افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق نہیں تھا !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1973 کے متفقہ دستور کے بعد میثاق جمہوریت پاکستان کی جمہوری تاریخ میں اہم ترین دستاویز ہے۔ میثاق جمہوریت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جمہوری قوتیں سیاسی عمل میں غیر سیاسی مداخلت قبول نہیں کریں گی۔ ظاہر ہے کہ عوام کا حق حکمرانی غصب کرنے والی قوتوں کے لئے میثاق جمہوریت جیسی دستاویز ہرگز خوشگوار نہیں تھی۔ میثاق جمہوریت ہی کا کرشمہ تھا کہ بے نظیر بھٹو شہید اور محترم نواز شریف پاکستان واپس آئے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی میثاق جمہوریت ہی کا شاخسانہ تھی۔ میثاق جمہوریت کی بنیاد سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی عمارت اٹھائی گئی جس نے وفاق پاکستان کی اکائیوں کو وہ صوبائی حقوق عطا کئے جن کا وعدہ 1940 کی قرار داد لاہور میں کیا گیا تھا۔ ان صوبائی حقوق کی ضمانت 1973 کے دستور میں دستاویز کی گئی تھی۔ جنہیں فروری 1981ء میں تحریک بحالی جمہوریت کے چار اساسی نکات میں شامل کیا گیا تھا۔

میثاق جمہوریت ہی کی رو سے نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف غیر جمہوری سازش ہوئی تو وہ آگے بڑھ کر اس کی مزاحمت کریں گے۔ طاہر القادری نے 2013ء میں حکومت کو مفلوج کرنے لئے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو میثاق جمہوریت کی روشنی میں نواز شریف کی زیر قیادت حزب اختلاف کے مشترکہ بیان نے اس سبوتاژ منصوبے کا دھڑن تختہ کر دیا۔ میثاق جمہوریت ہی کا نصب العین تھا کہ اگست 2014 میں پیپلز پارٹی سمیت تمام پارلیمانی قوتیں نواز شریف حکومت کی مدافعت میں فصیل بن گئیں۔

تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہو گا کہ گزشتہ 14 برس میں جمہوری قوتیں میثاق جمہوریت کے متن اور روح پر پوری طرح کاربند رہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کو اعتماد میں لئے بغیر این آر او کے مزاکرات اسی شخص سے کئے جو بعد ازاں این آر او کی مخالفت میں پس پردہ ڈوریاں ہلاتا رہا۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے مطالبے پر نواز شریف کے غیرضروری اصرار نے پیپلز پارٹی حکومت کو غیرمستحکم کیا۔ میمو گیٹ اسکینڈل میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا نواز شریف کی غلطی تھی۔

آصف علی زرداری انکشاف کر چکے ہیں کہ جنرل شجاع پاشا نے ان سے یہ کہہ کر معافی مانگی تھی کہ میمو گیٹ اسکینڈل جنرل کیانی کے حکم پر گھڑا گیا تھا۔ دوسری طرف مسلم لیگ نواز کی حکومت 2017 کے گہرے پانیوں میں تھی جب آصف علی زرداری نے بلوچستان حکومت کے خلاف سازش کا حصہ بن کر جولائی 2018ء کی راہ ہموار کی۔ جمہوریت کا سفر سیدھی سڑک پر طے نہیں ہوتا۔ یہ مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ اس میں پگڈنڈی، شاہراہ، بند گلی اور گہری کھائی کی آزمائش مستقل درپیش رہتی ہے۔ جمہورہت اپنی غلطیوں سے سیکھتے رہنے کا عمل ہے۔

بلاول بھٹو اور مریم نواز پاکستان کی نئی نسل کے چہرے ہیں۔ یہ دونوں کبھی براہ راست اقتدار کا حصہ نہیں رہے۔ ان دونوں کے پاس گزشتہ نسل کے قیمتی تجربات کی میراث ہے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے 18 برس تک سیاسی آزمائش کاٹنے کے بعد 2006 میں میثاق جمہوریت کی صورت میں جو نصب العین اختیار کیا تھا، بلاول بھٹو اور مریم نواز وہاں سے اپنے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ اسے بھی تاریخ کا انصاف کہا جائے گا کہ 1990 میں پیپلز پارٹی کی قیادت بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں جب کہ آئی جے آئی کے سربراہ نواز شریف تھے۔ ان دنوں نواز شریف کے پارسا حامی بے نظیر بھٹو کی صنفی شناخت پر رکیک حملے کیا کرتے تھے۔ آج مسلم لیگ نواز کی قیادت عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھوں میں پہنچ گئی پے جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمدنی طور پر ایک قدم آگے بڑھے ہیں۔

مریم نواز نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا بیانیہ ووٹ کو عزت دینا ہے۔ بلاول بھٹو کے کندھوں پر اپنی شہید ماں کی لہو میں ڈوبی چادر ہے۔ لیاقت علی خان کو لگنے والی گولی، ذوالفقار علی بھٹو کے گلے میں آویزاں پھانسی کا پھندہ اور بے نظیر بھٹو کا تابوت پاکستان کی جمہوری روایت کے سنگ میل ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں اس میراث کا دعویٰ ووٹ کے نام پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

ووٹ لوگوں کے حق حکمرانی کی دلیل ہے، ووٹ قوم کی خود مختاری کا نشان ہے، ووٹ عوام کی معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز کا آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن، شاہد خاقان عباسی، حاصل بزنجو، پرویز رشید، آفتاب شیرپاؤ اور خورشید شاہ جیسے تجربہ کار رہنماؤں کی موجودگی میں ہراول دستے کے طور پر آگے بڑھنا پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

میاں افتخار حسین جیسے قابل احترام رہنما نے اس پیش رفت کو کس خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے کہ حقیقی مقصد عمران حکومت کو غیر مستحکم کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو پسماندہ اور غیرمستحکم کرنے والی قوتوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کرنا ہے۔ اس مقدس جدوجہد کو مذاق قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے پرویز مشرف کے حواری میثاق جمہوریت پر مذاق جمہوریت کی پھبتی کستے تھے۔

بلاول بھٹو کی افطار پہل کاری کو “ابو بچاؤ” تحریک کا تضحیک آمیز نام دینے والے وہ لوگ ہیں، جنہوں نے 2014ء میں اپنے معنوی چچا جان کو آرٹیکل چھ کے تحت قائم مقدمے سے بچانے کے لئے 126 دن کا دھرنا دیا تھا اور بالآخر اپنے بزرگ مشفق کو دبئی پہنچانے میں کامیاب رہے تھے۔ آمریت فرد واحد کا تسلط ہے جب کہ جمہوریت قوم کا تسلسل ہے۔ آمرانہ قوتوں کی سیاست افراد کے گرد گھومتی ہے جب کہ جمہوری قوتیں نسل در نسل انسان کی تکریم کا سفر طے کرتی ہیں۔ بلاول بھٹو کی افطاری مذاق نہیں، ایک قابل تحسین اور خوش آئند جمہوری سنگ میل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •