پاکستانی ٹی وی ڈراما اور عورت!


اس سیریز کا شاید ہی کوئی پروگرام ایسا ہو جس میں پاکستانی ٹی وی ڈرامے میں دکھائی جانے والی عورت کے کردار پر پروگرام میں شریک خواتین نے تنقید نہ کی ہو، ان کا موقف یہ بھی رہا کہ پاکستانی ٹی وی ڈراما عورت کو کمزور دکھانے میں زیادہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ تاہم ایک طبقہ ایسا ضرور ہے جو ٹی وی ڈرامے میں عورت کی مظلومیت کے پرچار کا حمایتی ہے اس کے خیال سے عورت کی مظلومیت جس قدر بھی پاکستانی ڈراما دکھارہا ہے پاکستان میں عورت اس سے زیادہ مظلوم اور پسا ہوا طبقہ ہے۔

لیکن ایسی بات کرنے والے یہ نہیں کہتے کہ عورت کو گھریلو تشدد سے نجات کب اور کیسے مل سکتی ہے۔ کیا ایک دھائی سے بھی زیادہ عرصے پر محیط اس مظلومیت کا پرچار کرنے والا پاکستانی ٹی وی ڈراما جس پر اربوں روپیہ خرچ کیا جاچکا ہے۔ اب تک ایک فیصد بھی ایسی خواتین پیدا کرنے میں کامیاب ہوا ہے جنھوں نے گھریلو تشدد سے نجات حاصل کرنے میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے یا انھوں نے ذاتی خودمختاری کی طرف پہلا قدم بھی اٹھایا ہو۔

اس قسم کے اعداد وشمار کا پیش کیے جانا ان کے مقاصد میں شامل ہے اور نہ ہی تجارتی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے ایسے مقاصد کو اپنے پیش نظر رکھتے ہیں۔ یہ رویہ جتنی بھی بے حسی اور غیر زمداری پر مبنی کیوں نہ ہو۔ اس بات سے فرار حاصل نہیں کیا جاسکتا کہ تجارتی بنیادوں پر کام کرنے والے کسی بھی ادارے کی مصنوعات سے انسان یا انسان کے کسی بھی طبقے کو نقصان پہنچ رہا ہو تو اسے ایسا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی یا دی جاسکتی ہے؟

مغربی دنیا کے آزاد خیال معاشرے میں جہاں ہر قسم کے موضوعات پر فلمیں اور ٹی وی ڈرامے بنانے کی آزادی نظر آتی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آزاد خیال معاشرے بھی بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی واقعات پر مبنی موضوعات پر ڈراما یا فلم بنانے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ سماجی اخلاقیات کی سطح پر مغربی میڈیا کاکردار زیادہ زمدرانہ ہے۔ وہ جانتے ہیں ایسے واقعات کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنا سماج کے لیے زہر قاتل ہے۔

ان کے خیال میں یہ معاشرے کے لیے مناسب اور متحمل عمل نہیں ہے۔ لیکن پاکستانی میڈیا بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کو بھی ڈراما بنانے اور کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ہلکی سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ ظاہر ہے یہ بھی عورت کی ہی مظلومیت کی ایک اور قسم کی تصویر کشی کہی جاسکتی ہے۔ کیونکہ زیادہ تر ایسے ڈرامے کمسن بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں پر مبنی رہے ہیں۔ اس معاملے میں یقینا کوئی بھی ایک متفقہ رائے عامہ حاصل کرنا قریب ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

بہت سے لوگ ٹی وی ڈرامے کی موجودہ روش کے حق میں بھی موثر دلائل دے سکتے ہیں، سب سے کثرت سے جو بات کہی جاتی ہے وہ یہ کہ دنیا بھر میں تجارتی بنیادوں پر کام کرنے والے ایسے ادارے جو فلمیں اور ڈرامے بناتے ہیں ان کے اہداف میں سماج سدھار یا، معاشرے کے لیے اصلاحی مقصدکا حصول ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر ناظرین عورت کی مظلومیت اس کی بے توقیری سے حظ اٹھا رہے ہیں تو کمرشیل ڈراما یا اس قسم کی مصنوعات تو ہوتی ہی تفریح طبع کے لیے ہیں۔

تب ہی تو ان سب چینلز کو انٹرٹینمنٹ چینلز کہا جاتا ہے۔ ! ( یہ الگ بات ہے کہ انٹر ٹین منٹ چینلز بڑی مقدار میں ٹینشن اور ڈپریشنز پھیلاتے نظر آتے ہیں )تاہم ڈرامے کی ریٹنگ عورت کی مار کٹائی اور ذلت دکھانے سے ہی آتی ہے تو ایک کمرشیل چینل کیا کرے اس کے پاس اپنی بقا کا اور کوئی دوسرا راستا موجود ہی نہیں ہے۔ ایسے ادارے تب تک عورت کی تذلیل پر مبنی ان منفی کرداروں کوپیش کرتے رہیں گے۔ جب تک ا نھیں ریٹنگ مل رہی ہے اور ریٹنگ کے بدلے میں بھاری معاوضے والے اشتہارات مل رہے ہیں جن کی وجہ سے چینلز قائم و دائم ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ ایک بہت بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو ریٹنگ کے نظام کو منصفانہ نہیں سمجھتا۔ بلکہ ایسے لوگوں کے خیال میں ساز باز اور ملی بھگت کے نتیجے میں ریٹنگ کا رخ جب اور جہاں چاہیں موڑا جاسکتا ہے۔ ! اب یہ فیصلہ خود پاکستان کی خواتین کو کرنا ہے کہ وہ اپنے کردار کی ذلت، اسے پستیوں میں گرا ہوا دکھانا، منفی کرداروں کی غیر انسانی حد تک مکروہ بنا کے پیش کرنے کی ان کوششوں کو ٹی وی ڈرامے میں اسی طرح برداشت کرتی رہتی ہیں یا اپنے حق کے لیے کوئی ایسا موثر قدم بھی اٹھاسکتی ہیں جس سے عورت کو بھی باوقارانسان سمجھنے کی جس جدو جہد کے لیے باشعور خواتین طویل عرصے سے کوشاں ہیں اس کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادار کرنے کے لیے تیار ہیں؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4