افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق نہیں تھا !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برادر عزیز ذیشان حسین نے “ہم سب” پر ایک کالم لکھا ہے جس کا عنوان ہے، “افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق تھا “۔ مجھے ان کی رائے سے اتفاق نہیں۔ ذیشان حسین درویش کے پرانے دوست ہیں۔ رائے میں اتفاق اور اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ اچھی دوستی رائے کے کس فروعی زاویے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ اس باہم احترام ہی سے بامعنی مکالمہ آگے بڑھتا ہے۔

ضیا الحق کی رخصتی کے بعد نواز شریف پاکستان کے سیاسی منظر پر اسٹیبلشمنٹ کا انتخاب تھے۔ انہیں پنجاب کی وزارت خزانہ اور پھر وزارت اعلیٰ تک تو ضیاالحق خود لائے تھے لیکن آئی جے آئی کے قیام اور نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی مسند تک لے جانے کا منصوبہ اسلم بیگ، حمید گل اور غلام اسحاق خان کا تھا۔ نواز شریف کے پس پشت اسٹیبلشمنٹ بھی تھی، طاقتور کا اشارہ پا کر نشان زدہ چھتری پر اترنے والے سیاسی کبوتر بھی تھے، درمیانہ کاروباری طبقہ بھی تھا، بھٹو کی نیشنلائزشن کے ڈسے ہوئے سرمایہ دار بھی تھے، آمریت کے سائے میں پرورش پانے والی بیوروکریسی بھی نواز شریف کا ساتھ دے رہی تھی۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ پیپلز پارٹی کو مذہب دشن، روایت دشمن اور فوج کا مخالف سمجھنے والا مذہبی ذہن بھی نواز شریف کو گویا ضیاالحق کی توسیع سمجھتا تھا۔ نواز شریف بھی دل و جان سے ضیاالحق کا مشن پورا کرنے کا اعلان کرتے تھے۔ انہیں نام نہاد مغرب زدہ بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں میڈ ان پاکستان، شرافت کا علمبردار، مذہب کا پابند محب وطن قرار دیا جاتا تھا۔

سیاسی موقع پرستی، میڈیا ٹرائل اور انتخابی دھاندلی کا کونسا حربہ تھا جو پاکستان کی ہمہ مقتدر قوتوں نے نواز شریف کے حق میں استعمال نہیں کیا۔ بعد کے برسوں میں نواز شریف کی مخالفت اور عمران خان کی حمایت میں اخبار سیاہ کرنے والے کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے نواز شریف کا بت تراشنے میں اپنے قلم کی روشنائی صرف کی۔ سنا جاتا ہے کہ کچھ سیانے آج کل افغان پالیسی اور جہاد کی کھلی حمایت کو غلطی تسلیم کرتے ہیں۔ گزشتہ صدی کے آخری بیس برس میں یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی جہاد اور اس کی آڑ میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی طرف اشارہ بھی کر سکے۔ نواز شریف ہوں یا بے نظیر بھٹو، جہاد کے نام پر سب کو سر جھکاتے ہی بنتی تھی۔ اور نواز شریف تو گویا عساکر جہاد کے سالار تھے۔

1988 میں بے نظیر بھٹو کی مفلوج، کٹی پھٹی اور ناتجربہ کار حکومت کو ایک دن ٹک کر کام کرنے نہیں دیا گیا۔ ہر روز ایک نیا اسکینڈل، ہر گھڑی ایک نیا بحران اور آئے روز ایک نیا الزام۔ ہمارے ہاں ایک عہدہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کے نام سے پایا جاتا ہے۔ آج پاکستان میں شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ ان دنوں کون اس عہدے کو رونق بخش رہا ہے۔ 30 برس قبل اس عہدے پر فائز ایڈمرل افتخار احمد سروہی ٹھیک اسی طرح قومی مفاد کے نمایاں ترین ٹھیکے دار تھے جیسے چند ماہ قبل ایک صاحب پاکستان میں ڈیم بنا رہے تھے اور آبادی پر قابو پانے کے لئے کانفرنس وغیرہ کرتے تھے۔

آصف علی زرداری کی کردار کشی میں ایک افسانہ اس بزنس میں کا تھا جس کی ٹانگ سے بم باندھ کر اسے بینک لے جایا گیا اور اسے زبردستی رقم نکال کر دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ آج کے سینئر صحافی کامران خان سے دریافت کیجئے کہ انہیں یہ کہانی گھڑنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ ایک الزام یہ تھا کہ وزیر داخلہ اعتزاز احسن نے سکھوں کی لسٹیں بھارت کو دے دی ہیں۔ یہ کون سی لسٹیں تھیں، اعتزاز احسن کو کہاں سے ملیں اور انہیں یہ مبینہ لسٹیں بھارت کو دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اعتزاز احسن آج بھی پاکستان ہی میں ہیں۔ ان پر کسی نے اس سنگین الزام میں مقدمہ کیوں نہیں چلایا؟

نومبر 1988 سے اگست 1990 تک کے بیس مہینے ایک قیامت کی طرح گزرے۔ اس دوران کراچی میں ایم کیو ایم ایک عفریت کی طرح ابھری۔ آج جس شخص کو بانی ایم کیو ایم کی اصطلاح سے یاد کیا جاتا ہے، تب وہ ایک صاحب کرامات تھا جس کی شبیہ مسجدوں کی دیواروں پر خود بخود نمودار ہوتی تھی۔ عزیز آباد کا پیر صاحب جس کے بستر سے چڑیاں اٹھنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ جس کے دروازے پر نواز شریف سے لے کر بے نظیر بھٹو تک، اور قاضی حسین احمد سے لے کر ولی خان تک، سب حاضری دیتے تھے۔ کراچی کا تشدد زدہ تشخص، مجرمانہ ماحول اور خون آلود چہرہ ایک بڑے کھیل کا حصہ تھا جس کا مقصد حسب ضرورت ناپسندیدہ منتخب حکومتوں کو بے دست و پا کرنا تھا۔

زیادہ نہیں صرف یہ پوچھ لیجئے کہ کسی نے آج تک یہ سوال کیوں نہیں پوچھا کہ 26 مئی 1990 کو کون لوگ تھے جو ایک طرف سے حیدر آباد شہر میں داخل ہوئے اور سینکڑوں افراد کو قتل کرتے ہوئے دوسری طرف سے نکل گئے؟ صرف ایک اشارہ: لیفٹنٹ جنرل اسد درانی نے کہا تھا کہ پکا قلعہ آپریشن کے بعد بے نظیر حکومت برخاست کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 1993، 1996 اور 1999 اور پھر 2007 میں کراچی سیاسی اتار چڑھاؤ میں بیرو میٹر کا کردار اختیار کر گیا۔ جہاں کٓراچی میں مار دھاڑ شروع ہوئی، سب سمجھ جاتے تھے کہ حکومت کا چل چلاؤ ہے۔

پاکستان میں احتساب کے نام پر سیاسی مخالفوں کو کسنے کی روایت لیاقت علی خان کے وقت سے چلی آتی ہے۔ ایوب خان نے احتساب کے نام پر ایبڈو کا قانون بنایا اور سیاست دانوں کی ایک پوری نسل کو منظر سے غائب کر دیا۔ ضیاالحق نے احتساب کے نام ہی پر انتخاب ملتوی کر کے اپنے اقتدار کو توسیع دی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل اسی احتساب کا شاخسانہ تھا۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت طویل آمریت کے بعد جمہوری حکمرانی کا مختصر، کمزور لیکن امید بھرا تجربہ تھا۔ بے نظیر بھٹو نے اس عرصے میں “جمہوریت بہترین انتقام ہے” کا نعرہ متعارف کرایا تھا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •