میٹھی شتابی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرے دن میں نے سلیم سے طویل ملاقات کی۔ سلیم ایک اچھا شوہر تھا، اچھے کاروبار کا مالک، اچھا کاروباری آدمی، کاروبار کی مصروفیت کے باوجود وہ کافی وقت اپنے بیوی بچوں کو دیتا۔ اس نے بتایا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ ابھی کچھ مہینوں پہلے زرینہ کی کسی دوست کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد شروع میں وہ کافی پریشان رہی، اکثر اس کے بارے میں باتیں بھی کرتی مگر اب تو بالکل ہی عجیب صورت حال ہوگئی ہے۔ اس دن وہ بڑے شوق سے میٹھی شتابی کی تقریب میں گئی تھی مگر نہ جانے وہاں کیسے یکایک اس پر دورہ پڑا اور اس کے بعد سے اس کی یہ حالت ہوگئی۔ اسے تو اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں رہتا ہے۔ ”ڈاکٹر صاحب یہ صحیح تو ہوجائے گی نا؟ “ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں مجھ سے پوچھا تھا۔

سلیم سے ملنے کے بعد ہسپتال کے پرائیوٹ کمرے میں زرینہ کو دیکھنے گیا۔ وہ اچھے صاف ستھرے سے پرائیوٹ کمرے میں خاموش لیٹی ہوئی دیواروں کے پار نجانے کس کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی۔ رات اسے میں نے سونے کی دوائیں اچھی خاصی مقدار میں دی تھیں۔ نرس نے بتایا کہ وہ رات کافی گہری نیند سوئی ہے۔

”کیسی طبیعت ہے؟ “ میں نے مسکراکر پوچھا۔ وہ خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی تھی جیسے تول رہی ہے، کچھ تلاش کررہی ہے، کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

”مجھے کیا ہوا ہے، کچھ بھی تو نہیں۔ “ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔

میں نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”سب ٹھیک ہوجائے گا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ “

اس نے آنکھیں بند کرلیں میں اسے نرس کی نگہداشت میں چھوڑ کر واپس آگیا۔ دوپہر کو اس کے ماں باپ کو بلایا تھا میں نے۔ یہ لوگ بھی کاروباری لوگ تھے جن کی پلاسٹک کے کھلونے بنانے کی فیکٹری تھی۔ زرینہ کے ماں باپ نے دونوں شکل سے ہی پریشان لگ رہے تھے۔ زرینہ ان کی تیسری اور سب سے زیادہ چہتی بیٹی تھی۔ اس کے اس طرح سے یکایک بیمار ہو جانے کی وجہ سے ان کا پورا خاندان پریشان ہو گیا تھا۔ زرینہ کے دونوں بچے انہی کے پاس تھے۔

انہوں نے بتایا، زرینہ بچپن سے ہی ذمہ دار قسم کی لڑکی تھی۔ کالج میں بارہویں کلاس میں تھی کہ رشتہ ہو گیا اور اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے باوجود سسرال والوں نے آگے پڑھانے سے منع کردیا تھا مگر وہ شادی سے ناخوش نہیں تھی۔ خاص طور پہ دو بچے ہونے کے بعد تو وہ ان میں ہی لگی رہتی تھی۔ عام طور پہ خوش و خرم رہنے والی لڑکی تھی وہ۔ اپنے شوہر اور اپنے سسرال میں ہر ایک سے اس کے اچھے تعلقات تھے۔ سلیم سے وہ شادی سے پہلے بھی ملی تھی اور دونوں نے ہی ایک دوسرے کو پسند کیا تھا۔ سلیم ایک اچھا آدمی ایک اچھا شوہر تھا اور زرینہ ہمیشہ اس کی تعریف کرتی۔ وہ اپنے بچوں سے بھی بے انتہا پیار کرتی تھی ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کو ہروقت تیار رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ انہیں پڑھائے گی اور یہ بچے پڑھ لکھ کر کاروبار کریں گے اور بیٹی تو ڈاکٹر بنے گی۔

میں نے اس کی دوست کے بارے میں پوچھا جس کی چند ماہ قبل موت واقع ہوئی تھی تو اس کی ماں نے مجھے مزید تفصیلات بتائیں۔ زینب اس کی بچپن کی دوست تھی۔ دونوں اسکول میں ساتھ تھے پھر کالج میں بھی ساتھ ساتھ۔ زینب نے انٹر کے بعد خاندان اور برادری کی مرضی کے خلاف یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے بی ایس سی کرکے کسی اسکول میں ٹیچر ہوگئی تھی پھر اس کی بھی شادی ہو گئی مگر دو بچوں کے بعد اس کے گھر پہ حادثہ ہوگیا اور وہ جل کر مر گئی تھی۔

اس کے مرنے کے بعد سے زرینہ بہت پریشان رہتی تھی۔ مجھے اس نے زیادہ نہیں بتایا مگر وہ علاقے کے عامل سے ملی تھی اور پتہ نہیں کن کن لوگوں سے ملتی رہی تھی۔ اکثر ڈرائیور کے ساتھ ہمارے گھر بچوں کو چھوڑ کر چلی جاتی اور واپس آ کر پریشان پریشان سی رہتی۔ اس کی ماں نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے پوچھا بھی کہ آخر وہ کہاں جاتی ہے، کیا کر رہی ہے تو اس نے بتایا کہ وہ زینب کی ماں سے ملنے گئی تھی۔ یا زینب کی بہن سے ملنے گئی تھی مجھے لگتا تھا کہ اسے اپنی دوست کی موت سے بہت دکھ ہوا ہے مگر وہ اس کے باوجود ٹھیک تھی، ایسی نہیں تھی جیسی اب ہے، اس نے بڑے دکھ سے کہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

دوسرے دن میں نے سول ہپستال کے پلاسٹک سرجری کے ڈیپارٹمنٹ میں فون کرکے زینب کے بارے میں معلومات جمع کی تھیں۔ کچھ ماہ قبل زینب اسّی فیصد جلی ہوئی ہسپتال میں آئی تھی، ہوش میں تھی مگر اس نے کچھ بتایا نہیں تھا۔ مرنے سے پہلے اس نے صرف اپنی بہن سے بات کی تھی۔ ڈاکٹروں نے بڑی کوشش کی مگر جیسا کہ اس طرح کے کیس میں ہوتا ہے جہاں جلا ہوا جسم ٹھیک ہونا شروع ہوتا ہے تو ساتھ ہی انفکشن بھی ہوجاتا ہے جو بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اتنا بڑھتا ہے کہ ہر طرح کے اینٹی بایوٹک بھی اس انفکیشن پر قابو نہں پا سکتے ہیں۔ اس بے قابو انفیکشن کی وجہ سے مریض سپٹک شاک میں چلا جاتا ہے اور عام طور پر بچتا نہیں ہے۔ یہی کچھ زینب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔

میں نے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے مارا گیا ہو۔ فون کے دوسری طرف برن وارڈ کے ڈاکٹر کی زہریلی ہنسی میں نے سنی ساتھ ہی سانپ کی پھنکار کی سی آواز میرے کانوں میں آئی تھی، ”ڈاکٹر صاحب! یہ جوان لڑکیاں گیس سے جلنے والیاں، اسٹوؤ کے پھٹ جانے سے جل کر مرنے والیاں، یہ سب کہانیاں ہیں۔ یہ ساری کی ساری جلائی جاتی ہیں اور ثبوت کسی کا بھی نہیں ہوتا ہے۔ اتنا تو آپ کو سمجھنا چاہیے، اتنا تو ہر ڈاکٹر سمجھتا ہے، آپ تو سائیکیٹرسٹ ہیں ڈاکٹر صاحب۔

“ مجھے اچھا تو نہیں لگا مگر میں نے برا بھی نہیں مانا۔ لوگ جب اس قسم کے حالات میں کام کرتے ہیں تو ان کا انداز ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ہی سب کچھ پتہ ہے باقی سب لوگ جاہل ہیں، مسائل سمجھتے نہیں۔ ہم جو کر رہے ہیں بس ہم ہی کر رہے ہیں باقی لوگ پتہ نہیں کیا کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میں خاموش رہا۔ یہ معلومات ہی شاید میرے لئے کافی تھیں۔ میں بہرحال برن وارڈ کے ڈاکٹر کا شکرگزار تھا۔

میرے ذہن میں کچھ خاکہ سا بن گیا تھا مگر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر زرینہ اپنی دوست کی موت کے اتنے دنوں بعد اس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کیوں کررہی تھی۔ اتنا دیر سے ردعمل عام طور پہ ہوتا نہیں ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •