لندن کا سردار اور پشاوری بابا
تب کی بات ہے جب ہم ایک نیوز ویب سائٹ چلاتے تھے پشاور ون کے نام سے، آفس میں کوئی پنگا تھا اور کیس ہمارے پاس لگا ہوا تھا ایک رنگروٹ رپوٹر وہ والی ویب سائٹ دیکھتا پکڑا گیا تھا، اب سامنے سر جھکائے کھڑا تھا ابھی سماعت جاری تھی کہ ایک اور کٹا کھل گیا ہمارے ساتھی فوٹو گرافر کی فوٹو سٹوری میں آدھی فوٹو کسی اور کی اپ لوڈ ہو گئی تھیں۔ فوٹو گرافر صاب اس غم میں مرنے والے ہو چکے تھے۔
ماحول میں ہلکی گرمی تھی اور ہمیں تپ چڑھی ہوئی تھی کہ ایسے میں سیل فون کی گھنٹی بجی۔ یار گل سن میں انہاں دوناں منڈیاں نوں چھڈنا نہیں سمجھ آئی تینوں میری ساری شرافت اور مسکینی پنجابی میں بات سنتے ہی ختم ہو گئی کہ پنجابی میں بات کزن اور بھائیوں سے ہی کرنی ہوتی جدھر کسی دید لحاظ کی ضرورت نہیں پڑتی میں نے پوچھا کون بکواس کر رہا۔ وہ پھر بولا یہ دونوں بھائی میں سیدھے کر دینے۔ یہ سن کر ہم سوچ میں پڑ گئے کہ یہ میرے بھائیوں کا ذکر ہے کیا؟
سیل فون پر نمبر چیک کیا تو یو کے کا نمبر تھا۔ پوچھا کہ اپ کون؟ تو آگے سے جواب ملا سردارامیت سنگھ۔ او سردار
Read more





