عمران خان کی القادر یونیورسٹی سوہاوہ کی تقریر کا مکمل متن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین۔

میں آج بہت خوش ہوں اس لئے کہ جب میں 22 سال پہلے، بلکہ 23 سال پہلے جب سیاست شروع کی تھی، تو میرا ایک مقصد تھا پالیٹکس میں آنے کا۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ جس مقصد کے لئے پاکستان کو بنایا گیا، یہ بڑے، اس ملک کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔ یہ کوئی عام ملک نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک دو بہت بڑے ذہن تھے۔ علامہ اقبال اور قائداعظم۔ تو جس سوچ سے یہ پاکستان بنا تھا، 23 سال پہلے میں نے فیصلہ کیا کہ ہم اس مقصد سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ یہ وہ پاکستان نہیں جو اس کو بننا چاہیے تھا۔ اس کے پیچھے جو سوچ تھی، اس سوچ کو دفن کر دیا تھا ہمارے اس ملک کی قیادت نے قائداعظم کے بعد۔ تو میں آج، میں نے جب 23 سال پہلے سیاست شروع کی تو ہم نے اپنی جماعت، تحریک انصاف کا جو ہمارا منشور تھا، وہ وہی تھا جو پاکستان کے فاونڈنگ فادرز یعنی کہ جو نظریہ پاکستان تھا، کہ پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، اور یہ علامہ اقبال جنہوں نے اس کا تصور بڑھایا تھا اسلامی فلاحی ریاست کا، وہ اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کی ریاست تھی۔

اور وہ مدینہ کی ریاست، یہ آپ سب کے لئے سمجھنے والی بات ہے، مدینہ کی ریاست بنائی تھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، اور انہوں نے، انہوں نے، جو قرآن میں لکھا ہوا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ قرآن تھے۔ عملی طور پہ قرآن پہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے تھے اس لئے اللہ نے قرآن میں کہا تھا کہ ان کی سنت پر چلو۔ ان کے راستے پر چلو۔ ہمیں حکم ہے قرآن کا کہ ان کے راستے پہ چلو۔ اور ان کا راستہ تھا مدینہ کی ریاست۔

تو جو مدینہ کی ریاست پہ چلنا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت تھی اور اللہ کا حکم تھا ہمیں۔ اور وہ تھی اسلامی فلاحی ریاست جس کو پاکستان نے بننا تھا۔ نہ ہم اسلامی رہے نہ ہم فلاحی رہے، ایک ریاست بن گئے۔ اور یہ میرے پاکستانیو یاد رکھیں، کوئی قوم جو جس کا نظریہ جب ختم ہوتا ہے وہ قوم بھی ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں بڑی قومیں، بڑی بڑی ایک وقت پہ ریاستیں تھیں ختم ہو گئیں۔

مثلاً یوگوسلاویہ تھا، بڑی ریاست تھی، وہ بٹ کے تین چار ملکوں میں چلی گئی۔ اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان بھی جب ٹوٹا، جب ہمارے سے ایسٹ پاکستان علیحدہ ہوا، تو وہ اس لئے تھا کہ پاکستان کا جب نظریہ پیچھے چلا گیا، جو ایک عظیم نظریے پہ یہ ملک بنا تھا، تو ایسٹ پاکستان کے لوگوں نے کہا کہ ہم کیوں اس ریاست کا حصہ رہیں۔ اور میں آج آپ کے سامنے پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ اگر ہم نے اپنے ملک کو واپس اس نظریے پر نہ لے کے گئے جس کے لئے یہ ملک بنا تھا، یہ یاد رکھیں کہ ایک فوج ملک کو اکٹھا نہیں رکھ سکتی، ملک کو اس کی عوام اکٹھا رکھتی ہے (عمران خان صاحب نے عوام کو غلط طور پر مونث واحد استعمال کیا ہے جبکہ یہ لفظ مذکر جمع ہے، تقریر کو اوریجنل رکھنے کے پیش نظر اس اور دیگر غلطیوں کو درست نہیں کیا گیا ہے: مدیر)۔ کیونکہ عوام اس ریاست کا حصہ بننا چاہتی ہے۔ کیونکہ ریاست عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرتی ہے۔ اور سب سے زیادہ چیز ریاست لوگوں کو انصاف دیتی ہے۔ تو ایسٹ پاکستان کے لوگوں نے کہا کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا۔ ان میں احساس محرومی آ گئی۔ انہوں نے کہا جو ویسٹ پاکستان میں جس طرح کے پاور ہے وہ ہمیں نہیں مل رہی۔

تو مدینہ کی ریاست میں صرف آپ کو یہ سمجھا دوں کہ وہ ایک ایسی ریاست بنی تھی جس جو عدل اور انصاف کی بنیاد پہ بنی تھی۔ وہاں پہلے تو قانون کی بالادستی تھی، طاقتور اور کمزور قانون کے سامنے ایک برابر ہو گئے۔ دوسری چیز کہ طاقتور سے پیسہ لے کے تو کمزور پہ خرچ کرنا شروع کیا۔ جس کو فلاحی ریاست کہتے ہیں۔ لوگوں کو کمزوروں کو غریبوں کو بیواؤں کو معذوروں کو بوڑھوں کو ریاست نے ان کی ذمہ داری لی۔ یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا تھا۔

آج سوہاوہ میں، جہلم کے لوگ زیادہ، آپ اور پاکستانی یہ جو سن رہے وہ یہ یاد رکھیں کہ وہ جن اصولوں پہ مدینہ کی ریاست بنی تھی، آپ کو یورپ میں ایسی ریاست نظر آئیں گی۔ آپ کو سکینڈے نیویا میں، ڈنمارک سویڈن ناروے، آپ کو وہاں ویسا عدل و انصاف ملے گا۔ اس طرح کی انسانیت ملے گی۔ جو میریٹوکریسی تھِی مدینہ میں، میرٹ، خالد بن ولید تقریباً شکست دے گئے تھے جنگ احد میں مسلمانوں کو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو سیف اللہ کا خطاب دیا، سپہ سالار بنایا، میرٹ تھی۔

جو اچھا کرتا تھا وہ اوپر آ جاتا تھا۔ اور وہ ریاست اپنی اقلیتوں کو برابر کے شہری سمجھتے تھے، وہ ملت کا حصہ تھے۔ جو بعد میں مسلمانوں کی ریاستوں میں ہوا اقلیتوں سے وہ مدینہ کی ریاست میں نہیں تھا۔ برابر کے شہری تھے۔ تو وہ جو ریاست کے اصول تھے اس پہ بننا تھا پاکستان کو۔

اور ہم جب ہمارا ملک ٹوٹا، یہ نہیں ہم کہتے کہ ہندوستان نے توڑ دیا، ہاں ہندوستان نے تو کوشش کرنی تھی جب ہم نے موقع دیا انہوں نے فائدہ اٹھایا۔ غلطی ہماری تھی۔ ہم نے انصاف نہیں دیا اپنے لوگوں کو۔ اور آج بھی اگر ہم اپنے لوگوں کو انصاف نہیں دیں گے، فاٹا کے لوگوں کے برے حالات ہیں، ان کی ہم نے مدد کرنی ہے، بلوچستان میں کئی علاقے ہیں پیچھے رہ گئے ہیں لوگ۔ اندرون سندھ میں ستر فیصد پچھتر فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں لوگ۔ غریب نیچے ہیں امیر امی رہے۔ تو ایسی ریاست، یہ وہ ریاست نہیں تھی جس کی، جس کا وعدہ پاکستان کے فاونڈنگ فادرز نے کہا تھا کہ جو ہم ریاست چاہتے ہیں۔

لہذا میں نے یہ سوچا، 23 سال پہلے کہ اللہ نے جب بھی مجھے موقعہ دیا، یہ میں سوچ اپنی قوم میں، پھر اپنے نوجوانوں میں لے کر آوں گا۔ اپنی جو ہماری وژن تھی جو نظریہ تھا پاکستان کا، جس مقصد سے یہ ملک بنا تھا، میں اپنی قوم کو اس مقصد، کم از کم اپنے نوجوانوں کو تو بتاؤں گا کہ وہ مقصد کیا ہے۔ کیسے لیڈر شپ آ سکتی ہے پاکستان میں جب نوجوانوں کو پاکستان کے نظریے کا نہیں پتہ۔ دیکھیں لیڈر تو بنتا ہے نظریے، نظریہ لیڈر کو بناتا ہے۔ جب آپ کا نظریہ ہی نہیں ہے آپ لیڈر کیسے بن سکتے ہیں۔ اس لئے آج آپ دیکھتے ہیں کہ کتنی کم، آپ اب اپنے ستر سالوں میں دیکھ لیں کتنے لیڈر آئے ہیں۔ جو آتا ہے عوام کا، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد سارے عوام کے خیر خواہ بن جاتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو لنڈن میں اور ساری دنیا میں ان کی پراپرٹی ہوتی ہے اور عوام غریب ہو جاتی ہے۔ نظریہ کوئی نہیں ہے۔ اور لیڈر نہیں بن رہے۔ تو ہم نے یہ جو یونیورسٹی بنائی ہے یہ مقصد سے بنائی ہے۔ یہاں ہم نے اپنے نوجوانوں کو لیڈر بنانا ہے۔ بتانا ہے، اور لیڈر اس طرح بنیں گے جب ان کو پتہ چلے گا کہ پاکستان کا مقصد کیا تھا۔ کیوں بنا تھا یہ ملک۔

ایک تو یہ بنا تھا کہ ہندوستان میں، جس طرح قائداعظم نے مسلمانوں کو کہا کہ آپ برابر کے شہری نہیں بنیں گے۔ جو اس وقت انہوں نے یہ، انہوں نے تب یہ سمجھ لیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے آزادی نہِں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انگریز کی غلامی کے بعد ہندووں کی غلامی نہیں کریں گے۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک علیحدہ ملک چاہیے جدھر اقلیتیں، ساری اقلیتیں، مسلمان نہیں مسلمان۔ تھے لیکن یہاں بھِی ہندو ہمارے پاکستان میں اقلیت ہیں، سکھ ہیں، مسیحی برادری ہے، سب برابر کے شہری ہوں گے پاکستان میں۔ ایک تو یہ مقصد تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •