خدارا! دینی مدارس کے تحفظ کی فکر کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدرسہ امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا جزو لاینفک رہا ہے، مدارس کی خدمات چاہے وہ تدریس ہو یا تدوین، امامت ہو یا خلافت، دعوت ہو یا عزیمت، کردار ہو یا گفتار ہمیشہ سے جہل اور ناسمجھی کے اندھیروں میں مشعل راہ رہی ہیں۔ آج اگر ہمارے گنہگار تن اور من میں اسلامی شعائر، عبادات اور اخلاقیات کی رمق باقی ہے تو یہ مدارس کی مرہون منت ہے، یہ ان علماء کی بدولت ہے جو دین مبین نسل درنسل، سینہ بہ سینہ بطور امانت منتقل کررہے ہیں، واللہ باللہ ہم علماء حق کے پاؤں کے میل کے برابر نہیں، ہماری اوقات ہی کیا ہے، ہماری حیثیت ہی کیا ہے ان عظیم ہستیوں کے آگے جن کو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بنی اسرائیل کے انبیاء سے تشبیہ دی ہو جنہوں نے آج تک اپنی تمام خواہشوں کو قربان کرتے ہوئے اپنی زندگیاں صرف اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کردی ہوں۔

آج دینی مدارس پر دہشتگردی کی مہر ثبت کرنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، بیرونی خطرات نہ صرف نظر آرہے ہیں بلکہ مدارس کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں، صورت حال ہنگامی ضرور ہے مگر اس کا حل چنداں مشکل نہیں، تاہم مدارس کا اصل مسئلہ اندرونی خطرات ہیں، یہ خطرات وہ انتظامی و نصابی مسائل ہیں جنہیں ارتقاء کے ساتھ یا تو اپنایا نہیں جا سکا، جان بوجھ کر اصلاح اور ارتقاء سے پہلوتہی کی گئی یا اسباب نہ ہونے کے بموجب ارتقاء کو اختیار نہ کیا جا سکا۔

وجوہات جو بھی ہوں قانون فطرت یہ کہہ رہا ہے کہ اکابرین کو مدارس میں اندرونی اصلاحات، سماجی بنیادوں پر معاشرے کی دنیاوی و آخروی زندگی کی ضروریات کے مطابق عصری ارتقاء کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کرنی ہوں گی، ورنہ عالم، مدرسہ اور عام مسلمان میں جو خلا پیدا ہوچکا ہے یا ہوتا جارہا اس کا انجام نہایت خوفناک ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں کہ مسلم معاشرہ مدارس کو یہ کہہ کر دھتکار دے گا کہ ”مدرسہ چونکہ ہماری ضرورت پوری نہیں کر رہا اس لیے ہماری ضرورت نہیں رہا“۔ اور خدا نہ کرے کہ ہمیں یہ دن دیکھنا پڑے۔

مدارس دینیہ کے لئے اندرونی خطرات میں سب سے اہم خطرہ مدارس کے نصاب میں عصری اور ان علوم کا شامل نہ کیے جانا ہے جن سے فرد کے بشری تقاضے اور ضروریات رزق باعزت روزگار کی صورت پورے ہوتے ہوں۔ نسل انسانی کا ہر فرد چاہے وہ جس رنگ، نسل، مذہب، مسلک اور خطے سے ہو ایک سی ضروریات اور خواہشات رکھتا ہے، علماء بھی انسان ہیں، ان کے بھی وہی بشری تقاضے ہیں جو کسی مسٹر، پروفیسر، ڈاکٹر اور جنرل کے ہیں، اب اگر علماء کے پاس دنیاوی یا ہنرمندانہ علوم نہیں جو باعزت نوکری اور تنخواہ کے لئے شرط ہیں تو اس میں قصور عالم دین کا نہیں بلکہ اس ادارے اور نصاب کا ہے جس نے اسے تیار کیا ہے۔

مدارس کے نصاب میں وہ مضامین پڑھائے جا رہے ہیں جن سے عقائد اور ایمان سلامت رہیں اور یہ مقدس فریضہ بخوبی سرانجام دیا جا رہا ہے جو قابل ستائش ہے، تاہم دنیاداری، شکم اور خاندان کی کفالت کے لئے نصاب تعلیم میں چند ایک کے علاوہ کسی بھی بڑے مدرسے میں انتظام نہیں۔ علوم دینیہ کے حصول سے مدرسے کا طالب علم خدا کے ہاں تو سرخ رو ہو جائے گا پر اس کی عملی اور دنیاوی زندگی ایک زندان میں مقید ہوکر رہ جاتی ہے، لہذا مدارس کو ایسا نصاب وضع کرنا ہوگا جو طلباء کو خدائی احکام بتانے کے ساتھ ساتھ حکم خدا اور ارادہ انسانی کو ہم آہنگ کرکے اس کائنات کے ابدی نقشے کے مسائل کا سامنا اور وسائل کا استعمال کرکے جینا سکھائے، اور فارغ التحصیل طلباء معاشرے سے کٹنے کی بجائے اس کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل اور زندگی کی خوشیوں میں اللہ کے احکام کے مطابق شریک ہوسکیں۔

ان سب امور کا ذکر کرنے سے قبل ہمیں برصغیر کے تعلیمی نظام کا سرسری تاریخی جائزہ لینا ہوگا، عام تاثر یہی ہے کہ برصغیر میں سول سروس کا آغاز برطانوی نوآبادیاتی دور سے ہوا، جس کو ICS یعنی ایمپیرل سول سروس اور بعد میں انڈین سول سروس کا نام دیا گیا، تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں یہ سول سروس CSP کے نام سے وجود میں آئی جسے آج کل CSS کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم سول سروس کے بارے میں یہ تاثر غلط ہے، جہاں تک برصغیر کا تعلق ہے تو امورمملکت چلانے کے لئے بارہویں صدی میں باقاعدہ سول سروس کے نصاب کا تعین کردیا گیا تھا، مذکورہ نصاب کا سہرا اس صدی کے ماہر سکالر ملا نظام الدین سہالویؒ کے سر ہے۔

یہ نصاب اس قدر جامع، مربوط اور مکمل تھا کہ فراغت تعلیم کے بعد فضلاء دنیاوی وعلوم دینیہ میں سکہ بند اور طاق سمجھے جاتے تھے، چونکہ مولانا نے وقت کے عصری و بشری تقاضوں اور علوم دینیہ و عصریہ کے نصاب کی تدوین کے وقت ہم آہنگی کا کمال درجہ خیال رکھا تھا، اس لئے حکومت کی سول سروس کے لئے بنائے گئے اس نظام کو مدارس اورعلماء نے نہ صرف قبول کیا بلکہ آج تک یہ نصاب ہمارے مدارس میں چلا آرہا جس کو ”درس نظامی“ کہتے ہیں۔

سن 1780 ء سے قبل تک دنیا اسلام میں عصری اور دنیاوی علوم کا منبع صرف مدرسہ ہی تھا، امور ممللکت کا ماہر، طبیب، معمار اور شیخ الحدیث ایک  Batch، ایک استاد اور ایک ہی مدرسے سے فارغ التحصیل ہوا کرتے تھے۔ مسلمانوں کا تعلیمی نظام اس وقت تباہ ہوا جب یورپی سامراجی قوتوں کا نوآبادیاتی دور شروع ہوا۔ ”برصغیر ولیم چہارم“ کے دور میں مکمل طور پر برطانوی نوآبادیات میں شامل ہو گیا، اور یہی وہ دور تھا جب مسلمانان ہند کی اصل تنزلی کے اسباب پیدا ہوئے۔

تنزلی کے سینکڑوں اسباب میں سے ایک اہم سبب یہاں کے نظام تعلیم کا دو حصوں یعنی دنیاوی اور دینی میں تقسیم ہونے کا تھا، برطانوی نوآبادیاتی پالیسی کے مطابق مقامی ثقافتوں کی فصیلیں توڑنے کے لئے نظام تعلیم پر کئی طرح سے حملہ کیا گیا، نتیجتاً علماء کرام اور مسلم سکالرز نے اپنی تئیں کوششیں شروع کر دیں، اور یوں دینی نصاب کا ادارہ ”دارالعلوم دیوبند“ اور عصری نصاب کا ادارہ ”علی گڑھ“ وجود میں آگیا، دونوں کا مقصد نیک، ایک اور ہر قسم کی مخاصمت سے مبرا تھا، ان دو اداروں نے نہ صرف مسلمانان برصغیر بلکہ پورے عالم اسلام کو قابل فخر سپوت عطا کیے۔ یہیں سے غیردانستہ طور پر دو متوازی نظام تعلیم یعنی عصری علوم کے لئے کالج اور یونیورسٹیاں اور دنیاوی تعلیم کے لئے مدارس مخصوص ہو گئے۔

ملا اور مسٹر کے صیغے وجود میں آگئے اور یوں اپنائیت اور اخوت پر مبنی نظام تعلیم کی جگہ عصری اور دنیاوی نظام تعلیم کے دو مختلف اداروں کا وجود عمل میں آگیا، تعلیم یافتہ نسل دو حصوں میں بٹ گئی ایک مسٹر کہلایا اور ایک ملا، آج بھی دونوں کی سوچ بالکل 180 ڈگری کے تضاد پر کھڑی ہے، ایک سول سروس کا CSS افسر ہے، جنرل ہے، یا کوئی ڈاکٹر و انجینئر جس کو بھاری تنخواہ، گاڑی اور نوکر میسر ہیں، تو دوسری طرف اوسط 3000 سے 6000 کی تنخواہ پر گزارہ کرنے والا ملا، حالانکہ صدی دو صدی قبل ایک ہی نظام تعلیم و نصاب تھا، دینی و دنیاوی تعلیم کی کوئی تفریق نہ تھی، مدارس سے فارغ التحصیل جوان اپنی اہلیت کے مطابق طب، انجنیئرنگ، بیوروکریسی، تعلیم، معاشیات، عسکری اور تجارت و دیگر شعبہ جات، امور مملکت اور تحقیق و راہنمائی امت کے فرائض انجام دیتے تھے، العرض یہ کہ درس نظامی سے بیک وقت علماء دین، قاضی شرع، محدث و فقیہ اور اعلی درجہ کے منتظم، وزراء اور سرکاری افسران پیدا ہوتے تھے مگر آج دینی مدارس اور عصری علوم کی یونیورسٹیوں میں کوئی باضابط میل ملاپ اور رشتہ نہ ہونے کے سبب ایک کشیدگی کی سی فضا قائم ہے، جس میں غلطیاں دونوں حلقوں کی ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •