اسلام میں فیملی پلاننگ ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ہے
بخاری شریف کا بتکرار تذکرہ کرنے کی ایک وجہ ہے۔ تحریک انصاف کا نعرہ ہے کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنائیں گے۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کانظام نافذ کریں گے۔ اگرچہ دونوں دعوے، سیاسی ہیں مگر ان کا سارا فکری سٹرکچر، بخاری شریف پرمنحصر ہے۔ اگراس کتاب پہ انگلی اٹھے گی تو ”شرعی نظام“ کا سارا تصور ہی زمیں بوس ہوجائے گا۔
چنانچہ، اس کتاب بارے غلو سے بچنے کے لئے معترضین کا موقف جاننا بھی ضروری ہے۔
اہل تشیع کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ امام بخاری صاحب، خراسان سے دمشق تک گھوم پھرکر روایات اکٹھی کرتے رہے مگر مدینہ میں بیٹھے ہوئے اہل بیت کے پاس جانے میں ان کو کیا پرابلم تھا کہ اہل بیت سے مروی ایک حدیث بھی اپنی کتاب میں شامل نہیں کی؟ اس کے علاوہ، اہل تشیع کا یہ دعوی ہے کہ ان کی کتب احادیث، بخاری شریف سے کہیں پہلے مرتب ہوچکی تھیں۔
رہے ”منکرین حدیث“ یا ”اہل قرآن“ تو ان کو ہراس حدیث پر اعتراض ہے جو منطق کی کسوٹی پر پورا نہ اترے۔ مثلاً مذکورہ بالا حدیث کو ہی لے لیں جو ان کے خیال میں رسول جیسے بلیغ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا بلکہ کسی مولوی نے اپنا سودا بیچنے کوبات بنائی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ ہدف ”کثرتِ اولاد“ ہو مگرمیاں بیوی میں سے مرد، کمزور ہوتوپھرخالی عورت کیسے بچے بڑھائے گی؟ مرد بارے تو کوئی ہدایت نہیں کی گئی توکیا اولاد جننا صرف عورت کے بس میں ہے؟ دوسری بات یہ کہ زمانہ نبوت میں شادی سے قبل کون سا میڈیکل ٹسٹ یہ بتاتا تھا کہ فلاں لڑکی، زیادہ بچے جنتی ہے لہذا اس سے شادی کرلو ( جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یہ خالص خداکا فیصلہ ہوتا ہے ) ۔ اس حدیث پرتیسرا سوال یہ کہ شادی سے پہلے بھلا کیسے مردکو پتہ چلے گا کہ یہ لڑکی، اپنے شوہر سے محبت کرنے والی ہے؟
برسبیل تذکرہ، اوپرجو حدیث بیان کی گئی ہے، اس سے بھی زیادہ واضح حدیث، ایک زیادہ معتبرکتاب یعنی صحیح مسلم شریف میں درج ہے مگراسکا ریفرنس نہیں دیاجاتا۔ وہ حدیث کچھ یوں ہے کہ صحابہ نے حضور نبی کریم سے عزل بارے دریافت کیا ( عزل کہتے ہیں عورت کے اندر کی بجائے باہر ڈسٹارج ہونے کو) ۔ تو نبی کریم نے جوابا ”فرمایا کہ یہ تو قتل خفی ہے ( یعنی خفیہ طور پرانسان کو قتل کرنا ہے ) ۔ اب مولوی صاحبان اس حدیث کوفیملی پلاننگ کے خلاف کیوں ریفرنس نہیں بناتے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس واضح ہدایت کے باوجود بھی صحابہ کرام، عزل کیا کرتے تھے پس اب مولوی صاحبان اس کو حرام قرار نہیں دے سکتے۔ دوسری وجہ وہی منطقی اعتراض ہے کہ بھلا مادہ منویہ کو باہر ضائع کردینا ہی اگر قتلِ انسان شمار ہوتا ہے تو پھر دنیا کا شاید ہرمرد ہی قاتل ٹھہرے گا۔
کہا جاسکتا ہے کہ ”امت مسلمہ“ میں سے صرف 10 فیصد اہل تشیع اور کسی شمار میں نہ آنے والے منکرین حدیث کی وجہ سے بخاری کو کیوں مشتبہ قرار دیا جائے؟ مگراہل علم جانتے ہیں کہ قانون سازی میں کثرت تعداد نہیں بلکہ قوت ِدلیل کو دیکھا جاتا ہے۔
ہمارے پاس مذکورہ بالا اعتراضات کا جواب موجود ہے۔ ہم اگرچہ قرآن وحدیث کی تشریح اپنے سیکولر نکتہ نظر سے کیا کرتے ہیں مگر بخاری شریف کو شرعی سند مانتے ہیں۔ یہ ساری بحث صرف ان حضرات کے لئے کی گئی ہے جو دروازے کی جھری سے لگ کرمنظر دیکھتے ہیں۔ ان سے گذارش ہے کہ دروازہ کھول کر باہر جاکر مشاہدہ کیا کریں اور فقط اس پہ نہ رہیں کہ ”اکابر نے تو یوں فرمایا تھا“۔ یہ بات ذہن میں رکھئے کہ آج کی متمدن ریاست میں اگر آپ شریعت چاہتے ہیں ( چاہے وہاں سارے مسلمان ہی بستے ہوں ) تو صرف احادیث کے حوالے سے متفقہ قانون سازی ممکن نہیں ہے۔ لامحالہ، آپ کو منطق ودلیل کی بنیاد پر اپنا موقف منوانا پڑے گا (اور اسی کو سیکولرزم کہتے ہیں ) ۔
قارئین کرام!
فیملی پلانگ کے موضوع پر عالم اسلام میں ابتک چار قسم کے موقف موجود رہے ہیں۔
1۔ ایک طبقہ تو کٹھ ملاؤں کا ہے جو فیملی پلاننگ کرنے کو حرام اور کفر سمجھتا ہے۔
2۔ دوسرا طبقہ معتدل علماء کا ہے جواسکو حرام کی بجائے مکروہ قرار دیتا ہے۔
3۔ تیسرا طبقہ علمائے دیوبند میں سے وہ ہے جو چند شرائط کے ساتھ اس کے جواز کا قائل ہے۔
4۔ چوتھا طبقہ وہ ہے (شاید غامدی صاحب وغیرہ) جواس ایشو کوفقط ایک انتظامی ایشو سمجھتا ہے (یعنی اس کو مذہبی ایشو نہیں سمجھتا) ۔
ہماری گذارش یہ ہے ”مسلم سیکولرز“ کوپانچواں طبقہ شمار کیا جائے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فیملی پلاننگ کرنا، شریعت اسلام کی منشاء ہے اور یہ مطلوب ہے۔
رسول خدا نے اپنے صحابہ کو ایک نصیحت کی تھی (جس کا پس منظر یا پیش منظر تو ہم نہیں جانتے ) جو لفظ بہ لفظ یوں رپورٹ کی گئی ہے۔
عن معقل بن یسار قال : قال رسول اللہ صلى اللہ علیھ و سلم : ”تزوجوا الودود الولود فإنی مکاثر بکم الأمم“۔ رواھ أبو داود والنسائی
ترجمہ : حضرت معقل بن یسار کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسی عورت سے نکاح کرو جو اپنے خاوند سے محبت کرنیوالی ہو اور زیادہ بچے جننے والی ہو کیونکہ دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔
برادران کرام!
رسول اکرم کی اس نصیحت کا ایک خاص ٹارگٹ ( ہدف ) ہے۔ یہ ہدف ”مسلمانوں کی کثرت“ نہیں بلکہ ان مسلمانوں کی کثرت ہے جورسول کے لئے قابل فخر ثابت ہوں۔
بروزمحشر (جو کہ رزلٹ کا دن ہے ) ، امت کی تعداد کی خالی کثرت بھی کوئی قابل فخر بات ہوسکتی ہے بھلا؟ کیا یہ الکشن میں ووٹ گنے جارہے ہیں؟
اگر ایسی بات ہے توپھر ہم ہار ہی گئے کیونکہ قیامت تک، تعداد میں غیرمسلم ہی زیادہ رہیں گے ( بلکہ آخری زمانہ میں تو دنیا بھر میں ایک ہی کلمہ گو باقی رہ جائے گا ) ۔
اسلام، ”کوانٹٹی“ کا نہیں بلکہ ”کوالٹی“ کا دین ہے۔ زیادہ نمازیں نہیں بلکہ اچھی نمازیں مطلوب ہیں ( کتنی نمازیں واپس منہ پہ مار دی جاتی ہیں ) ۔ زیادہ روزے نہیں بلکہ معیاری روزے مقصود ہیں ( کئی لوگوں کے روزے فقط فاقہ شمار ہوتے ہیں ) ۔
یوں تو کامن سینس کی بات ہے مگرایک مثال سے مزید واضح کرتا ہوں۔
مدارس کے سالانہ امتحانات کے نتیجہ کا دن ہے۔ دو عدد سکول ہیں جن میں باہمی مقابلہ ہے اور دونوں کے پرنسپل صاحبان بھی موجود ہیں۔
ایک پرنسپل کے سکول میں ایک ہزار بچے پڑھتے ہیں جن میں سے 10 بچے پاس ہوئے اور 990 فیل ہوگئے۔
دوسرے پرنسپل کے سکول میں کل سو بچے پڑھتے ہیں جن میں سے 80 پاس اور 20 فیل ہوگئے۔
بتایئے کہ دونوں میں سے کون سا پرنسپل فخر محسوس کرے گا اور کس تعداد پر؟
کل بچوں کی تعداد، پاس ہونے والوں کی اور فیل ہونے والوں کی تعداد آپ کے سامنے ہے۔ کیا کل تعداد پر یا پاس شدہ کی تعداد پر فخر کیا جائے گا؟ لہذا کثرت کا حقیقی معنی سمجھا جائے۔ ( خدا معاف کرے، ہمارے جیسے کروڑوں امتی دھڑا دھڑ پیدا کردیئے جائیں تومیرا نہیں خیال کہ یہ نمونے پیش کرکے، رسول خدا، دوسرے رسولوں پر فخر کا اظہار کریں گے ) ۔
حدیث شریف میں مگر بڑی وضاحت سے ”زیادہ بچے“ پیدا کرنے کی بابت حکم موجود ہے۔
آیئے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دیکھئے، بغیر کسی خاص مقصد / وجہ / ہدف یا علّت کے نہ تو کوئی حکم دیا جاتا ہے اور نہ ہی نصیحت کی جاتی ہے۔ حکمیہ جملہ البتہ تین صورتوں میں بیان ہواکرتا ہے۔ کبھی تواس جملے میں ”مجرد حکم“ ہی دیا جاتا ہے۔ ( کھانا کھایا کرو) ۔ کبھی اس کے ساتھ علت یا ہدف بھی بیان کردیا جاتا ہے ( تاکہ صحت مند رہو) اور کبھی اسی جملے میں ہدف کو حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بتادیا جاتا ہے۔ (ایک سیب روزانہ ) ۔
جب ایسا کوئی تفصیلی جملہ سامنے آجائے جس میں ”حکم، ہدف اور اس ہدف کو حاصل کرنے والے ذرائع یا اسباب“ یعنی تینوں باتیں بیان کی گئی ہوں تو اس حکم میں اصل چیز ”ہدف“ ہی ہوتا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے بتائے گئے ذرائع، اصل حیثیت نہیں رکھتے۔
ایک حکمیہ جملہ دیکھئے : ”روزانہ دس گھنٹے پڑھا کرو تاکہ کلاس میں فرسٹ آجاؤ“۔
اس حکم میں ہدف کیا ہے؟ فرسٹ پوزیشن لینا
اس ہدف کو حاصل کرنے کا ذریعہ یا سبب کیا ہے؟ دس گھنٹے پڑھنا۔
اس حکم میں اب اصل حیثیت کس بات کو حاصل ہے؟ اس پر خود سوچیئے۔
اگر دس گھنٹے پڑھنے سے بندہ بیمار ہوجانے اور پھر فیل ہوجانے کا ڈر ہو تو کیا کیا جائے گا؟ کیا پھر دس گھنٹے سے کم پڑھنے والا نافرمان شمار ہوگا؟ ( میرا تو خیال ہے کہ کمزور لڑکے کو دس گھنٹے پڑھنے پر مجبور کرنے والا استاد ہی نافرمان یا کم از کم بیوقوف شمار ہوگا ) ۔
چنانچہ مذکورہ بالا حدیث میں بھی ایک ہدف بیان ہوا ہے اور ایک اس کا ذریعہ بیان ہوا ہے۔
ہدف ہے ”تم جیسوں کی کثرت“ یعنی ”صحابہ جیسوں کی کثرت“۔ بالفاظ دیگر ”امت کے قابل فخر طبقہ کی کثرت“ ( کیونکہ جو طبقہ مخاطب تھا، وہی معیار ہے ) ۔
اگرذرا سا بھی سوچا جائے تو بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث شریف میں دراصل، بچوں کی تعداد کا نہیں بلکہ ان کی صفات کا ایشو ہے۔ یہی ہدف تاقیامت رہے گا مگر زمان ومکان کے لحاظ سے اسباب میں فرق آتا جائے گا۔
اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے زمانہ نبوت میں کیا اسباب بتائے گئے تھے : زیادہ بچے پیدا کرنا۔
فرض کریں کہ کسی خاص زمانہ یا خاص سوسائٹی میں اگر زیادہ بچے پیدا کرنے سے ”قابل فخر طبقہ“ کم ہوتا ہو جبکہ کم بچے پیدا کرنے سے یہ ہدف زیادہ حاصل ہو تواس صورت میں منشائے حکم کیا ہوگا؟ ذریعہ بدل کر ہدف کو حاصل کرنا یا ہدف کو چھوڑ کرذریعہ کو پکڑے رہنا؟
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

