ہیرا منڈی، طوائف اور لیڈی ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو پیشے، ایک انتہائی معزز، دوسرا معاشرے کا ناسور!

پر ہے ایک قدر مشترک اور وہ ہے عورت!

کوئی عورت شرافت کے سنگھاسن پہ براجمان ہو تی ہے اور کوئی پاتال میں اتر جاتی ہے، یہ تقدیر کا وہ کھیل ہے جو کوئی آج تک سمجھ نہیں سکا۔ کائنات کے اسرار میں زمان و مکان کا فیصلہ کس کے لئے کیا ہے اس پہ نہ ہم قادر ہیں نہ آپ۔

کل رات وفاقی مشیر اطلاعات لیڈی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ایک پرانا کلپ دیکھنے کو ملا جس میں وہ طیش کے عالم میں بازو ہلا ہلا کے فرما رہی تھیں کہ ان کا کیریئر کسی ہیرا منڈی کی طوائف جیسا شروع نہیں ہوا۔

مذکورہ بیان اور بیان داغنے والی میں پھر ایک قدر مشترک تھی، عورت!

ان کی خوش گفتاری اور جوش کے تو ہم ان دنوں سے مداح ہیں جب وہ میڈیکل کالج میں ہماری جونیئر ہوا کرتی تھیں اور تب بھی انسانیت کی خدمت کی بجائے سیاسی قلابازیوں پہ زیادہ یقین رکھتی تھیں- بس یہ سمجھ نہیں آیا کہ انہہں کیرئیر کی مثال کے لئے ہیرا منڈی کا انتخاب کیوں کرنا پڑا

گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں

ہیرا منڈی ہمارے معاشرے کی ایک ایسی مسخ تصویر ہے کہ جسے کوئی بھی دن کی روشنی میں کھلی آنکھوں نہیں دیکھنا چاہتا۔ منٹو نے دن رات وہاں کی عورت کے بارے میں جو نشتر زنی کی ہے وہ آج بھی دل چیرتی ہے.

طوائف، ایک ایسی عورت جس سے بیک وقت محبت بھی کی جاتی ہے اور نفرت بھی۔ پروانے بےشمار، ضرورت کے وقت وہ سر کا تاج ہے اور ضرورت نکلنے پر پاؤں کی جوتی۔ اس کی مثال اس ٹشو پیپر سی ہے جو آپ کے گندگی میں لتھڑے ہاتھوں کو صاف تو کرتا ہے پر خود کوڑے کے ڈھیر میں فنا ہو جاتا ہے۔

طوائف ایک جیتی جاگتی عورت ہے، میرے اور آپ جیسی، احساسات، جذبات اور خیالات سے بھر پور۔

وقت کی تفریق اور گردش میں عورت کے اس کردار اور مقام کا تعین کون کرتا ہے؟ معاشی ناہمواری، زمانے کا استحصال، مرد کا جبر یا ازلی جنسی بھوک؟

کون ہے آخر جو عورت کی مجبوریوں کو نیلام کرنے وہاں بساتا ہے؟ کون مالک بھی بنتا ہے اور خریدار بھی؟ کون ہے جو دن کی روشنی میں اس پہ ٹھٹھے لگاتا ہے اور رات کے اندھیرے میں اس کی آغوش میں پناہ۔

فلم دیکھنے کا اور کتاب پڑھنے کا شوق ہو تو معاشرے کے اس ناسور سے آپ کا تعارف بچپن میں ہی ہو جاتا ہے پر ساتھ میں ہی ایک احساس اندر سمو دیا جاتا ہے کہ اس موضوع پہ کوئی سوال نہیں، کوئی ذکر نہیں۔

ہم بھی معاشرے کے اس رویے کے ساتھ پل بڑھ کے بڑے ہوئے۔ پڑھائی کی خاطر لاہور پہنچے۔ تجسس اور ایک پروجیکٹ کی خاطر ہم نے اس بازار سے گزرنے کی ہمت کی مگر دن کی روشنی میں۔

تنگ گلیاں، سنسان چوبارے، مرجھائے ہوئے پھول، آوارہ کتے، عطر پھول بیچنے والے چرسی اور اکا دکا بالکنی میں کھڑی عورتیں، میک اپ کی تہوں کے بغیر مدقوق چہرے جو حالات کے ستم کی تحریر کردہ لکیریں دور سے بھی دکھاتے تھے۔ اپنے آپ سے بے نیاز، گہری سوچوں میں گم، جانے گزری رات کا غم تھا، یا آنے والی شب کی فکر۔ یہ عورتیں نہیں تھیں، کہانیاں تھیں، ننگی کہانیاں۔ جن سے ہم جیسے شریف گھروں میں پیدا ہونے والے لوگ منہ چھپا کے گزر گئے۔ ہمت ہی نہ ہوئی کہ معاشرے کی اس مکروہ اور بدصورت شکل سے پردہ اٹھایا جائے اور مجبور کہانیوں کی کہانیاں کہی جائیں۔

وقت گزرا، ان خواتین کو بھی کیرئیر اچھا کر نے کا شوق چرایا کچھ قدردان بھی یہی چاہتے تھے سو ہیرا منڈی کے یہ ہیرے بستیوں میں آ بسے اور ہیرا منڈی معاشرے کے اشرافیہ کے لئے سیاحتی جگہ بن گئی۔

گزشتہ سرما جب امی کی عیادت کے لئے پاکستان گئی تو پتہ چلا کہ سامنے والے گھر میں کچھ ایسے کرایہ دار آئے ہیں جن کا تعلق ہیرا منڈی سے معلوم ہوتا ہے۔ شام ڈھلے بڑی بڑی گاڑیاں آ رکتی ہیں اور موسیقی کی تانیں بکھرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حیرانی کا مقام تھا پر معاشرے کا چلن دیکھ کے اب حیران ہونے کی بھی ہمت نہیں رہی۔ دو ہی دن بعد نئے سال کی رات تھی۔ سارا دن امی کی حالت دیکھ کے بے حال تو تھی ہی، سر بھی شدید درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ بستر پہ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ ایک عجیب سے شور سے گھبرا کے اٹھ بیٹھی، مردانه و زنانہ چیخیں، بہت اونچا میوزک، بےہودہ گانے۔

یہ ہنگام بدتمیزی صبح صادق تک جاری رہا، بہت دفعہ دل چاہا کہ جا کے دستک دوں اور ہمسائیوں پہ گزرنے والی قیامت کا بتاؤں لیکن گھر والوں نے کسی انہونی کے ڈر سے روک دیا۔

کچھ دنوں بعد امی اللہ کو پیاری ہو گیئں۔ سوئم کا ختم تھا، سیپارے اور یسین پڑھی جا رہی تھی۔ ایک خاتون داخل ہویئں، دراز قد، خوش شکل، سمارٹ، باوقار۔ تعارف سے معلوم ہوا کہ سامنے والے گھر سے آئیں ہیں۔ مجھے ان سے دو تین دفعہ پوچھنا پڑا کہ کیا واقعی سامنے والے گھر سے۔

انہوں نے سیپارہ پڑھا، دعائیہ ختم میں حصہ لیا، رخصت ہوئیں اور ہمارے پاس بہت سے سوال چھوڑ گئیں۔

منٹو کے مطابق کوئی وقت ایسا بھی ضرور آتا ہو گا جب طوائف اپنے پیشے کا لباس اتار کے صرف عورت رہ جاتی ہو اور یہ شاید ایسا ہی وقت تھا

ہم محترمہ وزیر صاحبہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا کے بازار میں جسم کے علاوہ بھی بہت کچھ بکتا ہے، خیالات، نظریات حب الوطنی، وابستگی اور وفاداری !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •