بلاول بھٹو کا افطار ڈنر: اہم اپوزیشن قوتوں کا نمائندہ اجتماع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اسلام آباد میں افطار ڈنر پر اپوزیشن جماعتیں مل بیٹھیں۔

زرداری ہائوس اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے افطار ڈنر میں مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی، اے این پی اور پی ٹی ایم کی قیادت نے شرکت کی۔

دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے افطار میں سابق صدر آصف علی زرداری، میزبان بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ،نیئر بخاری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، حمزہ شہباز، ایاز صادق، مریم اورنگزیب موجود تھے۔

جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی جبکہ اے این پی کے میاں افتخار، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیر پائو، حاصل بزنجو، جہانزیب جمالدینی، پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر بھی شریک ہوئے۔

پشتون خواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں شریک ہونا تھا لیکن ان کی فلائٹ چھوٹ گئی جس کے باعث تقریب میں ان کی جگہ سینیٹر عثمان شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق افطار ڈنر میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کی ون آن ون ملاقات طے نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی افطار ڈنرمیں شریک تمام رہنما وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔ یہ سیاسی افطار پارٹی اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی اور سمت کا تعین کرے گی۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ پہلے ہی عید کے بعد حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا اشارہ دے چکی ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کے خلاف جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی کافی متحرک ہیں۔ وہ اس حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے رابطے کر چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •