اوزون کے مالیکیول توڑ دیتی ہے۔

کلورین کا ایک ایٹم اوزون کے ایک لاکھ مالیکیولوں کو توڑ دیتا ہے۔ ماحول میں موجود 90 فیصدکلورو فلورو کاربن امریکہ اور یورپ کے صنعتی ملکوں کی وجہ سے ہیں۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں ان مادوں پر پابندی کے عالمی معاہدوں کے تحت اوزون کے نقصان میں کمی ہوئی ہے اور تازہ جائزوں کے مطابق اوزون کی تہہ میں پڑنے والے وسیع شگاف اب دوبارہ بھر رہے ہیں۔ لیکن شگاف بھرنے کا یہ عمل اگلے سو سال میں کہیں جا کے مکمل ہو گا۔ علاوہ ازیں ان مادوں کے اخراج سے ہٹ کے بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ گلوبل وارمنگ سے اوزون کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا انتہائی موثر شکلوں میں بھی ایسی پابندیوں اور معاہدوں کی اپنی حدود و قیود ہیں۔

کان کنی کی وجہ سے ماحول کو ہونے والے نقصانات میں سنک ہول (زمین کا ایک گول سوراخ کی شکل میں منہدم ہو جانا) ، حیاتیاتی تنوع میں تبدیلی، زیرِ زمین اور زمین کی سطح کے اوپر پانی کی آلودگی وغیرہ شامل ہیں۔ کان کنی میں ملوث کمپنیاں خطرناک کیمیائی مادے استعمال کرتی ہیں جنہیں قرب و جوار کے ماحول میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی منافعوں کی ہوس انسان اور دھرتی ’دونوں کے لئے خطرے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض دفعہ کان کنی زیرِ زمین پانی کی سطح سے بھی نیچے جا کر کی جاتی ہے اور اس دوران کانوں میں پانی بھر جانے کے خطرے کے پیش نظر مسلسل پانی باہر نکالا جاتا رہتا ہے۔

اس دوران اس پانی کے ساتھ دھات یا اس عنصر کے باریک ذرات جس کی کان ہو باہر ماحول میں شامل ہوتے جاتے ہیں۔ پھر جب یہ کانیں متروک ہو جاتی ہیں تو انہیں باقاعدہ پتھروں سے بھرنے کے بجائے خالی چھوڑ دیا جاتا ہے اور دوبارہ ان میں پانی بھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ پانی زیرِ زمین رستا ہوا ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتا ہے اور جہاں جہاں پہنچتا ہے وہاں وہاں زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرتا جاتا ہے۔

ایٹمی تاب کاری انسانوں اور جانوروں پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتی ہے اور کینسر اور پیدائشی نقائص کا باعث بنتی ہے۔ ایٹمی تابکاری پودوں کے تولیدی ٹشوز کو بھی متاثر کرتی ہے اور پودے دو سے تین سال تک بھی تولیدی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایٹمی پلانٹ کی تنصیب کے دوران کثیر مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج ہوتی ہے اور پلانٹ کو چلانے کے دوران اسے ٹھنڈا رکھنے کے لئے بہت بڑی مقدار میں پانی استعمال کیا جاتا ہے جو قریبی پانی کے ذخیرے (دریا یا جھیل) سے لیا جاتا ہے اور پھر گرم پا نی واپس اس ذخیرے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

یہ پانی انتہائی گرم ہوتا ہے جو وہاں پہلے سے موجود آبی حیات کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ ایٹمی فضلہ انتہائی ریڈیو ایکٹو ہوتا ہے جسے مناسب طریقے سے تلف کرنا ضروری ہے۔ اس دوران ذرا سی بے احتیاطی بہت خطرناک نتائج کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ ایٹمی فضلے کو تلف کرنے والے ورکر خاص قسم کا لباس پہنتے ہیں اور اس لباس پر بھی اثرات کئی سالوں تک باقی رہتے ہیں۔ اس کے علاہ ہتھیاروں کی دوڑ میں آگے سے آگے جانے کا جنون ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لانے کا باعث بن رہا ہے۔ اس وقت تقریباً 14000 سے زائد ایٹمی ہتھیار دنیا بھر میں موجود ہیں جو کرہ ارض کو کئی بار تباہ کر سکتے ہیں۔

زرعی ادویات جن کیڑوں اور جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لئے بنائی جاتی ہیں ان کا اثر صرف وہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پانی اور ہوا کی وجہ سے یہ اثر بہت آگے تک چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی ادویات کے اثرات میں جانوروں کے انڈوں کے خول کی کمزوری، پرندوں اور مچھلیوں میں تھائی رائیڈ کا پرابلم، جنگلات میں رہنے والے حشرات کی آبادی میں کمی، فقاریہ جانوروں کے قوتِ مدافعت میں کمی، انسانوں اور چوہوں میں نظامِ تنفس، قلبی نظام اور قوتِ مدافعت پر مضر اثرات شامل ہیں۔

زرعی ادویات کا بے تحاشا استعمال زمین کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ بعض زرعی ادویات کا زمین پر اثر دہائیوں تک رہتا ہے۔ نائٹروجن کی کمی بھی زرعی ادویات کے استعمال کا نتیجہ ہو سکتی ہے جو کہ پیداوار میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ زرعی ادویات کا سب سے خطرناک اثر شہد کی مکھیوں پر ہو رہا ہے جس کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی ہو رہی ہے جو پودوں میں زیرگی (Pollination) کی کمی کا بہت بڑا سبب ہے۔

شہد کی مکھیوں کی آبادی میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ زرعی ادویات کے اثرات سے صرف امریکہ میں 7 کروڑ سے زائد پرندوں کی اموات سالانہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں 10 مختلف قسم کے پرندوں کی آبادی میں ایک کروڑ پرندوں کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ زرعی ادویات سے آلودہ پانی جب واپس دریاؤں اور جھیلوں میں پہنچتا ہے تو آبی حیات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔

اوپر بیان کیے گئے ماحولیاتی مسائل، جو کرہ ارض پر انسانوں سمیت ساری حیات کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہیں، کے کئی طرح کے حل پیش کیے جاتے ہیں لیکن ان میں بالعموم دو طرح کے نقطہ نظر دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے وہ لوگ جو ”لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو“ کی عملی تفسیر ہوتے ہیں اور سارے سماجی ارتقا کا پہیہ ہی واپس گھمانا چاہتے ہیں۔ ان میں بہت سے انارکسٹ رجحانات کے لوگ بھی شامل ہیں جو سرمایہ داری مخالف تو ہیں لیکن یوٹوپیائی سوچ کے تحت انسان کو قبل از سرمایہ داری کے ”غیر طبقاتی“ سماجوں میں لے جانا چاہتے ہیں۔

یہ سراسر خیال پرستانہ اور رجعتی سوچ ہے۔ دوسری طرف وہ ہیں جو سائنسی پیش رفتوں کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن سرمایہ داری کی کاسہ لیسی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔ یہ رجحان بھی ظاہر ہے کھلی رجعت پرستی پر مبنی ہے۔ مسئلہ جدید تکنیک اور صنعت کا نہیں بلکہ ان کے استعمال کے پیچھے کارفرما مقاصد کا ہے۔ انسانی تہذیب آج دوراہے پہ کھڑی ہے۔ آج وہ تکنیک اور ذرائع پیداوار موجود ہیں جن کے ذریعے ماحول کو برباد کیے بغیر بھی اشیائے ضرورت کی بہتات پیدا کی جا سکتی ہے۔

لیکن اس کے لئے نہ صرف سارا سماجی و معاشی نظام یکسر بدلنا پڑے گا بلکہ مادی انفراسٹرکچر میں بھی بڑے پیمانے کی اکھاڑ پچھاڑ کرنی پڑے گی۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس بڑے پیمانے پر صنعت اور زراعت کے طریقوں میں تبدیلی، صاف ستھری توانائی کی پیداوار اور شہروں کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے وہ منڈی کی اندھی قوتوں کے تحت ناممکن ہے۔ ان تمام مسائل کا حل ایک عالمگیر سوشلسٹ (منصوبہ بند) معیشت میں ہی ممکن ہے جہاں ہر طرح کی انسانی سرگرمی انسانوں کی بھلائی اور ماحول کی خوبصورتی کے لئے ہو گی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2