عمران خان کی القادر یونیورسٹی سوہاوہ کی تقریر کا مکمل متن
لیکن دوسرا مقصد جس طرح میں نے آپ کو پہلے بتایا علامہ اقبال کا کہ پاکستان نے ایک اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا۔ مدینہ کے اصولوں کے اوپر۔ تو ہم نے اپنی قوم میں نئے لیڈر لے کے آنے ہیں۔ اپنے نوجوانوں کو لیڈر بنانا ہے اور وہ لیڈر تب بنیں گے جب ان کو پتہ چلے گا کہ مدینہ کی ریاست کے اصول کیا تھے۔ اس کے اوپر ریسرچ کروائیں گے یہاں۔ یہاں سکالرز بیٹھیں گے، سٹڈی کریں گے۔ وہ کیا چیز تھی، وہ کون سے اصول تھے، ڈیٹریلز میں جائیں گے کہ کیسے اس ماڈل سے مسلمان، جو اس وقت غریب ترین تھے، دو بڑی بڑی سپر پاورز تھیں، وہ اٹھ کے دنیا کی انہوں نے امامت کی سات سو سال تک۔ لیکن صرف دنیا کی امامت نہیں کی۔
دنیا کے بہترین سائنسدان، سارے ٹاپ سائنٹسٹ سات سو سال تک مسلمان تھے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خاص تعلیم کے اوپر زور دیا۔ انہوں نے شروع سے، اس وقت کے مدینہ کے مسلمانوں کو بتایا کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے۔ کہ ایک عالم کا کیا درجہ ہے۔ انہوں نے جو ان کا، اصحاب ”صُوفہ“ جنہیں کہتے ہیں، ان کے جو صحابی تھے ”صُوفہ“ میں بیٹھ کر سارا وقت، یعنی وہ انٹیلکچوئل بات کر رہے ہوتے تھے اسلام کے اوپر آگے کیسے بڑھانا ہے۔ بڑے ذہن تھے۔ تو شروع سے زور دیا تعلیم کے اوپر۔ تو وہ تعلیم پہ اس لئے زور دیا، نئے پاکستان کے رہنے والے شہریو، کوئی بھی دنیا میں معاشرہ تعلیم کے بغیر آگے نہیں بڑھتا۔ کوئی انسان جب تک وہ اپنے ذہن کو آگے نہِں بڑھاتا تعلیم سے وہ آگے نہیں بڑھتا۔
تو ہم نے اس یونیورسٹی کے اندر دو کام کرنے ہیں۔ پہلے تو ہم نے جو بھی لیٹسٹ، آج کل بڑی تیزی سے ٹیکنالوجی ایڈوانس کر رہی ہے۔ اور ایک نیا دور آنے لگا ہے، انٹرنیش۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس۔ ایسی ٹیکنالوجیز آنے لگی ہیں جو ہر چیز میں یعنی کہ آپ کھیت میں سے تین گنا بیٹھے بیٹھے زیادہ پیداوار لا سکتے ہیں۔ یہ سارا ٹیکنالوجیز ہیں۔ تو یہ تو ہم یہاں ٹیکنالوجیز ڈیولیپ کریں گے لیٹسٹ جو بھی دنیا کے اندر ہیں انشا اللہ ہم چائنا ہو کے آئے ہیں ان سے ہم نے مدد مانگی ہے۔ وہ ٹیکنالوجیز میں ہمارے سے بڑے آگے نکل گئے ہیں۔ ان سے مدد مانگیں گے کہ اس یونیورسٹی میں ہماری مدد کریں۔
لیکن ایک دوسرا پہلو ہے۔ اور یہ ہے اصل وجہ اس یونیورسٹی کی۔ آپ کو پتہ نہیں یہاں کتنے لوگ یہاں سے سوہاوہ سے ہیں۔ جن کو اس چیز کا علم ہے۔ کہ اس جگہ کو ترقی کا پہاڑ کہا جاتا ہے۔ کسی کو آپ کو بڑے کم لوگوں کو پتہ ہو گا۔ اس کو ترقی کا پہاڑ کہا جاتا ہے اور یہاں ایک بابا نور الدین تھے۔ ستر سال پہلے بابا نور الدین نے یہاں چلہ کاٹا تھا۔ وہ بڑے روحانی تھے۔ تو یہ جو القادر یونیورسٹی ہے، یہ جو روحانیت کے سپہ سالار عبدالقادر جیلانی، یہ ان کے نام پہ ہم نے رکھی ہے۔ اب میں آپ کو عبدالقادر جیلانی کا بتاؤں۔ یہ وہ اللہ کے قریب انسان تھے، یہ وہ صوفی تھے، جو اللہ نے بڑے کرم کیے ہوئے تھے ان پہ۔
انہوں نے دو چیزیں کیں۔ انہوں نے سب سے پہلے تو، اچھا ان کا نام محی الدین، ان کو محی الدین کیوں کہتے تھے، کیونکہ انہوں نے اسلام کو زندہ کیا تھا۔ انہوں نے اسلام کے اندر، تعلیمات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھیلائی تھیں۔ لیکن انہوں نے ایک اور کام کیا تھا۔ انہوں نے یہ کیا تھا کہ انہوں نے سائنس، روحانیت اور اسلام کا تعلق جوڑا تھا۔ یہ بڑے کم لوگوں کو پتہ ہے کہ سائنس اور روحانیت کا انہوں نے تعلق جوڑا تھا اور تحقیقات شروع کروائیں تھیں روحانیت کے اندر۔
اور اس کے بعد انہوں نے ایک اور کام کیا تھا۔ انہوں نے انسانوں کو یہ بتایا تھا، اور یہ ہوتا ہے جو ایک انسان کو آزاد کرتی ہے چیز، انہوں نے انسانوں کو یہ بتایا تھا کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے، اللہ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ اب یہ جب ایک انسان کے اندر ایمان آ جاتا ہے، تو میں نوجوانوں آپ کو خاص طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ انسان کو آزاد کر دیتا ہے۔ خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہ انسان کو ادھر پہنچا دیتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔
وہ آئیڈیل ازم، جو آئیڈیلسٹ بڑے بڑے کام کرتے ہیں وہ انسان کو ایک چھوٹے سے انسان سے بڑا انسان بنا دیتا ہے۔ تو یہ انشا اللہ ایک عظیم صوفی عبدالقادر جیلانی کے نام پہ انشا اللہ ہم یہ یونیورسٹی کو شروع کر رہے ہیں اور اس میں، اس میں ہم نے بھی اسلام اور روحونیت، آ، آ، اس کے اندر ایک کریکشن کریں گے سائنس کے اندر، کہ سائنس، کہ سائنس کیسے اسلام کے ساتھ چلتی ہے۔ اور روحونیت۔ ۔ ۔ میں آپ کو ایک بات بتا دوں کہ ہم اس کو جو روحونیات ہے، روحونیت، سوری، روحانیات، روحانیت، ہم روحانیت کو ایک سپر سائنس بنائیں گے۔ کیونکہ ایک بہت بڑا ایک مسلمان صوفی تھا ان کا نام ابن عربی تھا۔
ابن عربی انہوں نے یہ شروع کیا تھا کہ روحانیت اور سائنس انہوں نے اس کا کیا تھا اور ابھی تک ہمارے پاکستان میں اتنے اتنے بڑے صوفی حضرات آئے جو قادری صاحب نے آپ سب کو بتایا، داتا گنج بخش، بابا فرید، بلھے شاہ، میاں میر، ہندوستان میں بڑے بڑے نظام الدین اولیا، یہ بڑے بڑے صوفی حضرات تھے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پیغام لے کر آئے ہندوستان میں۔ ان کے تلواروں سے نہیں انہوں نے لوگوں کو اسلام کی طرف لے کے آئے۔ انہوں نے لوگوں کے دل جیتے۔ تو اس کے اوپر کوئی ریسرچ نہیں ہے۔ کوئی پاکستان میں ہمارے پاس یونیورسٹی نہیں ہے جو یہ بڑے بڑے جو صوفی حضرات تھے ان کے اوپر ریسرچ کر کے بتائیں تو انشا اللہ یہ جو القادر یونیورسٹی ہو گی یہ ان کی بھی صوفی ازم پر ریسورچ، ریسرچ کرے گی۔
روحانیت کو ہم ایک سپر سائنس سمجھتے ہیں۔ یہ سائنس سے آگے ہے۔ اس کو سٹڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی اس کے اوپر ابھی تک یہاں بلکہ باہر امریکہ میں ادھر یونیورسٹیز کے اندر، انگلینڈ کے اندر انہوں نے ڈیپارٹمنٹس بنائے ہیں صوفی ازم کی جس میں ریسرچ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جدھر عام لوگ ہمارے زیادہ تر یہ بڑے بڑے بزرگوں کے عقیدہ رکھتے ہیں لیکن یہاں کوئی ریسرچ نہیں ہے۔ تو انشا اللہ ہماری جو القادر یونیورسٹی ہے یہ یہاں سے شروع ہو گا۔ جس طرح عبدالقادر جیلانی جن کو ”معین الدین“ کہتے تھے جنہوں نے اسلام کو ریوائیو کیا، انشا اللہ ہم ایک ایسا یہاں اسلام کی تعلیم لے کر آئیں گے ایسا یہاں سے سکالرز نکلیں گے کہ جب دنیا میں اسلام کے اوپر کوئی برا بھلا کہتا ہے تو اس ملک میں سکالرز ہوں گے جو دنیا کو جواب دے سکیں گے۔
ابھی ہمارے پاس، نو گیارہ کے بعد جس طرح اسلام کے اوپر حملے کیے گئے اور جس طرح بے حرمتی کرتے ہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی، کوئی جواب دینے کے لئے نہیں ہوتا دنیا میں۔ انشا اللہ یہ یونیورسٹی یہ وہ یونیورسٹی بنے گی جدھر ایسے سکالر نکلیں گے جو انشا اللہ دنیا میں بھی جواب دیں گے پاکستان میں بھی نوجوانوں کے لئے لیڈر بنیں گے سکالر شپ پر، صوفی ازم میں۔
میں آخر میں، آخر میں، میں اپنے سارے پاکستانی قوم کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس نظریے کو سٹڈی کرنا چاہیے، ہمیں اپنے سکولوں میں، ہم انشا اللہ یہاں یونیورسٹی سے ڈیویلپ کریں گے، ریسرچ پیپر ڈیویلپ کریں گے، سکولوں میں بچوں کو بتائیں گے کہ کیا اس ملک کا نظریہ تھا۔ کیا اسلام کا نظریہ ہے۔ کیا مدینہ کی ریاست تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

