چولہے پر روٹی اور بستر میں محبت کے مسائل
”یہ مسئلہ درحقیقت عورت مرد یا شوہر بیوی والا پرابلم نہیں ہے۔ یہ گھر سنبھالنے والے اور کمانے والے کا بنیادی معاملہ ہے۔ عورت ہو یا مرد، جو کماتا ہے، بد قسمتی سے دنیا کو وہی دکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسے توجہ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ یہ قدرتی ہے۔ جو گھر سنبھالتا ہے، کسی کو نظر نہیں آتا۔ دھیرے دھیرے کمانے والے کو بھی نہیں دکھتا۔ غلطی سے کبھی دنیا کی نظر سنبھالنے والے پر پڑتی ہے تو قدرتی طور پر اسے تھوڑا اچھا لگتا ہے اور کمانے والے کو جھٹکا لگتا ہے۔ ارے ہیرو تو میں ہوں، سپورٹنگ ایکٹر میرے برابر کیسے ہو گیا؟“
Ki & Ka فلم کے یہ جملے گھریلوزندگی کی اقدار کے حوالے سے بہت اہم سبق سکھاتے ہیں۔ مشرقی معاشرہ جن روایات پر کھڑا ہے، ان میں سے سب سے بڑی روایت مرد کا کمانا اور عورت کا گھر سنبھالنا ہے۔ کمانے کی وجہ سے مرد عزت، شہرت، دولت اور اقتدار حاصل کرتا رہتا ہے اور اس سب کی اسے عادت ہو جاتی ہے۔ عورت کو یہ حاصل نہیں ہوتا۔ مرد اسے یہ سب حاصل کرنے بھی نہیں دیتا مبادا عورت اس سے یہ سب چھین نہ لے۔ یہ ریت پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔مرد کو بلاوجہ ہی عزت دی جاتی ہے اور عورت کو بہت کچھ کرنے پر بھی پھٹکار ملتی ہے۔ جس مرد کو یہ سب نصیب نہ بھی ہو، پھر بھی معاشرہ اسے یہ سب حاصل کرنے کی جدو جہد کا حق دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عورت کتنی بھی صلاحیت مند کیوں نہ ہو، معاشرہ اسے یہ سب پانے کی اجازت نہیں دیتا۔
Ki & Ka سے پہلے 1973میں ہرش کیش مکھرجی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”ابھیمان“ پر بات کرنا ضروری بنتا ہے۔ ”ابھیمان“ میں امیتابھ بچن ایک گلو کار ہے ، اس کے پاس شہرت ہے اور اس کے پیچھے پروڈیوسر وقت لینے کے لیے بھاگتے ہیں۔وہ دولت میں نہال ہے ۔ ایسے میں ایک گاﺅں کی سیر کے دوران اسے جیا بچن ملتی ہے جو بہت اچھا گاتی ہے۔ امیتابھ اسے بیاہ کر شہر لے آتا ہے۔ جب اس کی صلاحیت کا سب کو علم ہوتا ہے تو اس کی شہرت راتوں رات آسمان کو چھو لیتی ہے۔ امیتابھ یہ دیکھ کر جلنا شروع ہو جاتا ہے اور دھیرے دھیرے اپنے فن کو توجہ دینا چھوڑ کر جیا بچن کی شہرت سے جلتا ہوا سب کچھ تباہ کرنے لگتا ہے۔ ان کی ازدواجی زندگی تباہی کا شکار ہونے لگتی ہے اورجیا بچن اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے جو فلم کے آخر پر Happy Endingکے لیے دوبارہ ملوا دی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ امیتابھ کی اصل زندگی میں یہ Happy Endingنہیں آئی۔ جیا بچن بھی ایک بہت اچھی اداکارہ تھی لیکن امیتابھ کے امیج یا کسی بھی اور سماجی دباﺅ کے احساس نے اس کے فن کا گلا گھونٹ دیا اور وہ ایک گھریلو عورت بن کر امیتابھ کے حاصلات کا حساب رکھنے والی منشی بن کے رہ گئی۔ بہت ہوا تو’ ہر کامیاب مرد کے پیچھے….‘سننے کو مل گیا۔ یہی اس بیچاری کی زندگی ہے۔
2016 میں R Balki کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم Ki & Ka میں کہانی کا یہی ٹریک ریکارڈ الٹا کر دیا گیا ہے۔ ارجن کپورایسا لڑکا ہے جو لڑکی کی طرح گھر سنبھالتا ہے اور کرینہ کپور ایسی لڑکی ہے جو لڑکوں کی طرح ملازمت کرتی ہے اورگھریلو ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کی وجہ سے کارپوریٹ سیکٹر میںتیزی سے ترقی کے زینے طے کرتی چلی جاتی ہے۔ ارجن کپور کچھ بھی نہیں کرتا لیکن پھر بھی ایک گھریلو مرد ہونے کے حوالے سے وہ لوگوں کی نظروں میں آنے لگتا ہے ۔ انٹرویو، ٹی وی شوز، اشتہارات، سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے اس کی شہرت بھی پھیلنے لگتی ہے اور وہ ایک سٹار بن جاتا ہے۔ اس کی بیوی اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے بہت حسد کرتی ہے اور اسے گھر سے باہر جانے سے منع کر دیتی ہے۔ آخر پر اسی بات کو لے کر جھگڑا ہوتا ہے جو ایک دفعہ پھرHappy Ending کے لیے سلجھ جاتا ہے۔
ان دونوں فلموں کو دیکھنے سے ایک بات سمجھ میں آ گئی کہ ہمارے ہاں گھریلو زندگی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ عورت اور مرد میں سے کون اپنا حکم چلائے گا اور کون صرف حکم مانے گا، محبت کے اس رشتے کو برابری اور مساوات کی سطح پر استوار کیا ہی نہیں جاتا۔ اس حکومت اور اقتدارکو مضبوط کرنے کے لیے دونوں فریق ہر طرح کا حربہ اپناتے ہیں۔ جس کا حکم چلتا ہے وہ دوسرے کی آزادی تک سلب کر لیتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنی زندگی بنانا تو الگ، مرضی سے جینا، آنا جانا، ملنا ملانا بھی ختم کردیتا ہے۔ جو بھی ہو گا، اسی کی مرضی سے ہو گا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حکم صرف مرد کا چلے گا اور عورت پر لازم ہے کہ اس کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کرے۔اگر کوئی پوچھے کہ ایسا کیوں ہے تو ’کیوں کہ یہ معاشرے کی روایت ہے‘، ’کیوں کہ یہ مذہب کا حکم ہے‘، ’کیوں کہ … ’اچھا نہیں لگتا‘جیسی وجوہات تلاش کر لی جاتی ہیں۔ لیکن ان دونوں فلموں کو دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ بات ایسی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ معیشت کا ہے۔ گھرکے تخت پہ وہی قابض ہو گا جس کے پاس کرسی ہو گی، اسی کا سکہ چلے گا جس کے قبضے میں ٹکسال ہو گی۔ جو کمائے گا ، وہی گھر چلائے گا۔ دوسرے فریق کو صرف اس کے حکم کے مطابق اس کا ساتھ دینا ہے۔ اس کا سہارا بننا ہے۔ اسے اپنی زندگی تیاگ دینی ہو گی۔ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہو گی۔
فلمKi & Kaیہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہم لوگ شادی کے بعد اپنے ازدواجی تعلقات کو برابری کی سطح پر تعمیر نہیں کر سکتے۔ کیا عورت مرد گھر اور باہر کی ذمہ داریاں مل کر نہیں نبھا سکے۔ کہاں لکھا ہے کہ عورت ہی گھر کے سبھی کام کرے اور آخر پر یہ بھی سنے کہ تم کرتی ہی کیا ہو۔ اگر مرد بھی اس کا ہاتھ بٹا دے تب شاید اسے کام کے بوجھ کا احساس بھی ہو گا اور اس کی ازدواجی زندگی زیادہ مضبوط بنیادوں پر قائم بھی رہے گی۔ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے اگر مرد بھی وہ کام کر لے جو ہمیشہ عورت کی ذمہ داری ہے ۔ کیا عورت کو اپنی زندگی اپنی صلاحیتوں اور خواہشوں کے مطابق گزارنے کی آزادی نہیں مل سکتی ؟ کیا عورت کو ہمیشہ کیرئیر اور خاوند دونوں میں سے ایک ہی منتخب کرنا پڑے گا؟




ہمارا بر صغیری معاشرہ ایک پدرسری معاشرہ کہلاتا ہے جہاں عورت پر ایک مرد کی کسی نہ کسی شکل میں حاکمیت اور برتری قائم ہوتی ہے ۔ یہ بات وسیع معنوں میں درست بھی ہے مگر سو فیصد ایسا نہیں ہے ۔ ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جہاں عملاً ایک عورت کی حکومت ہوتی ہے ۔ وہ مختار کل اور سیاہ سفید کی مالک ہوتی ہے جو وہ چاہتی ہے وہی ہوتا ہے ۔ مرد کا کام صرف کما کر لانا ہوتا ہے ۔ آپس میں اچھی موافقت اور موانست ہو تو چھوٹے بڑے فیصلے باہمی مشاورت اور مفاہمت سے طے پاتے ہیں ورنہ بعض اوقات مرد گھر کا مالک اور کفیل ہونے کے باوجود ایک بےبس تماشائی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔ اور جہاں کہیں میاں بیوی کے درمیان دوست اور ایک مساوی مقام سے زیادہ آقا اور غلام والا تعلق نظر آتا ہے مرد ، عورت کے ساتھ جو ظلم زیادتی اور سختیاں کر رہا ہوتا ہے اس پر قدغنیں اسکی صلاحیتوں سےخائف اور اسکی ذات کی نفی کر رہا ہوتا ہے اس کے سرے کہیں نہ کہیں جا کر ایک عورت سے ہی مل رہے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ شوہر کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے والی عورتیں آگے اپنے فرزند ارجمند کی تربیت کچھ اس نہج پر کرتی ہیں کہ وہ بھی اپنے والد ماجد کے نقش قدم پر چلے ۔ کیونکہ اکثر ہی عورت یہ سوچتی ہے کہ وہ آنے والی کیوں سکون سے رہے میرا لعل کیوں اسے حلوے کی طرح تھالی میں رکھ کر ملے ۔ جو کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے وہ اس کے ساتھ کیوں نہ ہو ۔ مرد کو بگاڑنے میں ایک عورت کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے خواہ وہ اس کی ماں ہو یا بیوی ۔
بہت سی کم پڑھی لکھی مگر حد درجہ سمجھدار اور معاملہ فہم خواتین اپنے مردوں کو قابو میں رکھنے کے گر جانتی ہیں ۔ ان میں پایا جانے والا شعور بہت سی اعلا تعلیمیافتہ خواتین میں تک نظر نہیں آتا ۔ معاشرے میں ایسے مہذب گھرانوں کی بھی کمی نہیں ہے جہاں زوجین کے مابین عزت و احترام اور ایکدوسرے کے مقام و فرائض کا تعین بغیر کسی اختلاف کے ہوتا ہے ۔ سبھی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دینا درست نہیں ۔