دستک اتنی ہلکی بلکہ دبی دبی سی تھی کہ بمشکل ہی گیٹ کھولا گیا۔ باہر دیکھا تو وہ دوسرے گیٹ پر کھڑی تھی۔ اشارے سے بلایا، جھجکتا سمٹا سمٹایا سا نسوانی وجود۔ چہرہ دوپٹے سے نقاب کیا گیا تھا۔ وبائی حالات میں اس کی حالت زار ہمارے کسی سوال کی متحمل نظر نہ آتی تھی۔ انجانی نقاب پوش کو دیکھ کر ہماری جھجک کو وہ بھانپ گئی اور فوراً ہی اپنے اور شوہر کے شناختی کارڈز کی کاپیوں کو سامنے کر دیا۔
”آپ گھبرائیے نہیں میں کوئی پیشہ ور مانگنے والی نہیں ہوں۔ تیسرا دن ہوگیا، بچے روٹی کے لیے ضد کر رہے ہیں تو مجبوراً مانگنے نکلی ہوں۔“ گھر کے حالات سے معلوم ہوا اس کے نو بچوں میں آٹھ بیٹیاں ہیں، کچھ بڑی شادی شدہ اور باقی چھوٹی بچیاں گھر میں سب سے چھوٹے بھائی اور معذور باپ کے ساتھ۔ دوران گفتگو وہ اپنی بچیوں کی شرافت، دینی رنگ اور سلائی کے ہنر کا ذکر کرتی رہی کہ کورونا کے ڈر سے لوگ کپڑے نہیں سلوا رہے۔ مجھ سے حالات درست ہونے پر کپڑے سلوانے کا اصرار کیا۔ قصہ مختصر خوش اور مطمئن حالت میں رخصت ہو گئی۔
چند دن بعد اس کی بیٹیوں کی سلائی کا کام یاد آنے پر اس کے دیے گئے نمبر پر بات کرنا چاہی۔ ماں کے گھر پر موجود نہ
Read more