پاکستانی ٹی وی ڈراما اور عورت!
تو کیوں؟ سوال بہت ہیں اور جواب دینے والا کوئی نہیں ہے۔ سماج سے وابستہ کوئی بھی عمل بھلا کس طرح اتنا آزاد ہوسکتا ہے کہ سوال کرنے والوں کی حیثیت بے معنی ہوکر رہ جائے یا کردی جائے۔ ؟ کہتے ہیں جب کوئی ادارہ، کوئی قوم یا کوئی بھی طبقہ ایسی یکسانیت جسے بے حسی بھی کہا جاسکتا ہے۔ کا شکار ہوجاتا ہے تو پھر قدرت خود اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتی ہے۔ چناچہ موجودہ عہد میں ٹی وی ڈرامے کی یکسانیت کو چیلنج کرنے کے لیے مارکیٹ میں ایسے بہت سے ادارے وجود میں آچکے ہیں جو ملکی اور غیر ملکی لیبلوں کے ساتھ کام کررہے ہیں، یہ ادارے دنیا کے سب ہی ملکوں میں ٹی وی ڈرامے کو یکسر بدل دینے کی طرف پیش قدمی کرتے دکھائی دیتے ہیں، ان اداروں نے اب تک پڑوسی ملک بھارت میں جو ڈراماسیریز ڈزائن کی ہیں۔
ناظرین ویب اور نیٹ کی مختلف سطحوں پر ان ڈراموں کو ملاحظہ کرچکے ہیں ان ڈرامائی سیریز کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے۔ ہندوستا ن کے مروجہ ساس بہو والے ڈرامے کو ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ قریب قریب اس کی شکست و ریخت ہوا چاہتی ہے۔ یہ نئے ڈرامے سماج کے ایسے سلگتے ہوئے موضوعات پر مبنی ہیں جن کے بارے میں پہلے کبھی انڈیا میں بھی نہ سوچا گیا تھا اور نہ ہی ایسے ڈرامے ان کی ٹی وی اسکرین سے دیکھنے میں آئے۔
ان ڈراموں میں کسی بھی طبقے کی ذلت یا محض کسی ایک طبقے کو موضوع سخن نہیں بنایا جا رہا بلکہ سماج کا پورا چہرہ پوٹرے کرنے کی جرا ت مندانہ کوشش کی جارہی ہے۔ ان ڈراموں کا مقصد عورت اور مردکو جینڈر کی تخصیص کے الگ الگ کنوؤں میں بند کرنے کے بجائے یہ کوشش کی گئی ہے کہ عورت اور مرد دونوں کے کردار حقیقت سے قریب ہوں، ان میں یکسانیت نہ ہو وہ صرف عورت کی ذلت کا ہی ایک پہلو لیے ہوئے نہ ہوں۔ ایسے دوسرے عوامل کو بھی موثر انداز سے پیش کیا جائے جن کی وجہ سے سماج کا کوئی بھی طبقہ کیوں اور کس لیے زبوں حالی کا شکار ہے۔
اس کی ممکنہ طور پر وضاحت کی جاسکتی ہو۔ پاکستانی ڈرامے عورت کے کردار کو یا تو مکروہ اور نفرت انگیز دکھانے میں جتے ہوئے ہیں یا پھرعورت کی تذلیل ان کا زاویہ نظر ہے۔ ہزاروں سال کے متنازعہ رشتوں کو جنھیں شاید دنیا اور پاکستان کے سماج میں کسی قدر پس پشت ڈال دیا گیا تھا اب انھیں پوری قوت کے ساتھ ڈرامے نے پھر سے نہ صرف نئی سانسیں بخش دی ہیں بلکہ وہ چلتے پھرتے، جیتے جاگتے ڈراما دیکھنے والوں کی نظروں کے سامنے ہیں۔
مرد شدت سے ظالم ہیں، ساس کوئی مشکل سے ہی ایسی نظر آتی ہے جو اپنی بہو کو خنداں پیشانی سے برداشت کرسکتی ہو۔ زیادہ تر ساسیں بہو کی دشمنی میں اپنے ہی بیٹے کا گھر برباد کرنے پر تلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، رشتوں کا احترام جیسے کوئی ایسی بھولی بسری چیز بن کے رہ گئی ہے جو کبھی ہمارے سماج کی بنیاد ہوا کرتی تھی۔ پاکستانی ڈراما ان سب بنیادوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھینکتا دکھائی دیتا ہے۔ سگی بہنیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی بن چکی ہیں، خون کے رشتوں میں اتنا زہر گھولا جاچکا ہے کہ اب کسی بھی رشتے کو قابل اعتبار سمجھنا دشوار نظر آتا ہے۔
پھوپھی، چچی، تائی سب کی سب جیسے جدی پشتی دشمنیوں کی پروردہ ہیں۔ ان سے خیر کی امید رکھی ہی نہیں جاسکتی! طبی سائنس فرسٹ بلڈ شادیوں کے بارے میں احتیاط کرنے اور ایسے رشتوں کو قائم کرنے سے منا ہی کرتی ہے لیکن ڈراموں میں قریب ساری ہی شادیاں ایسی ہی ہوتی نظر آتی ہیں جو ایک ہی خاندان کے افراد کے مابین کرائی جا رہی ہیں۔ پھر انھی شادیوں کی وجہ سے دشمنیوں اور سازشوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو پورے ڈرامے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اور ڈراما اپنے اختتام تک ان الجھنوں سے ابھرنے نہیں پاتا۔ یہ درست ہے کہ ان سب کے بیچ میں ایسے کچھ ڈرامے بھی ضرور پیش ہوئے ہوں گے جو ان روایتی ڈراموں سے یکسر مختلف رہے ہوں لیکن ان کی آواز بالکل اتنی ہی اونچی ہے جتنی نقار خانے میں طوطی کی آواز کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ اس کی حالیہ مثال سنگ مرر نامی ڈراما ہے جو ایک مکمل ڈرامے کی فنی تعریف پر کسی نہ کسی حد تک پورا اترتا ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلوں سے کہیں زیادہ تجارتی اور مالی منفعت کے مقاصد کو پیش نظر رکھنے والے نئے ابھرنے والے ادارے یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان میں ٹی وی ڈراما اکتا دینے والی یکسانیت اور بے زاری کا شکا ر ہوچکاہے لہذا کہا جارہا ہے یہ کاروباری ادارے پاکستان کے ٹی وی ڈرامے کا رخ پھیر دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
حال ہی میں ایک ویب سیریز اپنے پہلے سیزن کے ساتھ ریلیز ہوچکی ہے۔ گرچہ اس سیریز میں کسی بھی ایسے سماجی اور انسانی موضوع کو ڈراماٹائز نہیں کیا جاسکا جیسا کہ بھارت میں دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے باوجود یہ سیریز اور اس کا پہلا سیزن موجودہ پاکستانی ڈرامے سے یکسر مختلف دکھائی دیتاہے۔ عورت کے آنسو انمول ہیں، انھیں بہنے سے روکنا پورے سماج کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب یہی آنسو موتی بن کر مہنگے داموں بازار میں بیچے جانے لگیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان آنسوؤں کو روکنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش پاکستانی ٹی وی ڈراما کرسکتا ہے۔
حیرت تو ان این جی اوز پر ہوتی ہے جو پاکستان کی خواتین کوEmpowerکرنے کی بات کرتی ہیں۔ انھیں بیرونی ممالک سے بڑی بڑی فنڈنگ اسی مقصد کے تحت ہوئی بتائی جاتی ہے ایسے ادارے بھی پاکستان کے ٹی وی ڈرامے سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ خواتین کوEmpowerکرنے والے موضوعات پر کیوں ڈرامے نہیں بناتے۔ آخر دسیوں سال سے عورت کی مظلومیت کو ہی کیوں تختہ مشق بنایا جارہا ہے، کیا پاکستان میں کسی بھی سطح پر خواتین کے کسی بھی طبقے کی حالت نہیں بدلی۔
کیا پاکستان کی عورت صرف ذلیل ہونے اور مار کھانے کے لیے ہی پیدا کی جارہی ہے۔ ؟ دفاتر، فیکٹریوں زندگی کے مختلف شعبوں میں روز افزوں بڑھتی ہوئی خواتین کی تعداد ان کی معاشی نمو میں شرکت کی واضح دلیل ہے۔ ایسی خواتین جو زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں۔ ایسی جر ات مند اور لائق مثال خواتین کو ڈراموں کا موضوع یا تو سرے سے بنایا ہی نہیں جاتا یا پھر ایسے موضوعات کو مسلسل اور متواترنہیں فلمایا جاتا جس سے ڈرامے میں ایک قسم کا توازن قائم ہونے میں مدد مل سکتی ہو۔
اس کے برعکس خواتین کے ایسے کرداروں کا شور اور چیخیں زیادہ شدت سے بلند ہوتی سنائی دیتی ہیں جنھیں سننے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں ایسی خواتین موجود ہی نہیں ہیں جو عورت کی آبرو اور وقار کی علامت کہی جاسکتی ہوں گزشتہ دنوں بی بی سی نے SHEکے عنوان سے پاکستان میں خواتین کیEmpowermentکے لیے کام کرنے والی ایسی انفرادی اور مجموعی کوششیں کرنے والی خواتین کی ایک پوری سیریز اپنے پروگرام سیر بین میں پیش کی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

