زمین سے بڑے پیمانے پہ زندگی کا خاتمہ ہو نے کا خطرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 184
  •  

جسمانی طور پر جدید انسان کو زمین پر زندگی گزارتے تقریباً سوا تین لاکھ سال کا عرصہ ہو نے کو ہے۔ زرعی انقلاب تقریباً دس ہزار سال پہلے وقوع پذیر ہوا اور سائنسی دریافتوں اور ایجادات کے ساتھ سرمایہ دارانہ صنعتی انقلاب اٹھارہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ جس کا تسلسل آج انسان کو زمین کی طنابیں توڑ کر خلاؤں کی خاک چھاننے کے قابل بنا چکا ہے۔ ایک طرف جہاں سائنس اور تکنیک کی ترقی نے زندگی کو سہل بنایا وہیں دوسری طرف سرمائے کی ہوس نے وحشت اور بربریت کی تمام حدیں توڑ دیں۔ لیکن آج سرمائے کی ہوس صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے کرہ ارض کی حیات کے لئے خطرے کا سبب بن چکی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں آج اس نہج تک پہنچ چکی ہیں کہ اگر جلد ان کو روکا نہ گیا تو زمین سے بڑے پیمانے پہ زندگی کا خاتمہ ہو نے کا خطرہ ہے۔

اگر زمین کی عمر 24 گھنٹے فرض کی جائے تو انسان کو زمین پر نمودار ہوئے دو منٹ سے بھی کم عرصہ ہوا ہے اور سرمایہ داری کو چند سیکنڈ سے بھی کم۔ لیکن اس انتہائی قلیل عرصے میں سرمایہ داری نے زمین کے وسائل کی بے تحاشا لوٹ مار کی ہے اور اس کی خوبصورتی کو اجاڑ کے رکھ دیا ہے۔ منافع اور شرحِ منافع کی ہوس زمین کو بھیڑیوں کی طرح بھنبھوڑ رہی ہے۔ جنگلوں کی کٹائی سے لے کے کاربن کے بے شمار اخراج تک، تازہ پانیوں کے بے دریغ استعمال سے لے کے گہرے سمندروں میں ہونے والے بے تحاشا شکار تک، معدنیات کو زمین کی تہوں سے نکال کے سرمائے کی بھٹیوں میں جلانے تک۔ دریاؤں، فضاؤں، وادیوں، جنگلوں، پہاڑوں اور بیابانوں کو تاراج کیا جا رہا ہے۔

زمین پر ماحولیاتی نظام (Ecosystem) میں جاندار ایک کمیونٹی کی طرز پر ایک دوسرے سے بے جا ن اجسام کے ذریعے سے جڑے ہوتے ہیں جس میں غذائی چکر اور توانائی کا تبادلہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ توانائی پودوں میں فوٹو سنتھیسز کے عمل سے داخل ہوتی ہے اور غذائی چکر کے ذریعے مادہ اور توانائی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے رہتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ ہر گزرتا دن حالات کی سنگینی میں اضافہ کر رہا ہے لیکن سرمائے کی زنجیروں میں جکڑی سائنس کے پاس ان مسائل کا حل نہ تھا نہ ہو سکتا ہے۔

جب سائنسی تحقیق اور جدید تکنیک کی ایجاد کا مقصد صرف اور صرف منافع کا حصول ہو تو انسانیت کی بھلائی دیوانے کا خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ پیرس معاہدہ، جو 15 دسمبر 2015 ء کو ہوا اور اب تک 195 ممالک اس پر دست خط کرچکے ہیں، کے مطابق زمین کے درجہ حرارت کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھنے نہیں دینا ہے۔ لیکن سرمایہ داری کے سرخیل امریکا کے صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے الگ ہونے کا عندیہ دے دیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے اقدامات سرمایہ داروں کے مفاد میں نہیں جن سے کسی بھی طرح ان کے منافعوں پر ضرب پڑتی ہو۔

ماحولیاتی تبدیلی میں جو عناصر اہم کردار ادا کرتے ہیں ان میں زمین، ہوا اور پانی کی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، حیاتیاتی تنوع میں تبدیلی، گلوبل وارمنگ، کاربن کا اخراج، اوزون کی تہہ میں کمی، کان کنی، ایٹمی تابکاری، تیزابی بارش، زرعی ادویات، شور اور روشنی کی آلودگی اور ہسپتالوں کا فضلہ شامل ہے۔

کسی بھی مادے یا توانائی کا ماحول میں اتنی تیزی داخل ہونا کہ اسے گلنے اور ماحول میں جذب ہونے کا پورا موقع نہ مل سکے یا وہ کسی ایسی شکل میں تبدیل نہ ہو پائے جو کہ نقصان دہ نہ ہو ’آلودگی کہلائے گا۔ مثال کے طور پر پلاسٹک ماحول کے لئے اس لئے نقصان دہ ہے کیونکہ اسے ماحول میں جذب ہونے میں بہت وقت لگتا ہے۔ جتنے وقت میں پلاسٹک گل سڑ کر تحلیل ہوتا ہے اتنے وقت میں اور بہت سا پلاسٹک ماحول میں شامل ہو چکا ہوتا ہے۔

پلاسٹک کی نوعیت کے حساب سے مختلف قسم کے پلاسٹک کو قریباً 10 سے 1000 سال تک ماحول میں جذب ہونے میں لگ سکتے ہیں۔ آلودگی قدرتی بھی ہو سکتی ہے جیسے جنگل کی آگ یا آتش فشانی۔ لیکن آج کل آلودگی سے مراد وہ عوامل ہیں جو براہ راست انسانی مداخلت کا نتیجہ ہوں۔ آلودگی قدیم سماجوں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اس کا ماحول پر اثر اتنا تیز اور وسیع نہیں تھا جتنا کہ سرمایہ دارانہ انقلاب کے بعد کے دور میں ہے۔ زمین کی آلودگی میں سب سے خطرناک صنعتی فضلہ ہے جو خطرناک کیمیائی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے بغیر صاف کیے پھینک دیا جاتا ہے۔

فضلہ جس جگہ زیادہ دیر پڑا رہے وہاں میتھین گیس کا اخراج شروع ہو جاتا ہے جو صحت کے لئے خطرناک ہے۔ سرمایہ دار ایسے تمام اخراجات غیر ضروری سمجھتے ہیں جو براہِ راست ان کے منافعوں میں کمی کا باعث ہوتے ہیں۔ یوں چند سرمایہ دار یا ایک اقلیتی استحصالی طبقہ اپنے منافعوں کے لئے پوری نسلِ انسان کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں۔

ہوائی آلودگی کا سبب صنعتوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں، گاڑیوں اور جہازوں کا دھواں اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھر وغیرہ ہیں۔ ان تمام سے خطرناک گیسیں (سلفرڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، اوزون گیس اور کاربن مونو آکسائیڈ)، دھات اور مائع کے چھوٹے ذرات (جو دس مائیکرو میٹر سے چھوٹے ہوں) اور سیسہ ہوا میں شامل ہو جاتا ہیں۔ سلفر آکسائیڈ ہوا میں بڑھنے کی وجہ سے ”لندن اسموگ“ جبکہ نائٹروجن آکسائیڈ بڑھنے کی وجہ سے ”لاس اینجلس سموگ“ پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے اور بڑے صنعتی شہروں میں اسموگ کا پھیلنا معمول بنتا جا رہا ہے۔

گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں شہری علاقوں کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے لیکن صاف اور گرین توانائی کو گاڑیوں میں استعمال نہیں کیا جا رہا کیونکہ ایک طرف جہاں تیل کی فروخت سے اربوں ڈالر کے منافعے وابستہ ہیں وہیں تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری اتنے بڑے پیمانے پر کی جاچکی ہے کہ اسے وقت سے پہلے واپس نکالنا سرمایہ داری کے مفاد میں نہیں ہے۔ سال 2017 ء میں تیل، گیس اور کوئلے کی صنعت میں کی جانے والی سرمایہ کاری 795 ارب ڈالر رہی اور 10 بڑی کمپنیوں کا کاروباری حجم 2800 ارب ڈالر سے زیادہ رہا۔ ہتھیار جہاں انسانوں کی فوری بربادی کا سبب بنتے ہیں وہیں ان کی تیاری، ٹیسٹنگ، تربیت اور پھر جنگوں میں استعمال بھی فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔

پانی کی آلودگی کی بھی سب سے بڑی وجہ صنعتوں سے نکلنے والا فضلہ ہے جسے بغیر صفائی کے ندی نالوں اور دریاؤں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک کے ٹکڑے، بوتلیں اور دوسری پلاسٹک کی بنی اشیا بھی پانی کی آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ پولیسٹر کا ریشہ بھی پانی کی آلودگی کی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ صفائی کے لئے استعمال ہونے والے مختلف قسم کے کیمیکل ہیں جو پانی میں شامل ہوکر اس کو زہریلا کردیتے ہیں۔ کپڑے کی صنعت بھی پانی کی آلودگی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

کپڑا بننے اور رنگنے کے عمل میں انتہائی خطرناک کیمیائی مادے ماحول میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یہاں بھی سرمایہ دار منافع کی ہوس میں ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے۔ آلودگی قابلِ استعمال پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی کا باعث بن رہی ہے اور ماحول کو مطلوبہ پانی دستیاب نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے انسان، جانور اور پودوں سب کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سمندروں میں شامل ہونے والا تیزابی پانی سمندری حیات اور کورل ریفز کے خاتمے کا سبب بن رہا ہے۔

صنعت اور ٹرانسپورٹ کا شور بھی انسانوں اور جانوروں کے لئے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ مسلسل شور میں رہنے کی وجہ سے انسانوں میں بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر)، اعصابی تناؤ، چڑچڑا پن، قوتِ سماعت کی کمی، نیند کی کمی اور کئی طرح کے دوسرے نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں جو آج عام نظر آتے ہیں۔ کام کی جگہ پر شور کی وجہ سے قوتِ سماعت میں کمی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مہنگی تیز رفتار کاروں اور بھاری بھرکم موٹر سائیکلوں کے انجنوں کی آوازوں کو عام گاڑیوں سے ممتاز کرنے کے لئے بھی بلند رکھا جاتا ہے۔

رات کے وقت مصنوعی روشنیوں کا استعمال انسانوں کو بہت سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن یہ مصنوعی روشنی حد سے تجاوز کر جائے تو رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ دن کے وقت دھواں اور رات کے وقت آسمان پر روشنی اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں نے شفاف نیلا آسمان اور چمکدار ستارے شاید ہی کبھی دیکھے ہوں گے۔ حد سے زیادہ مصنوعی روشنیوں کا استعمال بڑے صنعتی شہروں میں عروج پر پہنچا ہوا ہے۔

شہروں میں روز مرہ کی زندگی کا آغاز دیر سے ہوتا ہے اور رات دیر تک جاگنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ دیر تک جاگنے کی وجہ سے دیر تک مصنوعی روشنی کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ دفتروں میں دیر تک کام یا شفٹوں میں مسلسل کام کا کلچر بھی بڑے شہروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شہروں میں بڑے بڑے اشتہاری بورڈ ہوتے ہیں جو کبھی چند لائٹوں پر مشتمل ہوتے تھے لیکن آج ان کی روشنیاں آنکھوں کو چندھیا دیتی ہیں۔ بے تحاشا مصنوعی روشنیوں کے استعمال کا مطلب اتنی ہی مقدار میں توانائی کا استعمال ہے۔

تیز روشنیوں میں دیکھنے سے بصارت متاثر ہونے کے خطرات بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلسل سر درد، ذہنی تناؤ، جنسی عمل میں کمی اور بلاوجہ کی ذہنی پریشانی بھی روشنی کی آلودگی سے جنم لے سکتی ہے۔ روشنی کی آلودگی سے دوسرے جانداروں کی قدرتی روٹین بھی متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے جانور اندھیرے میں باہر نکل کر غذا ڈھونڈتے ہیں یا پھر روشنی کے زاویوں کی مدد سے آنے جانے کے راستے تلاش کرتے ہیں۔ اگر روشنی کا منبع تبدیل ہو جائے یا زاویہ بدل جائے توہجرت کرتے پرندوں کو پریشانی ہو سکتی ہے۔

سال 2000 ء سے 2012 ء تک 23 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے جنگلات کو کاٹ دیا گیا ہے۔ ایک کروڑ 60 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے جنگلات، جو زمین کے رقبے کا 30 فیصد ہے اور کبھی زمین کا حسن تھے، میں سے اب صرف 62 لاکھ مربع کلومیٹر کے جنگلات باقی بچے ہیں اور وہ بھی تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ ہر ایک منٹ میں ایمیزون رین فاریسٹ کے ایک فٹبال گراؤنڈ کے برابر رقبے سے جنگلات کی کٹائی کی جارہی ہے۔ یہ جنگل پوری دنیا کی آکسیجن کا 20 فی صد پیدا کرتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 184
  •  
علی احسن جعفری کی دیگر تحریریں
علی احسن جعفری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں