کیا آپ عورتوں کی آزادی سے خوفزدہ ہیں؟


simone de bouvoir

بے ٹی : میں آپ سے متفق نہیں ہوں ماں بننے کی خواہش غلط عقیدہ نہیں ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ اس روایت کے ساتھ کچھ غلط قسم کا تقدس گھل مل گیا ہے

سیمون : جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے اسے ماں بننے کا پیشہ سکھایا جاتا ہے گھر کا کام کاج کرنا برتن صاف کرنے کی تربیت دی جاتی ہے چونکہ معاشرہ ان سے گھر کا کام کروانا چاہتا ہے وہ اسے ماں بننے کی ترغیب دیتا ہے لیکن ماں بننا کوئی پیشہ نہیں ہے جب تک معاشرے کی یہ روایت ختم نہیں ہوگی ہم کوئی بنیادی تبدیلی نہ لا سکیں گے اسقاط حمل کی جدوجہد کا مقصد ہی یہ ثابت کرنا تھا کہ عورت بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے

بے ٹی : تو کیا آپ کا یہ ایمان ہے کہ عورتوں کو ماں نہیں بننا چاہیے

سیمون : نہیں میں یہ نہیں کہہ رہی آپ اختیار کی بات کر رہی ہیں میں یہ کہنا چاہتی ہو کہ ہر لڑکی کی اس طرح تربیت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بڑی ہو کر ضرور ماں بنے۔ میں یہ بھی نہیں کہتی کہ مردوں کو باپ نہیں بننا چاہیے بات اتنی ہے کہ انہیں یہ فیصلہ خود سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے نہ کہ معاشرے کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے ایسا قدم اٹھانا چاہیے۔

بے ٹی : مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ عورتوں کو خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ ماں بننا چاہتی ہیں یا نہیں اور بننا چاہتی ہیں تو زندگی کے کس مرحلے پر۔ ہم پورے معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں تاکہ وہ عورتیں جو مائیں بنیں وہ زندگی کے بقیہ حصے سے بھی پورا استفادہ کر سکیں۔ بچوں کی نگہداشت کے لیے ہمیں پورا نظام ہی بدلنا ہوگا جس میں ماں باپ بچوں کے سینٹر اور ماحول سب شامل ہیں اگر پورا نظام بہتر ہو جائے تو بہت سی عورتیں خوشی خوشی ماں بننا پسند کریں گے میرے نزدیک ماں بننا ایک میٹھا پھل ہے میری ذاتی زندگی کا وہ ایک اچھا پہلو تھا۔

سیمون : ماں بننے اور گھر کا کام کرنے کو یکجا کیوں کیا جائے اس تعلق سے جو عورت ماں بنتی ہے وہ گھر کا کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور ہمیں اس روایت سے اتفاق نہیں ہے اسے عورتوں کا کام کرنے سے آزاد ہونا چاہیے مسئلہ یہ ہے کہ اگر لڑکی کو بچپن سے ماں بننے کی ترغیب ملتی رہے تو جب وہ بیس برس کی ہوتی ہے تو اس کا اختیار ختم ہو چکا ہوتا ہے

بے ٹی : اس کو اور چیزوں اور راستوں کا بھی اختیار ہونا چاہیے لیکن ماں بننے کا راستہ بھی کھلا رہنا چاہیے۔

سیمون :میں نے سوچا تھا کہ میں بچے پیدا نہیں کر سکتی کیونکہ میں نے لکھاری بننا تھا لیکن ہم موضوع سے ہٹتے جا رہے ہیں میرے خیال میں اگر عورتوں کو گھر کے کام کی اجرت ملنی شروع ہوگی تو ہم اس نظام کو جس میں گھر کا کام عورت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے بدلنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے میں اس کے بالکل حق میں نہیں ہوں

بے ٹی : تو آپ کی نگاہ میں عورتوں کے گھر کے کام کی کوئی قدر نہیں

سیمون : ایسی قدر ہے جس میں ہم مردوں اور معاشرے کو شریک کرنا چاہتے ہیں تاکہ عورتیں گھر کا کام کرنے پر مجبور نہ ہوں

بے ٹی : مجھے اس سے اتفاق ہے

سیمون : اسی لیے گھر کے کام کا معاوضہ نہیں ہونا چاہیے۔ معاشرہ ایسا ہو کہ اس قسم کا کام اجتماعی طور پر ہو سکے ایک چینی مرد نے کہا تھا میں اپنے دانت خود صاف کرتا ہوں میں اپنی بیوی سے دانت صاف نہیں کرواتا باقی کاموں کا بھی یہی حال ہونا چاہیے لونڈری کے سینٹر ہونے چاہییں جہاں پوری بلڈنگ کے کپڑے دھل سکیں۔ ہم اس راستے پر چل رہے ہیں جہاں لوگ مختلف کاموں میں تخصص حاصل کر لیں گے

بے ٹی : کیا ہم آج کے معاشرے کی بات کر رہے ہیں یا مستقبل کے معاشرے کی۔ میری نگاہ میں جو شخص جو کام کرتا ہے اس کی قدر ہونی چاہیے

سیمون : اگر آپ ماضی کی بات کر رہی ہیں تو وہ اور بات ہے لیکن مستقبل میں حالات بدلنے چاہییں جیسے آپ لوگ کسی شخص کو اپنے دانت صاف اور ہاتھ دھونے کا معاوضہ نہیں دیتے اسی طرح ہر شخص کو اپنا کام خود کرنا چاہیے اپنے برتن صاف کرنا کمرے کی صفائی کرنا بستر بنانا اور اس طرح گھریلو کام کا تصور بھی بدل جائے گا اور مسئلہ ختم ہو جائے گا

بے ٹی : جہاں تک ماں بننے کا تعلق ہے ہمیں اس کے اچھے پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے عورتوں کو ماں بننے یا نہ بننے کا اختیار ہونا چاہیے لیکن ماں بننا بذات خود قابل قدر چیز ہے۔

سیمون : باپ بننا بھی قابل قدر چیز ہے لیکن اس کا کوئی ذکر نہیں کرتا زندگی کی بہت سی اقدار ہیں لیکن بعض مشکوک قسم کی اقدار ہیں۔ بچوں کی آزادی بھی ایک اچھا خیال ہے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ بچوں کی نگہداشت کس قسم کی ہو رہی ہے والدین اور بچوں کا رشتہ ایک مشکل رشتہ ہے

بے ٹی : تو پھر ہم نسل انسانی کو آگے کیسے بڑھائیں گے؟

سیمون : کرہ ارض پر پہلے ہی بہت لوگ ہیں

بے ٹی : میں چند لمحوں کے لیے محبت شادی اور جنس کے عورتوں کی تحریک آزادی کے ساتھ تعلق پر گفتگو کرنا چاہتی ہوں۔ میری نگاہ میں مرد کے ساتھ جنسی تعلق لازمی نہیں کہ منفی اور غیر صحت مندانہ ہو اس رشتے کو عورتوں کی تحریک کا دشمن نہیں سمجھتی۔ موجودہ دور میں چونکہ عورت کا مقام معاشرے میں گر چکا ہے اس لئے جسم عورتوں کے استحصال کے طور پر استعمال ہوتا ہے جب تک عورت مردوں سے برابر نہیں ہوگی صحیح معنوں میں جنسی آزادی حاصل نہیں ہوسکتی

سیمون : آج کل کے جنسی تعلقات میں ایسا لگتا ہے جیسے ایک اونچے طبقے کا شخص نچلے طبقے کے شخص کے ساتھ گھل مل رہا ہے

بے ٹی : جب عورتیں معاشی طور پر خود مختار ہو جائیں گی ان کی شناخت مستحکم ہوجائے گی اور وہ مردوں کی طرح اپنے آپ کو پسند کرنے لگیں گی تو ہم مردوں سے برابری سے مل سکیں گے

سیمون : لیکن اس وقت ہم جنسی مساوات سے بہت دور ہیں

بے ٹی : آپ جنسی مسائل کو برابری سے کیسے حل کرنا چاہتی ہیں

سیمون : اگر معاشرہ مساوات کے اصول پر مبنی ہوگا تو مرد اور عورت برابر رہ کر مل سکتے ہیں لیکن آج کے ناہموار معاشرے میں عورت مرد سے تعلقات قائم کر کے ایک بڑا خطرہ مول لیتی ہے

بے ٹی : میں ایک بات کا اکثر ذکر کرتی ہوں جو میں نے آپ کی کتاب میں پڑھی تھی عورت کا جنسی تعلقات میں نچلی پوزیشن اختیار کرنا اس کے معاشرے میں مقام کی ترجمانی کرتا ہے

سیمون : یہ ایک معاشرتی حقیقت ہے

بے ٹی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنسی تعلق میں ہی نہیں بلکہ معاشرہ ہر حوالے سے عورت کو نچلا مقام دیتا ہے

سیمون : جنس معاشرے کے رویے کا استعارہ بن جاتی ہے

بے ٹی : لیکن جب ہم معاشرے کو بدل لیں گے تو ہمیں اپنی جنسی زندگی کی زیادہ آزادی ہوگی

سیمون : مجھے اس سے اتفاق ہے

بے ٹی : میں سیاسی صورتحال کی طرف دوبارہ آنا چاہتی ہوں عورتیں اپنے مجبور و مظلوم کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور بڑی بڑی طاقتیں ان سے ڈر رہی ہیں سوال یہ ہے کہ کیا عورتیں اپنی جگہ سے ہٹ کر کامیاب ہو سکتی ہے یا نہیں

سیمون : موجودہ سیاست سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں میں ذاتی طور پر ووٹ بھی نہیں ڈالتی میری دلچسپی عورتوں کی تحریک اور دیگر انقلابی گروہوں کی کارگردگی میں ہے وہ گروہ جو سیاست میں شامل نہیں لیکن نظام کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ عورتوں کی سیاست کو مردوں کے جھگڑوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے ایک حد تک مجھے اس سے اتفاق ہے۔ ہمارے لیے یہ بھی اہم ہے کہ کون سا مسئلہ زیر بحث ہے

بے ٹی۔ اگر عورتوں کی تحریک مردوں کی سیاست سے علیحدہ رہتی ہے تو انہیں اس وقت کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے جب مرد جنگجو بن جائیں اور ایک نئی جنگ شروع کردیں۔

سیمون : اگر میں امریکن ہوتی تو ویتنام کی جنگ کے خلاف لڑتی لیکن ہمیں یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ ہم مردوں کی سیاست میں ملوث نہ ہو جائیں

بے ٹی : وہ کیسے؟

سیمون :یہ بہت پیچیدہ سوال ہے ایٹمی جنگ کے خلاف جدوجہد ایک پر پیچ مسئلہ ہے یہ گفتگو ہمیں موضوع سے دور لے جائے گی آپ کے اٹھائے ہوئے سوالوں کے جواب اس وقت ملیں گے جب معاشرے میں اہم تبدیلیاں آئیں گی

بے ٹی : لیکن وہ تبدیلیاں کیسے آئیں گے؟

سیمون : ہم سب کوشش کر رہے ہیں۔ کالے اپنی جدوجہد کر رہے ہیں۔ نوجوان بھی اور عورتیں بھی آزادی و خود مختاری حاصل کرنے میں مصروف ہیں

بے ٹی : میں بھی یہی کہنا چاہتی ہوں مختلف تحریکوں کو آپس میں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں اہم تبدیلیاں آئیں ورنہ معاشرہ فاشزم کی نذر ہو جائے گا

سیمون :میں آپ کی رائے سے متفق نہیں ہمیں مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر گروہ اپنا کام کرتا رہے اپنے طریقے سے ہر گروہ تبدیلی لائے گا ان کا ایک دوسرے سے رابطہ ضرور رہنا چاہیے

بے ٹی : بہرحال ہم معاشرے کو کسی نہ کسی طریقے سے بدلنے اور بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں

۔ ۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail