پاکستان کیسے دبئی بنے گا؟


یہ وہ غربت ہے جو یہاں کے لیبر کیمپس میں بھری ہے اور غریب ترین ملکوں سے رزق کی تلاش میں یہاں پہنچتی ہے، وہ رزق جو ان کی زمین سے ان کو نہیں ملتا اور اس لئے بھی کہ ان کے اپنے ملکوں کو سڑکیں صاف کرنے، وہاں سبزہ اگانے کی ضرورت ہی نہیں، ان کی ریاستوں کو مہنگی سڑکیں تو چاہیں مگر انہیں صفائی ستھرائی کے اس اعلی معیار کی ضرورت نہیں، یا خصوصاً عوام کو وہ صفائی کا معیار دینے کی ضرورت نہیں۔ چناچہ صفائی اور مزدوری کرنے والا یہ طبقہ درہموں کی خاطر چالیس پچاس کے درجہ حرارت پر کام کرتا ہے تا کہ ان درہموں پر ان کے خاندان پل سکیں۔

اگر یہی غریب طبقہ ہم مناسب معاوضے پر اپنی ہی سڑکیں صاف کرنے اور ان پر اسی طرح کی کیاریاں بنانے اور درخت اگانے پر لگا سکیں تو ملک کی ایک بڑی غربت زدہ آبادی کو روزگار بھی ملے اور میٹرو اور چھیل چھبیلے پلوں کے بغیر ہی شہروں کے شہر خوبصورت نکل آئیں۔ مگر ہم وہ قوم ہیں جو ڈرائنگ روم میں ایک اعلی ترین صوفہ رکھ لیتے ہیں مگر گھر کے بقیہ حصے کا گند تک صاف نہیں کرتے۔ جس ریاست میں دنیا بھر کی نسل اور قوم کے، ہر مذہب اور مختلف اقدار و روایات کے لوگ موجود ہوں ان کو رواداری، مروت، اخلاص کے ساتھ ایک قوم کی طرح نظم و نسق سے رکھنا اور دنیا کے بہترین اور محفوظ ترین شہروں میں اپنا شمار پانا ان کی وہ سب سے بڑی کامیابی ہے جو اس قوم اور ریاست نے حاصل کی ہے۔

اور اس کے لئے ضروری ہے سب سے پہلے بصیرت اور پھر اس بصیرت کو بصارت تک لے آنے والے لوگ۔ جس ملک میں میڈیا اور صحافت آزاد نہیں، جس ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہے اس میں افراد کی ترقی، فلاح اور محفوظ معاشرے کا قیام پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لئے ایک سوال ہے جہاں پر تمام تر ترقی اور شعور کا دارومدار صرف آزادی رائے کو سمجھا جاتا ہے اور ڈسپلن کی موجودگی سے سراسر انکار کر دیا جاتا ہے۔

آزادانہ رائے کی آزادی پر پابندی کم سے کم ہر اس شخص کو سکون کی زندگی جینے کا حق دیتا ہے جس کی زندگی میں بذات خود کوئی مسئلہ نہیں، ایک مطمئن عام انسان کو اپنی زندگی سے راحت لینے کا موقع دیتا ہے اور اس کی طاقت اور توانائی کسی بہترین مقصد کے لئے بچا کر رکھتا ہے۔ جیسے ماؤں کو گھرمیں جھگڑتے بچوں کو اکثر اوقات ایک ساتھ ڈانٹنا ڈپٹنا ضروری ہے اسی طرح ریاستی کنٹرول میں بھی شٹ اپ کال کی ایک اپنی اہمیت ہے۔

ورنہ اکثر سیاست اور میڈیا کی آزادی ہی قوم و ملک کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ دنیا کے محفوظ ترین اور بہترین شہروں میں شمار ہونے کے باوجود اس کا مطلب یہ نہیں کہ متحدہ عرب امارات میں دودھ و شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اور یہاں مسائل اور جرم نہیں۔ انسان مسائل پیدا کرنے کے لئے کبھی کم نہیں ہوتا چاہے سسٹم کیسا ہی شاندار کیوں نہ ہو۔ ہر سسٹم ہر حالت میں کوئی نہ کوئی سوال اٹھاتا رہتا ہے، اور زندہ اور فعال ریاستیں اس کا جواب تلاش کرتی رہتی ہیں۔

عرب امارات ان ریاستوں میں سے ہے جو ہمیشہ اپنے نظام کو بہتر سے بہتر کرنے میں مگن ہیں۔ چیزوں، رویوں اور معاشروں کو تعفن زدہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا صرف ان کی سرپرستی چھوڑنی پڑتی ہے مگر قوموں اور معاشروں کو بنانے کے لئے اس پر جان توڑ محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ محنت یہاں کی حکومتیں پچھلے چالیس سالوں سے دن رات کر رہی ہیں۔ اس میں بلاشبہ اس پیسے کا ہی کردار نہیں جو ان کو پیٹرول سے ملا اور جی کھول کر عوام اور مملکت پر لگایا گیا بلکہ اس خلوص نیت اور محبت کا بھی ہے جو ان حکمرانوں نے اپنی ریاست اور عوام سے کی۔

اور یہی وہ چیزیں ہیں جو پاکستان کو کبھی وراثت میں مل سکیں نہ کبھی جمہوریت کی تھالی میں رکھ کر پیش کی گئیں۔ عرب امارات کی ریاستوں میں ننھے بچے دن رات سڑکوں پر تنہا کھیلتے ہیں، کوئی ان کو ہاتھ لگا نہیں پاتا، قیمتی بڑی گاڑیاں سڑکوں پر پارک ہوتی ہیں اور ہفتوں مہینوں کھڑی رہتی ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ گاڑی چھوڑ شیشہ ہی اڑا لے۔ گھروں کی دروازے کھلے رہتے ہیں اور قاتل لٹیرے دور کی بات چھوٹے موٹے چور کی بھی جرات نہیں کہ دن دہاڑے یا رات میں کچھ چرانے کی مہم پر نکلے۔

قانون کے ہاتھ ہر مجرم تک پہنچتے ہیں۔ ہر سڑک اور ہر کونہ سٹریٹ لائٹ سے روشن ہے، ہر نکڑ پر قانون کا پہرہ ہے، رات میں بھی زمین اتنی روشن ہے کہ ستارے دکھائی نہیں دیتے۔ جب بھی کوئی پاکستان کو دبئی بنانے کی بات کرے تو سب سے پہلے ان سے یہ چند چیزیں مانگ لیں۔ اونچی عمارتوں اور بل کھاتے پلوں کی شاید ضرورت ہی نہ رہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3