اسلام میں فیملی پلاننگ ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مروجہ فیملی پلاننگ کا دوسرامرحلہ :

بعض لوگوں کو ذرا دیر سے عقل آتی ہے اور جب حمل ٹھہرجاتا ہے پھر وہ ”اسقاط حمل“ کراتے ہیں۔ اسقاط حمل اوراسقاط بچہ میں فرق ہے۔ حمل کے بعد چار ماہ تک گوشت کا لوتھڑا ( جنین) رہتا ہے اس کے بعد روح داخل کی جاتی ہے تو اسے بچہ کہا جاتا ہے۔ (جدید ریسرچ کہتی ہے کہ تین ہفتہ تک ہی جنین رہتا ہے اور اس کے بعد آکسیجن لینا شروع کردیتا ہے ) ۔

اگرکوئی میڈیکلی مسئلہ نہیں تو جنین کو ضائع کرنا بھی کوئی جرم نہیں۔ (ہاں اخلاقی کمزوری ضرور ہے۔ جیسا کہ ایک فقیر کو جھڑک کرخالی ہاتھ لوٹانا ایک اخلاقی جرم ہے مگر قانونا ”آپ خیرات دینے کے پابند نہیں ہیں۔

اب اس دوسرے مرحلے کو قرآن کی مذکورہ آیت کے تناظر میں دیکھئے۔

کسی نے اپنا جنین ضائع کردیا۔ یہ گوشت کا لوتھڑا یعنی جنین، نہ تو انسان ہے کہ اس کا ضائع کرنا ”قتل“ کہلائے اور نہ ہی یہ ”اولاد“ ہے۔ پس اس مرحلے پر بھی مذکورہ آیت کی دونوں بنیادی ٹرمز لاگو نہیں ہوتیں۔ نہ ”تقتلو“ اور نہ ہی ”اولادکم“۔ اس مرحلے پربھی اس آیت کا اطلاق نہیں ہوتا۔

مروجہ فیملی پلاننگ کا تیسرامرحلہ:

ماں کے پیٹ میں چار ماہ ( یا کم وبیش ) بعد بچہ زندہ ہوجاتا ہے۔ بعض لوگ ایسے کم عقل ہوتے ہیں کہ اب اس بچے کو گرا دینا چاہتے ہیں۔ ( یعنی ماردینا چاہتے ہیں ) ۔ یہ بچہ، اگرچہ ابھی رحم مادر سے تولد نہیں ہوا مگرزندہ انسان کے حکم میں ہے۔ اس کو مارنے والا بیوقوف چاہے اپنے تئیں فیملی پلاننگ ہی کررہا ہے، مگر اب ایک قابل مواخذہ جرم بھی کررہا ہے۔ اس کے باوجود، مذکورہ آیت یہاں بھی لاگو نہیں ہوتی۔

اس تیسرے مرحلے کو قرآن کی مذکورہ آیت کے تناظر میں دیکھئے۔

کسی نے اپنا چھ ماہا زندہ بچہ ناحق گرا دیا تو اس نے ایک انسان کا قتل کیا ہے۔ مگر چونکہ ابھی یہ بچہ پیدا نہیں ہوا تو اس بچہ کو عربی لغت کے ہنگام، ”اولاد“ کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ (باقی جو نام بھی دیں ) ۔ چنانچہ اس مرحلے پرمذکورہ آیت کی ایک بنیادی ٹرم یعنی ”تقتلو“ تو لاگو ہوگئی مگر دوسری ٹرم ”اولادکم“ لاگو نہیں ہوتی، پس یہاں بھی اس آیت کو ثبوت نہیں بنائیں گے۔

فیملی پلاننگ کے تینوں مراحل ختم ہوگئے۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد اس کو بھوک کے ڈر سے قتل کرو تو یہ وہ جرم ہے جس بارے مذکورہ آیت نازل ہوئی مگر ظاہر کے اس مرحلے پر اس کو فیملی پلاننگ نہیں کہتے۔

یاد رکھئے کہ جس زمانے میں یہ آیت نازل ہوئی، اس زمانے میں بھوک ( یا کسی اور وجہ) سے اگر بچے کم پیدا کرنے کا کسی کو خیال بھی ہو تو اس کی صرف دو ہی صورتیں مروج تھیں۔ یا توعزل کرے یا پھر بچہ پیدا ہونے کے بعد اس کو قتل کردے۔ عورت کے رحم کے اندر سے سپرم یا حمل گرادینے کی محفوظ ٹکنالوجی بہرحال، زمانہ جدید کی ٹکنیک ہے لہذا تاریخی اعتبار سے بھی اس آیت کا فیملی پلاننگ کے دوسرے یا تیسرے مرحلے سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ ( پہلے مرحلے کے جواز کے ویسے ہی سب قائل ہیں ) ۔

ہم مگر تاریخی روایات کی بجائے، لغوی اور منطقی پہلو سے ہی قانونی تشریح کریں گے کیونکہ قانونی بحث کا یہی انداز ہوا کرتا ہے۔ خاکسار کو احساس ہے کہ بحث کسی حد تک بوجھل ہوگئی ہے مگر کیا کریں؟ ایک قانونی نکتہ حل کرنا ہے۔ اس کو جتنا بھی سادہ بنائیں مگرایک حد تک جزئیات پر بات کرنا ہی پڑتی ہے۔

یاددہانی کے لئے عرض ہے کہ فی الحال یہ بحث نہیں چل رہی کہ ”فیملی پلاننگ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ “ بلکہ یہ بات چل رہی ہے کہ قرآن کی جس آیت کو فیملی پلاننگ کے موضوع سے منسلک کیا جاتا ہے، یہ ارتباط قانونا ”غلط ہے۔

اپنی بات کی مزید وضاحت کے لئے، ایک اور آئنی شق کی مثال لے لیتے ہیں۔ مثلاً ایک قانونی آرڈر کو ایک جملہ کی صورت ڈرافٹ کیا گیا ہے کہ ”کسی مسلمان کو ایک مشرک عورت سے شادی کرنا منع ہے“۔ ( فاعل : مسلمان مرد۔ فعل : شادی کرنا۔ سبجیکٹ : مشرک عورت ) ۔

اس آرٹیکل میں دو بنیادی ٹرمزہیں ”مشرک عورت“ اور ”شادی کا فعل“۔ ان دو ٹرمز میں سے ایک بھی غائب ہوگئی تو وقوعہ ( یا جرم ) مذکورہ آرٹیکل کے سکوپ سے باہر ہوجائے گا۔

ایک مسلمان نے ”مشرک عورت“ سے جنسی تعلق بنا لیا مگر ”شادی کیے بغیر“۔ تویہاں، آرٹیکل کی پہلی شق لاگو ہوئی مگر دوسری نہیں ہوئی۔ (یعنی مشرک عورت تو موجود ہے مگر شادی ہی ثابت نہیں ہوئی ) ۔

ایک مسلمان نے ایسی عورت سے شادی کی جو نہ مسلمان ہے نہ مشرک بلکہ جدید معنوں میں ملحد عورت ہے۔ تو یہاں، آرٹیکل کی دوسری شق لاگو ہوئی مگر پہلی نہیں ہوئی ( کہ شادی تو ہوگئی مگر عورت مشرک نہیں بلکہ کچھ اور ہے ) ۔

دونوں صورتوں میں اب آپ یا تو نئی قانون سازی کریں گے یا پھر آئین کے کسی اور آرٹیکل کا حوالہ دیں گے تو مقدمہ کی دفع لگے گی ورنہ مگر مذکورہ آرٹیکل میں بیان کی گئی اگر ایک بنیادی ٹرم بھی موجود نہیں تو اس شق کے مطابق کیس درج نہیں ہو سکتا۔

بعینہ اسی طرح، فیملی پلاننگ کے فعل میں ”تقتلو“ اور ”اولادکم“ والی ٹرمز اگر انوالو نہیں تو مذکورہ آیت کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

ستم ظریفی کی حد دیکھئے کہ اتنی آسان وضاحت کے بعد بھی فرمانے لگے ”آپ نے اپنا کیس ثابت کرنے کے لئے آیت کی تاویل کی ہے“۔

عرض کیا ”چلئے یونہی سہی۔ مگر سورہ حجرات کی آیت لاترفعو اصواتکم، کیا زیربحث آیت سے زیادہ واضح اورصاف نہیں ہے؟ اور اس کی تاویل کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے؟ “۔

بہرحال، اب تک کی بحث کا خلاصہ تین باتیں ہیں :

1۔ کسی بچے کے مادررحم سے باہر آنے سے پہلے پہلے اس کو روکنے کی جو ترکیب کی جائے ( چاہے کوئی وجہ بھی ہو) اسی کو فیملی پلاننگ کہا جاتا ہے۔ مگر بچہ جبتک باہر نہ آجائے، اس کو اولاد نہیں کہا جاسکتا۔

2۔ قرآن کی مذکورہ آیات چونکہ اولاد کے قتل سے تعلق رکھتی ہیں تو فیملی پلاننگ پروگرام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

3۔ اپنی اولاد کو کسی بھی وجہ سے مارنا غلط ہے۔ یہ ایک الگ جرم ہے۔ اس کی ایک الگ ہسٹری بھی ہے۔ آج بھی کسی نہ کسی صورت یہ جرم ہو رہا ہے۔ ہمارا موضوع اس وقت دوسرا ہے ورنہ اس بارے تفصیل عرض کرتا۔ قرآن کی مذکورہ آیات، اسی بھیانک جرم بارے ہیں۔

چنانچہ، فیملی پلاننگ بارے کوئی شرعی قانون سازی کرنا ہو تو قرآن کی بجائے کوئی دوسرا ریفرنس ڈھونڈنا پڑے گا کیونکہ قرآن میں اس موضوع بارے کوئی نص صریح موجود نہیں ہے۔

شریعت کا دوسرا ماخذ، حدیث رسول ہے مگر ظاہرہے کہ اس بنا پرکی گئی قانون سازی، شرعا ”اساسی نہیں بلکہ ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔

اپچ مگر یہ آن پڑی ہے کہ اس ثانوی قانون سازی بارے بھی عالم اسلام میں بنیادی فکری اختلاف موجود ہے۔ حدیث کی بنا پر شرعی نظام ترتیب دینے بارے مسلمانوں کے تین طبقات میں گہرا اختلاف ہے۔ یعنی اہل سنت۔ اہل تشیع۔ اوراہل قرآن کا احادیث بارے یکساں موقف نہیں ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل، باردگریہ وضاحت کی جاتی ہے کہ مسلم سیکولرز، صرف ان دینی مسائل کو اہمیت دیتے ہیں جو سوسائٹی پہ اثرانداز ہوتے ہوں۔ ہمارے خیال میں ایک فلاحی ریاست کا صرف دونکاتی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ امن اورمعیشت کی فراہمی۔ (اور دونوں کی اساس ”انصاف“ ہے ) ۔

بے ہنگم اور بے تحاشا آبادی، امن اور معیشت کو بری طرح متاثر کرتی ہے پس ایک اسلامی ریاست کو اس بارے سوچ وبچار کرنا ضروری ہے۔ ( یہاں ریاست کے ساتھ لفظ ”اسلامی“ عجیب لگتا ہے مگر عمومی تفہیم کے لئے استعمال کرلیتے ہیں ) ۔ یہ بھی مدنظر رہے کہ ہم ”اسلامی ریاست“ اور ”مسلمان ریاست“ میں فرق کرتے ہیں۔ ( پس ہمارے نزدیک خلیجی ممالک ”مسلمان ریاستیں“ ہیں جبکہ سکنڈے نیوین ممالک ”اسلامی ریاستیں“ ہیں ) ۔ فیملی پلاننگ کا ایشو، مسلم سیکولرز کے لئے ایک اہم ایشو ہے۔

ہم اپنا مقدمہ اسی حدیث شریف پر قائم کریں گے جس پر فیملی پلاننگ کے مخالف مولوی صاحبان نے اپنامقدمہ بنا رکھا ہے۔ یہ حدیث ”ابوداؤد“ اور ”نسائی“ میں موجود ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں کیاجاتا ہے : ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسی عورت سے نکاح کرو جو اپنے خاوند سے محبت کرنیوالی ہو اور زیادہ بچے جننے والی ہو کیونکہ دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا“۔

قارئین کرام!

اس وقت عالم اسلام کی غالب سنی اکثریت کے نزدیک حدیث رسول کی چھ کتب کو مستند ترین ریفرنس تسلیم کیا گیا ہے اوران میں سے بھی امام بخاری کی لکھی ہوئی کتاب کو قرآن شریف کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب مانا گیا ہے۔

اسکی وجہ کیا ہے؟

وجہ یہ ہے کہ امام بخاری صاحب نے تین براعظموں پہ پھیلی حکومت اسلامیہ کے طول وعرض میں سفر کیا، سینکڑوں لوگوں سے ملے، جن سے لاکھوں احادیث جمع کیں، پھران لوگوں کی سچائی پرکھنے کے لئے ایک کڑامعیار وضع کیا اور بالاخربرس ہا برس کی محنت شاقہ کے بعد، تقریباً 4 لاکھ احادیث میں سے صرف 4 ہزار کے لگ بھگ احادیث کو درست ترین قرار دیکرکتاب تالیف کی۔

مگر عالم اسلام میں موجود تقریباً 20 کروڑ اہل تشیع حضرات، بخاری سمیت ان چھ کتب احادیث کو سند تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے ہاں، الگ سے چار کتب حدیث ہیں (جن کو شرعی قوانین کا دوسرا ماخذ سمجھتے ہیں ) ۔

اہل تشیع کے پاس الگ کتب حدیث کیوں ہیں؟

اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ صرف اہل بیت سے روایت کردہ حدیث شریف کوہی درست ترین قرار دیتے ہیں کہ جب رسول خدا کے گھر کے ہی دیانتدار لوگ ایک بات بیان کررہے رہوں تو کسی اور سے پوچھں ے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

عالم اسلام میں ایک قلیل تعداد ایسے لوگوں کی بھی رہی ہے جو سرے سے حدیث کوماخذ شریعت ماننے سے ہی انکاری رہے۔ ان کے مطابق، جب قرون اولی میں ہی لاکھوں جھوٹی احادیث وضع کردی گئیں تواب اس کا کیا اعتبار رہا؟ عموماً یہ لوگ خود کواہل قرآن کہتے ہیں جبکہ مولوی صاحبان ان کو ”منکرین حدیث“ کا نام دیتے ہیں۔ ( جس کا جواب وہ یوں دیتے ہیں کہ اگر 4 لاکھ احادیث کو ریجیکٹ کرنے والا امام بخاری صاحب ”منکر حدیث“ نہیں ہے تو ان کی جمع کردہ 4 ہزاراحادیث کو ریجیکٹ کرنے پر بھی کوئی منکر حدیث نہیں بن جاتا) ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4