پاکستانی ٹی وی ڈراما اور عورت!


البتہ عورت کی تذلیل سے بھاری تجارتی فائدہ حاصل کیے جانا جیسے ڈرامے کا اولین مقصد بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ڈراما پیش کرنے والے چینلز کئی ہیں لیکن ایک دوسرے سے مختلف ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، سب کا مقصد چونکہ ریٹنگ حاصل کرنا ہے لہٰذا جیسے ڈرامے پیش کرنے سے ریٹنگ آتی ہے اسی پر سارے چینلز ایک دوسرے سے بازی لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ جسے عرف عام میں بھیڑ چال کہا جاتا ہے۔ تمام ہی چینلز کے ڈراموں کے موضوعات بھی ایک جیسے ہیں۔

ماضی میں اکیلا پی ٹی وی جتنے متنوع موضوعات پر ڈرامے نشر کیا کرتا تھا یہ سارے موجودہ چینلز مل کر بھی اس سے آدھے موضوعات کو ڈرامے میں پیش کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا ظاہر ہے اس لیے ہے کہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ ڈرامے ایسے بھی ضرور پیش کیے گئے ہیں جن میں عورت کی مظلومیت کو ہی مطمح نظر نہیں بنایا گیا بلکہ ظلم کے خلاف عورت کے کردار کی جدو جہد یا پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوششوں کو بھی ڈرامے کا موضوع بنایا گیالیکن یہ اتنا کم دکھائی دیا جیسے آٹے میں نمک کیونکہ عورت کی ذلت کرنا یا ذلیل ہوتے دکھانا مالی منفعت کا پہلو زیادہ لیے ہوئے ہے یا پھر ایسا ڈراما پیش کرنا دوسرے طرز کے ڈرامے سے زیادہ سہل ہے۔

اور ایسے کام سے تو سب پیسے کمانا چاہتے ہیں جس کو کرنے میں زیادہ محنت، جفاکشی اور بہترین صلاحیتوں کا استعمال کم سے کم کرنا پڑتا ہو۔ سو پہ در پہ ایسے ڈراموں کا جمعہ بازار لگا دکھائی دیتا ہے جہاں سب سے سستی اور ارزاں چیز عورت کے آنسو اور اس کی مظلومیت ہے چھوٹی سے چھوٹی بات پرعورت کے منھ پر تھپڑوں کی بارش ہونا اور معمولی باتوں پر طلاق دے کر گھر سے نکال دینا اتنی کثرت سے ڈراموں کا حصہ بنایا جاتا ہے کہ کم سے کم پاکستانی ٹی وی ڈرامے کی حد تک پاکستان کی شاید ہی کوئی عورت ایسی ہو جو عزت و سکون سے اپنے شوہر کے گھر میں آباد اور خوش وخرم زندگی گزار رہی ہو۔

گرچہ عورت کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد کا پرچار کرنے میں پاکستانی ٹی وی ڈرامے نے بہت حد تک موثر کردار نگاری کی ہے۔ لیکن کوئی بھی چیز خواہ وہ کتنی ہی اثر خیز کیوں نہ ہو اس وقت بے معنی ہوجاتی ہے جب اس کی زیادتی سے دیکھنے والوں کو سوائے ٹینشن اور بے بسی کے کچھ بھی حاصل نہ ہوتا ہو۔ ڈرامے نے مختلف موضوعات سے دامن چرانے کی پالیسی کیوں اپنائی۔ اس کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ بتائی اور کہی جاتی ہے کہ ڈراما صرف خواتین دیکھتی ہیں، مرد حضرات ڈراما نہیں دیکھتے یا پھر اتنی مختصر تعداد میں دیکھتے ہیں کہ ان کا شمار کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔

اسی لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جاتا ہے جنھیں خواتین پسند کرتی ہیں۔ لیکن کوئی بھی باشعور انسانی طبقہ اپنے ہی طبقے کی ذلت کے مناظر کو اتنی بڑی تعداد میں اور اتنے تسلسل سے کب تک دیکھ کر برداشت کرسکتا ہے جیسا کہ موجودہ ڈرامے کا منظر نامہ ہمیں دکھارہا ہے۔ اس سلسلے میں جب بھی بات کی جاتی ہے تو کئی سمجھدار اور اسکرپٹ سیکشن میں کام کرنے والی خواتین یہ بیان کرتی ہیں کہ ”ڈراما پڑھی لکھی باشعور خواتین نہیں دیکھتیں۔

موجودہ ٹی وی ڈرامے کی ناظر ایسی خواتین زیادہ بڑی تعداد میں ہیں جوناخواندہ اورنچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کچلے پسے ہوئے طبقات کی خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ اپنے مردوں سے مار کھانا ہے۔ چنانچہ جب ایسی خواتین ڈرامے میں زرق برق مہنگے برانڈڈ کپڑے زیب تن کی ہوئی۔ کئی ہزار گز کے گھروں میں رہنے والی خواتین کو اپنے مردوں سے مارکھاتے دیکھتی ہیں توان کا (کتھا رسس ) ہوتا ہے۔ ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے، انھیں ایک قسم کی طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ ذلت کی زندگی صرف ان جیسی غریب مفلوک الحال ان پڑھ عورتوں کا ہی مقدر نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے گھروں میں رہنے والی بیگمات بھی اپنے مردوں کے ہاتھوں ایسی ہی ذلت بھری زندگی سے دوچار ہیں۔

چناچہ ایسی عورتوں کو یہ سب بہت مرغوب ہے، اتنا کہ وہ اس عمل کو ایک مدت سے مسلسل دیکھنے کے بعد بھی اس لیے اب تک نہیں اکتائی ہیں کہ ان کے مردوں نے ان کی عزت کرنا شروع ہی نہیں کیا ہے۔ تو جب تک وہ اس ذہنی تناؤ سے گزرتی رہیں گی پاکستان کا ٹی وی ڈراما ایسی ہی بدحالی میں مبتلا رہے گا۔ “ پاکستان کا ٹی ڈراما موضوعات کے حوالے سے جتنا بھی یکسانیت کا شکار ہے۔ یہ کہنا زیادتی ہوگی کہ یہاں سرے سے معیاری اور اچھے ڈرامے پیش ہی نہیں کیے گئے۔

گزشتہ برس باغی کے نام سے ایک ٹی وی ڈراماغریب مظلوم عورت کی جدو جہد سے اخذ کیا گیا تھا اور اس ڈرامے کو فیس بک سے شہرت حاصل کرنے والی قندیل بلوچ کی زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے لکھا گیا تھا۔ تاہم ایسے ڈرامے بہت ہی کم پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی کہی جاتی ہے کہ پی ٹی وی سرکاری خرچ سے چلایا جانے والا ادارہ تھا جسے اپنا وجود برقراررکھنے کے لیے ایسی مالی جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی جیسی موجودہ چیلز کو کرنا پڑتی ہے۔

چناچہ موجودہ ڈراما ماضی کی نسبت زیادہ بڑی تعداد میں تجارتی بنیادوں پر لکھنے والوں کی طرف مائل نظر آتا ہے۔ یہ کوئی ایسی سائنس نہیں ہے کہ جسے سمجھنا دشوار ہو ظاہر ہے جو کام مالی منفعت اورتجارتی بنیادوں پر کیا جائے گا اس کے تقاضے بھی اسی طرح کے ہوں گے۔ نامور ادیب جن کی ادب اور سماج میں تجارتی شہرت نہیں ہے ان سے ہر قسم کا کام لیا بھی نہیں جاسکتا، کچھ ایسا کام کرنے سے انکار کرسکتے ہیں اور کچھ اس نوعیت کا کام کرہی نہیں سکتے کیونکہ ان کی تربیت اس طرح کے لکھنے سے عبارت ہی نہیں ہے۔

جبکہ موجودہ ڈراما لکھنے والے بیشتر افراد پہلے سے ہی اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں کمرشیل لکھاری کہا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کمرشیل بنیادوں پر کیے جانے والے کسی بھی کام کو مادر پدر آزادی دی جاسکتی ہے؟ وہ جیسا چاہیں سماج کی صورت گری کریں۔ جس بھی زاویہ نظر سے کاروباری اداروں اور افراد کو فائدہ پہنچتا ہو اوہ اسی رخ سے معاشرے کی تصویر کشی کرنے کے لیے آزاد ہوں۔ دنیا کے ہر کاروبار کے کچھ نہ کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، ایسے ہی سماجی قوانین کا لحاظ پاکستانی ٹی وی ڈرامے کو بھی کرنا تو چاہیے۔

لیکن گزشتہ پندرہ بیس برس میں کسی بھی فورم سے ایسا کوئی اعتراض آیا اور نہ ہی کوئی توانا آواز ہی اٹھتی سنائی دی چنانچہ پاکستان کا ٹی وی ڈراما اپنی ڈگر پر کسی مست ہاتھی کی طرح رواں دواں ہے۔ چینلز کو مانیٹر کرنے والا ادارہ پیمرا بھی زبانی جمع خرچ سے زیادہ کوئی ایسے موثر اقدامات نہیں اٹھا سکا جن کی وجہ سے پاکستانی ٹی وی ڈرامے میں بہتری لائی جاسکتی یا اسے کوئی مثبت سمت دی جاسکتی۔ یا کم سے کم موضوعات کے چناؤ میں زیادہ وسعت اور پھیلاؤ کی طرف کوئی پیش رفت ہوتی نظر آتی ایسا نہیں ہوا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4