آپ نے کبھی فرعون دیکھا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے فرعون دیکھا ہے؟ یقینا نہیں دیکھا ہو گا۔ ۔ لیکن میں وہ بدقسمت انسان ہوں جس نے فرعون کے گھر میں جنم لیا۔

جمعے کی تقریر میں جب بھی مولوی غوث بخش لہک لہک کے فرعون کا قصہ سناتا تو مجھے یوں لگتا تھا جیسے وہ ابا کی باتیں کر رہا ہے

”او مسلمانو۔ اللہ کے پیارو، میرے بزرگو، نوجوانو، بات مختصر ہو گی مگر پراثر ہو گی۔ حکم الہی ہوا کہ اے میرے کلیم لگا اس سمندر کو سوٹا۔ کلیم کو سوچ میں ڈوبتے دیکھ کر آسمانوں سے رب کلیم کی پرجوش آواز آئی۔ اٹھ مار ڈنڈا، کیا ڈرتا ہے؟ پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔ تو مسلمانو شمع توحید کے پروانو۔ مارا میرے کلیم نے سمندر پر سوٹا۔ ہوا پانی دو ٹکڑوں میں تقسیم اور اللہ کا نبی اپنی امت اور خاص حواریوں کو لے کر پار اتر گیا۔ پیچھے آرہا تھا فرعون لعین اپنی لاکھوں کی فوج لے کر موسیٰ کی نقل میں اس نے بھی ڈال دیا اپنا گھوڑا سمندر میں۔ جونہی درمیان میں پہنچا آسمان سے آوازآئی اے میرے سمندر، اے میرے سوہنے تے طاقتور سمندر، اے میرے حکم کے غلام سمندر، کر دے اپنا کام سمندر۔ بس آنی تھی صدا اور دونوں پانی ایسے ملے جیسے سالوں کے بچھڑے ملتے ہیں اور ایسے آیا شکنجے میں فرعون جوں ویلنڑے وچ گنا ….

اس موذی کو اپنے ظلم کی ایسی سزا ملی کہ آج تک مصر کے موذیم میں رکھا ہوا ہے۔ موذیم جانتے ہو کیا ہوتا ہے؟ نہیں؟ میرے پیارو! اصلی مولوی وہ ہے جو امت کو آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا کا علم بھی دے۔ تو پھر مسلمانو اللہ کے گھر کے مہمانو سنو۔ موذیم وہ جگہ ہے جہاں فرعون جیسے موذیوں کی لاشوں کو مصالحے لگا کر رکھ دیا جاتا ہے، اسی لئے اسے موذیم کہتے ہیں۔ میرے اللہ نے اس لئے موذیم میں فرعون کی لاش رکھی ہوئی کہ خلقت آئے، دیکھے اور عبرت پکڑنے کے بعد اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے۔ نماز کو نہ جانے دے رمضان کے سارے روزے پکڑے۔ اللہ کے گھر کا خیال رکھے۔

او مسلمانو مسجد کے نلکے کی ڈبی ختم ہو گئی ہے اس لئے پانی نہیں اٹھا رہا، پانی کی بجائے ریت دے رہا ہے کیونکہ جالی بھی پھٹ گئی ہے۔ سبحانی لوہار کل ہی دیکھ کے گیا ہے۔ ڈانگ کو ٹانکے لگنے ہیں جالی تبدیل ہونی ہے وہ دیکھو وضو خانے میں سارا نلکا لاوارث لاش کی طرح کھلا پڑا ہے۔ ہے کوئی اللہ کا پیارا جو اس نلکے کی ذمے داری لیکر جنت میں اپنا نلکا لگوائے۔ قیامت کے دن موسیٰ کلیم اللہ کا ہمسایہ بنے نہ کہ دوزخ میں اس فرعون مردود کا۔ اس ظالم نے ہزاروں بچے قتل کرائے، خدائی کا دعویٰ کیا اور میرے اللہ نے اسی کے گھر میں موسیٰ کی پرورش کرا کے اسی کے ہاتھوں اس کو خوار کیا۔ یہ مولوی غوث بخش کا نہیں، اللہ کا قانون ہے کہ جو ظلم کرے گا، اس کی اس جہان میں بھی پکڑ ہو گی اور اُس جہان میں بھی “

مولوی غوث بخش کی ایسی باتیں سنتے سنتے میں اپنے آپ کو موسیٰ کلیم اللہ اس لئے بھی سمجھنے لگا تھا کہ میں نہ صرف اللہ کے اس نبی کا ہم نام تھا بلکہ ابا ظلموں کے معاملے میں فرعون کا ہم پلہ تھا۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی یقین تھا کہ جوان ہونے پر مجھے ولایت بھی ملے گی اور پھر میں اسی ولایت کے زور پر ابا کی ساری ناانصافیوں کے بدلے لوں گا۔ اور تو اور میں یہ بھی سوچ رکھا تھا کہ ولی اللہ بنتے ہی اپنے تین خاص دوستوں منظور، طارق اور شنو جھولے کو (جو عمر میں تو مجھ سے بڑا تھا لیکن پھر بھی میرا دوست تھا) اپنے خاص حواریوں کا درجہ دے کر ان کا بھلا بھی کر دوں گا

غصے کے علاوہ ابا سارے بنیادی انسانی جذبات سے آزاد ایک ایسا وجود تھا جسے کبھی کسی نے نہ ہنستے دیکھا نہ روتے اور نہ ہی مسکراتے۔ میں نے تو ہر وقت اسے غصے میں ہی دیکھا۔ نہ وہ زیادہ بولتا تھا اور نہ ہی کسی دوسرے کو اپنے سامنے بولنے دیتاتھا۔ اسے خوش رہنا ہی نہیں آتا تھا، خوشی کے ہر موقعے کو وہ اپنے غصے سے روند کے آگے نکل جاتا تھا۔ خدا گواہ ہے۔ میں نے اسے ساری زندگی عید کے علاوہ کوئی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ اس کی عید کا دن بھی سوگواری سے شروع ہوتا تھا۔ عید نماز کے بعد جب ساری خلقت عید کی مبارک بادی کے لئے ایک دوسرے کے گھر آ جا رہی ہوتی تھی، ابا کی منزل وہ قبرستان تھا جہاں اس کے خاندان کا ایک آدمی بھی دفن نہیں تھا۔ وہ وہیں اجنبی قبروں کے درمیان آدھا دن گزارنے کے بعد اس وقت گھر آتا جب عید بھی آدھی باسی ہو چکی ہوتی اور وہ کسی کو عیدکی مبارک باد دئیے لئے بغیر کھانا کھا کے قیلولے کے لئے لیٹ جاتا۔

میں جب بھی کوئی شرارت کرتا تو وہ مجھے بہت مارتا لیکن رونے نہ دیتا۔ مارتے مارتے جوں ہی اسے محسوس ہوتا کہ میری آنکھیں چھلکنے والی ہیں تو اپنی گرجدار آواز میں حکم صادر کرتا ”رانا رونے کی حرمزدگی نہ کرنا ورنہ استنجے کا ڈھیلا بنا دوں گا۔ لیکن آنسو تو آنسو ہیں، نکل ہی پڑتے ہیں، آنکھ سے نہ سہی، شلوار سے ہی سہی۔ میں اپنی پوری کوشش کرتا کہ میرے آنسو نہ آنکھ سے نکلیں نہ شلوار سے بلکہ کوئی تیسرا راستہ تلاش کر لیں۔ پسینہ بن کر بہہ نکلیں یا پھر ناف سے ابل پڑیں تاکہ میری بے بسی کا کچھ تو بھرم رہ جائے۔ ایک بار تو برف توڑنے والے سنبھے سے اپنی بند ناف کھولنے کی کوشش بھی کر بیٹھا تھا اس پر بھی مجھے مار پڑی تھی۔

ابا نے مجھے کبھی بھی” میرا بیٹا ‘ میری جان‘ میرا چیتا “جیسے القابات سے نہیں نوازا وہ ہمیشہ مجھے ”رانا “کہتا تھا۔ راجپوت تھا ناں جس کا راج تو بٹوارہ لے گیا اب صرف ایک پوت ہی باقی رہ گیا تھا جسے وہ آتے جاتے رانا کہہ کر شاید اپنی اس پرمپرا کو آواز دیتا تھا جو ہجرت کے وقت بلوائیوں کے برچھوں کا شکار ہو گئی یا کسی سکھ کا تخم پیٹ میں سنبھالنے کی بجائے کنویں میں ڈوب مری تھی۔ اس تقسیم میں ابا کے حصے میں پتیل کی ایک تختی ہی آئی تھی جو انگریز سرکار نے اس کے پردادا کو کسی میم کی عزت بچانے پر عطا کی تھی۔ دس انچ کی اس بیضوی تختی پر بڑے بڑے الفاظ میں سب سے اوپر ”امین العزت رانا بندے علی خان راجپوت“ لکھا ہوا تھا اور نیچے فارسی اور انگریزی میں بھی کچھ تحریر تھا۔ پاکستان آنے کے بعد ابا نے اپنے زور بازو سے ایک ہندو کے خالی مکان پر حق جتایا اور خاموشی سے تقسیم کے زخم چاٹنے لگا۔ حالات جب معمول پر آئے تو اس نے وہ تختی اسی گھر کے سامنے کچی سڑک پر سیمنٹ کا ایک پکا چبوترہ بنوا کے اس میں لگوا دی تاکہ آس پاس کے لوگوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ اس گھر میں چوہدریوں کا کھیت ٹھیکے پر لے کر کاشت کرنے والا کاشتکار نہیں بلکہ زمین کا سینہ چیر کے اپنا حق لینے والا راجپوت رہتا ہے۔ وہ اس تختی کے بارے میں بہت حساس تھا آخر کیوں نہ ہوتا انگریز سرکار نے اس کے پردادا کو یہ اعزاز کتے خصی کرنے پر نہیں، ایک مجبور میم کی آبرو بچانے پر عطا کیا تھا۔

ہمارے گھر سے آٹھ گھر چھوڑ کے خادم میراثی کا گھر تھا۔ جو اپنے لمبے مگر سفید بالوں کو خضاب لگاتا نہیں بلکہ پلاتا تھا۔ جتنی اس نے خضاب کی ڈبیاں خالی کیں، اتنی ہی اولاد پیدا کی۔ گاﺅں میں مشہور تھا کہ جس طرح فوجی چھاونی میں بگل بجا کر سپاہیوں کو اکٹھا کر کے ان کی گنتی کی جاتی ہے، اس طرح خادم بھی شام کو ڈھول بجا کے اپنی آل اولاد کو جمع کرتا ہے پھر ان کی گنتی ہوتی ہے اور نفری پوری ہونے کا اطمینان ہو جانے پر ہی گھر کا دورازہ بند کیا جاتا ہے۔ بلا شبہ یہ گاﺅں والوں کی ایک گپ تھی اس بے چارے کے اتنے زیادہ بچے بھی نہیں تھے ہاں لیکن اتنے ضرور تھے جو کسی شریف آدمی کے نہیں ہوتے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 17 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

Leave a Reply