چترال کی ٹافی


دلشاد کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ تقریباً پانچ سال بعد اپنے گھر جا رہا تھا۔ شام کی نیم تاریکی میں بس مظفر آباد پہنچی۔ بس سے اتر کر وہ پیدل گھر کی طرف چل پڑا۔ ہر قدم بہت بھاری تھا لیکن وہ اپنی رفتار کو کم نہیں کر رہا تھا۔ موسم کی خنکی سے فائدہ اٹھا کر اس نے خود کو کپڑوں میں اچھی طرح چھپایا ہوا تھا تا کہ اسے اس شہر میں کوئی پہچان نہ سکے۔ گھر کے سامنے پہنچ کر وہ کچھ دیر کھڑا رہا۔ کاش وہ اب تک اسی گھر میں رہ رہا ہوتا! کیا اس کے ماں باپ اسے گلے لگا لیں گے! ان کچھ سالوں میں وہ ایک لڑکے سے بدل کر ایک پٹا ہوا نوجوان بن چکا تھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی بھی تھی۔

دلشاد نے دستک دی تو ایک خوبرو نوجوان باہر آیا۔ یہ اس کا چھوٹا بھائی تھا۔ دلشاد نے چاہا کہ اس کے ساتھ چمٹ جائے لیکن گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا کیونکہ اس کے چھوٹے بھائی نے اسے نہیں پہچانا تھا۔ دلشاد نے اپنا نام بتایا اور دونوں بھائی بغلگیر ہو کر اندر چلے گئے۔ چھوٹے بھائی نے فوراً ماں کو آواز دی کہ دلشاد آگیا ہے۔ ماں پاس پہنچ کر رک گئی۔ اس کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر رونے دھونے اور بار بار گلے لگانے کے بعد دلشاد کو پتہ چلا کہ باپ کا انتقال ہوے ٔ ایک سال ہو چکا تھا۔

دلشاد گھر میں تین دن رکا۔ گھر کی حالت بہت ابتر تھی۔ ماں شکل سے ہی فاقہ زدہ لگ رہی تھی۔ دلشاد سخت احساس مجرمی کا شکار تھا کہ یہ سب کچھ اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ ماں نے بتایا کہ زکوۃ لینے کے لئے وہ مسجد گئی تھی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ اس کا ایک جوان بیٹا ساتھ رہتا ہے، اسی کو گھر کا خرچہ اٹھاناچاہیے۔ اب دلشاد ہر ماہ دو تین دن کے لئے مظفّر آباد آتا اور اپنی ساری تنخواہ ماں کو دے دیتا۔ خود وہ ہوسٹل سے باہر جانے سے پرہیز کرتا کہ کہیں اس کے پیسے نہ خرچ ہو جائیں۔

ایک دن ظہر کی نماز کے بعد اساتذہ کی مجلس بیٹھی۔ اس میں بتایا گیا کہ ماہ رمضان سے پہلے آس پاس کے شہروں کی مسجدوں کو سیرت النّبی کے اجلاس کے لئے دعوت نامے بھیجے جائیں گے۔ یہ اجلاس دو دن جاری رہے گا جس میں کئی علماء اور اکابرین حصہ لیں گے۔ اجلاس سے ایک روز پہلے سات مساجد سے علماء آنا شروع ہوگئے۔ دلشاد کو بہت دل چسپی تھی کہ مظفر آباد سے کون آتا ہے۔ کیا وہ مولوی جس کی ملامت کی وجہ سے اس نے اپنا ایک ہاتھ کاٹ دیا یا کوئی اور جانی پہچانی شخصیت!

ظہر کی نماز کے بعد تعارف کروایا گیا۔ مظفر آباد سے مولوی جاوید آیا ہوا تھا۔ دلشاد نے اسے فوراً پہچان لیا لیکن اس نے دلشاد کو نہیں پہچانا۔ دلشاد اسے گھور گھور کر دیکھے جارہا تھا۔ اس نے مولوی جاوید سے کچھ باتیں کرنا تھیں، کچھ پرانا حساب چکانا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب سارے مہمان سستا رہے تھے، دلشاد مولوی جاوید کے پاس گیا اور اس کو بتایا کہ کچھ رازداری کی بات کرنی ہے۔ مولوی جاوید نے جواب دیا کہ وہ ایک گھنٹہ کے بعد باہر برآمدہ میں ملے گا۔ ٹھیک ایک گھنٹہ بعد دلشاد مولوی جاوید کے پاس پہنچ گیا۔ دونوں برآمدہ میں سے ہو کر صحن میں آگئے۔ یہاں اس وقت کوئی اور نہیں تھا۔ یہ جگہ بات چیت کے لئے مناسب تھی۔

مولوی جاوید بو لا ’بیٹے، تمہارا نام کیا ہے اور تم مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ ‘

دلشاد نے چادر کے اندر سے اپنا کٹا ہوا بازو آگے بڑھا دیا۔ ’میں ہوں آپ کا شاگرد، دلشاد۔ ‘

مولوی جاوید پر جس طرح بجلیاں گر پڑیں اور وہ نیچے بیٹھ گیا۔ وہ ایک ذہین انسان تھا اس نے فوراً خود کو سنبھالا اور اشارہ سے دلشاد کو نیچے بیٹھ جانے کے لئے کہا۔

’ بیٹا، مجھے بہت خوشی ہے کہ تم لکھ پڑھ کر اس مدرسہ میں ماتحت استاد بن گئے ہو۔ ‘

دلشاد کو اس تعریفی کلمات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بھوکے شیر کی طرح اپنے شکار کے سامنے کھڑاہوا تھا۔

’ایک تو آپ کی ملامت کی وجہ سے میرا ہاتھ کٹا اور دوسرے آپ نے میری بیوہ ماں کو مسجد کے بیت المال میں سے وظیفہ دینے سے انکار کردیا۔ ‘ دلشاد کا لہجہ قدرے سخت تھا۔

’بیٹا، میں نے تم سے کبھی نہیں کہا تھا کہ تم جا کر اپنا ہاتھ کاٹ لو۔ یہ تو تمہارا اپنا جذباتی فیصلہ تھا اور رہا معاملہ تمہاری ماں کا۔ مجھے یاد ہے کہ اس نے وظیفہ کے لئے درخواست دی تھی۔ لیکن تمہارا ایک نوجوان بھائی اس کے ساتھ رہتا ہے جو محنت کر کے اس کا خرچہ پورا کر سکتا ہے۔ اسی لئے اس کی درخواست منظور نہیں ہوئی۔ ‘

دلشاد اب ’آپ‘ سے ’تم‘ پر آگیا۔ ’تم جو مرضی بولو۔ تمہاری سخت ملامت کی وجہ سے میں معذور ہو گیا اور اپنے گھر والوں پر بوجھ بن گیا تھا۔ اسی لئے مجھے گھر سے بھاگ جانا پڑا۔ میرا باپ اسی صدمہ میں انتقال کر گیا۔ اگر تمہیں تھوڑا سا بھی اپنے جرم کا احساس ہوتا تو میری ماں کا وظیفہ لگا دیتے تاکہ وہ اور میرے بہن بھائی فاقے نہ کرتے۔ تم ان سب مصیبتوں کے ذمہ دار ہو۔ تم نے ایک گھرانہ کو تباہ کر دیا اور یہاں تم ایک دین دار عالم کی حیثیت سے سیرت النّبی پر تقریریں کرنے آئے ہو۔ ‘

ایک سیلاب تھا جو رک نہیں رہا تھا۔ وہ کافی دیر مولوی جاوید پر لعن طعن کرتا رہا۔ مولوی جاوید نے اسے کئی بار متنبہ کیا کہ وہ تمیز کی تمام حدود پار کر چکا ہے اور آج تک اس ساتھ کسی نے ایسی بدتمیزی نہیں کی اور نہ ہی سنگین الزامات لگائے۔

لیکن دلشاد پاگلوں کی طرح بولے جا رہا تھا اور جب اس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا تو اس نے مولوی جاوید کے چہرے پر تھوک دیا اور ہوسٹل میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ دلشاد عصر اور مغرب کی نمازوں کے لئے مسجد نہیں گیا۔ کمرے میں ہی بند رہا۔ اس کی جسم کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ پسینے میں شرابور تھا۔ اس نے سوچا کہ ابھی تو اسے اور بہت کچھ کہنا چاہیے تھا لیکن وہ غصے میں بھول گیا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد دروازے پر دستک ہوئی اور کسی نے باہر سے ہی دروازہ کھول دیا۔ دو محافظ دروازے پر موجود تھے۔ ایک کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جو انہوں نے دلشاد کو دیا اور بتایا کہ وہ پانچ منٹ میں یہاں سے نکل جائے۔ دلشاد نے ایک دو کپڑے اٹھائے۔ بقیہ اس کے پاس کچھ کتابیں تھیں جو اس نے وہیں چھوڑ دیں۔ محافظ اسے بڑے دروازے تک ساتھ لاے ٔ اور دلشاد کو باہر نکال کر اسے بند کر دیا۔

دلشاد نے سیدھے چلنا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ۔ اس شہر میں کوئی جگہ نہیں تھی جہاں وہ جا سکے۔ اس کے پاس صرف ایک ہنر تھا جو چھین لیا گیاتھا۔ وہ کسی اور مدرسے میں بھی نہیں کام کر سکتا کیونکہ اس کو اس مدرسے سے خراب حوالہ ملے گا۔ تھوڑی دیر تک وہ ایک ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح چلتا رہا۔ اچانک ایک ٹرک مٹی اڑاتا ہوا سڑک پر سے گزرا۔ دلشاد کے ذہن میں ایک امید کی کرن نمودار ہوئی۔ اس نے اپنا راستہ بدل لیا۔ آج کی رات وہ ایک سرائے میں گزارے گا اور کل صبح سویرے گودام پہنچ کر زوردار کا انتظار کرے گا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3