چترال کی ٹافی


دائیں ہاتھ سے لکھنے کی کوشش کی لیکن رفتار کافی سست تھی۔ گھر والوں نے اس کی کافی ہمت افزائی کی لیکن دلشاد گھمبیر احساس بے چارگی میں جا چکا تھا۔ وہ کب تک دوسروں کا محتاج رہے گا؟ اس کی زندگی کا کیا بنے گا؟ اس کو ہر طرف تاریکی نظر آتی تھی۔ ایک دن یہ خیالات اس کے ذہن کے لئے ناقابل برداشت ہو گئے تو وہ گھر سے بھاگ نکلا۔ ریلوے اسٹیشن پہنچ کر ایک ریل گاڑی میں بغیر ٹکٹ لئے سوار ہو گیا اور کچھ گھنٹوں بعد کسی اجنبی شہر میں اتر گیا۔ اگلے روز بھوک نے تنگ کرنا شروع کیا تو اس نے بھیک مانگنا شروع کر دی۔ ایک گودام کی سیڑھیوں کے نیچے اس نے سونے کی جگہ بنا لی۔

ایک ٹرک ہر صبح باقاعدگی سے سات بجے گودام آتا تھا۔ اس کا ڈرایٔور بڑی تنقیدی نظروں سے دلشاد کو دیکھتا لیکن دلشاد کوشش کرتا کہ اس سے آنکھ نہ ملے۔ ایک دن وہ ٹرک وقت سے پہلے ہی گودام پہنچ گیا۔ دلشاد ابھی سو رہا تھا کہ ٹرک کی آواز سے اٹھ گیا۔ ٹرک کا ڈرایٔور اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دلشاد گھبراہٹ میں کھڑا ہو گیا کہ بھاگ جائے۔

ڈرایٔور نے زور سے کہا ’بھاگو نہیں میں تمہیں مارنے نہیں آ رہا‘ ۔

دلشاد رک گیا اور غور سے ڈرایٔور کو دیکھنے لگ گیا، دبلا پتلا نوجوان، گھنی مونچھیں، چہرے پر کچھ سختی۔ دلشاد نے سوچا کہ اس کو پتہ نہیں کہ وہ ایک معذور انسان ہے۔

ڈرایٔور قریب آ کر بولا ’تم یہاں ان سیڑھیوں کے نیچے سوتے ہو۔ تمہارے پاس کوئی کام نہیں‘ ۔

’میں معذور ہوں‘ ۔ دلشاد نے اپنا بایاں بازو آگے بڑھا دیا۔

ڈرایٔور نے غور سے اس کے بازو کو دیکھا۔ ’کوئی بات نہیں۔ اس سے دھندے میں فرق نہیں پڑتا۔ ‘

’کون سا دھندا او ر۔ صاحب، تم کون ہو۔ ‘

’یہاں کچھ لوگوں کو ایک دوائی چاہیے جو بازار میں نہیں ملتی۔ وہ تمہارے پاس خود ہی آئیں گے اور دوائی لے کر تم کو پیسے دیں گے۔ میں تم کو دو سو روپئے روز دوں گا۔ میرا نام۔ بس تم مجھے زوردار کے نام سے بلانا‘ ۔

دلشاد نے دو سو روپے کا ذکر سنا تو اس کی آنکھیں چوند گئیں، کچھ لمحات کے لئے سانس رک گیا۔ اتنی رقم تو ہفتہ بھر میں بھیک مانگ کر نہیں ملتی اور یہ مجھ جیسے اپاہج کو روز دو سو روپے دینے کے لئے تیار ہے۔

دلشاد نے سہمتے ہوئے کہا ’یہ کون سی دوائی ہے؟ ‘

’چترال کی ٹافی، بڑی نایاب چیز ہے۔ پولیس کچھ نہیں کہے گی۔ زوردار کا انتظام بھی زوردار ہی ہوتا ہے۔ ‘

’ان لوگوں کو کیا تکلیف ہے جس کے علاج کے لئے انہیں یہ دوائی چاہیے؟ ‘

’تیرے پاس دو طرح کے لوگ آئیں گے۔ کچھ کے پاس پیسے کی زیادتی ہے اور انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا کیا کریں۔ یہ تیرے پکے گاہک ہوں گے۔ اور دوسرے لوگ جن کے پاس پیسہ تو زیادہ نہیں ہے لیکن غم کی زیادتی ہے۔ انہیں اس غم کو بھلانے کے لئے چترال کی یہ ٹافی چاہیے ٔ۔ ‘

زوردار کو دلشاد کی ذہنی کیفیت کا پورا اندازہ تھا۔ دلشاد اب کسی اور دنیا میں پہنچ چکا تھا۔ اس کو ایک ہاتھ کھونے کے بعد پہلی بار محسوس ہوا کہ وہ اب بھی ایک کارآمد انسان تھا۔ وہ ہر ماہ اپنے گھر پیسے بھیجے گا بلکہ ہر ماہ خود پیسے لے کر اپنے ماں باپ کو دینے جائے گا اور چھوٹے بھائی اور بہنوں کو اچھی تعلیم دلوائے گا۔ پھر اسے تھوڑی دیر بعد احساس ہوا کہ زوردار وہاں سے جا چکا ہے اور وہ اکیلا ہی اکیلا خود سے باتیں کر رہا تھا۔

دلشاد نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو کچھ روپے بچے ہوے ٔتھے۔ سوچا آج ذرا اچّھا ناشتہ کروں اب تو باقاعدہ آمدنی شروع ہونے والی ہے۔ اب اسے بھیک مانگنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔ پہلے وہ مسجد جا کر حاجت سے فارغ ہو کر ہاتھ منہ دھو لے، پھر وہ تھوڑی دیر بعد ناشتہ کرنے جاے ٔ گا۔ اپنی حالت بہتر کر کے دلشاد مسجد کے ایک کونہ میں بیٹھ گیا۔ پہلے بھی وہ دھوپ کی شدّت سے بچنے کے لئے کبھی کبھی یہاں آکر ایک پچھلے کونہ میں بیٹھ جایا کرتا تھا۔

اس کو آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ شاید کوئی اس کے حلیے اور گندے کپڑے پہن کر مسجد آنے پر اعتراض کرے۔ ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ اس کے دماغ میں کشمکش شروع ہو گئی۔ یہ چترال کی ٹافی ضرور کوئی ناجائز چیز ہے اسی لئے یہ کسی دکان پر نہیں بکتی۔ اس کے بیچنے پر ضرور پابندی ہو گی اور وہ نہ جانے کون کون سے خراب لوگوں سے اس کا واسطہ پڑے گا۔ اگر وہ پکڑا گیا تو کیا زوردار اس کو پولیس سے بچا لے گا! اور وہ اپنے ماں باپ کو کیا بتا ے ٔ گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے!

دلشاد کو اپنی سوچوں پر غصہ آ رہا تھا۔ آج تو اس کے لئے ایک نیا دن چڑھنا تھا، بھوک سے آزادی اور بھیک سے آزادی کا دن۔ اچانک کسی آواز نے اسے جھنجھوڑ دیا۔ دیکھا تو چودھری صاحب سامنے کھڑے تھے۔ یہ اکثر اسے دوپہر کا کھانا دیا کرتے تھے۔ ہر موسم میں کچھ پرانے کپڑے بھی دیتے جسے لے کر دلشاد کی آنکھوں میں آنسو آجایا کرتے۔ دلشاد کا دل چاہتا کہ وہ چودھری صاحب کو بتاے ٔ کہ اس کا بھی ایک گھر تھا جنّت کی مانند۔ لیکن پھر وہ سہم جاتا کہ اسے اپنے جرم کے بارے میں بھی بتانا پڑے گا۔

چودھری صاحب نے پوچھا کہ کیا اس نے مدرسہ میں داخلہ لے لیا ہے۔ دلشاد نے بتایا کہ وہ صرف کچھ دیر آرام کے لئے یہاں آیا ہے۔ چودھری صاحب نے اسے کہا کہ مدرسہ کا منتظم انہیں اچھی طرح جانتا ہے، وہ دلشاد کو مدرسہ میں داخل کرا سکتا ہے۔ چودھری صاحب نے اسے بلند آواز میں حکم دیا ’چلو میرے ساتھ‘ ۔

دلشاد تو پہلے ہی ذہنی دباؤ کا شکار تھا، اٹھ کر چودھری صاحب کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ چودھری صاحب دلشاد کو ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گئے۔ کمرے کی حالت خستہ تھی، کئی جگہوں پر روغن اکھڑاہوا تھا۔ وہاں دو گدّے بچھے ہوئے تھے اور دیوار کے سہارے مدرسہ کا منتظم بیٹھا ہوا تھا۔ چوہدری صاحب کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔ چودھری صاحب نے کہا ’اس لڑکے کو اسکول میں داخل کر لو اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ مدرسے کے ہوسٹل ہی میں رکھنا‘ ۔

یہ کہہ کر چودھری نے کچھ سو روپئے جیب سے نکالے اورمنتظم کو دے دیے۔ منتظم نے فوراً ایک رسید بنائی اور کئی مرتبہ شکریہ ادا کرنے کے بعد چودھری صاحب کو دے دی۔

ہوسٹل کا ماحول دلشاد کو بالکل پسند نہ آیا لیکن اس کے پاس کوئی اور چارہ نہییں تھا۔ بڑے دروازے پر ہر وقت دو چوکیدار رہتے اور رات کو ایک بھاری تالا بھی پڑا رہتا۔ مدرسہ کے طلباء کو باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اب دلشاد تین راستوں کا موازنہ کرتا رہتا۔ مدرسہ، چترال کی ٹافی کو بیچنا، یا بھیک مانگنا۔ پھر اسے یہ خیال آتا کہ ایک مدرسے کے مولوی کی ہی وجہ سے آج وہ اس حالت میں ہے اور اس کا خون کھول اٹھتا۔

دلشاد کا استاد ایک پیچیدہ انسان تھا، کبھی بہت نرم اور کبھی بہت سخت۔ اسے پتہ تھا کہ دلشاد ایک بے سہارا لڑکا تھا جس کا کوئی پرسان حال نہیں لیکن وہ دلشاد کے ساتھ بہت نرمی برتتا تھا اور اسی کی وجہ سے دلشاد نے پڑھائی لکھائی میں دل لگانا شروع کردیا۔ دائیں ہاتھ سے لکھنا بھی سیکھ لیا۔ ہفتے مہینوں میں ڈھل گئے اور اسی طرح دو سال گزر گئے۔ دلشاد کی تعلیم سے دلچسپی سے متاثّر ہو کر اس کے استاد نے اسے ایک ماتحت استاد بنا دیا۔ اب اس کو ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملنے لگ گئی۔ اب اس کو مدرسہ سے باہر جانے کی اجازت بھی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3