فلسطینی اتھارٹی اور حماس: تسلط کے آلاتِ کار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 فلسطینی اتھارٹی کی عملداری نہ صرف اوپر بیان کردہ سرحدی حدود تک محدود ہے بلکہ تقریباً تمام کاموں میں قابض طاقت کی مرہونِ منت ہے۔ تمام برآمدات اور درآمدات، پولیس کی ایک علاقے سے دوسرے میں تعیناتی، انتظامی ڈھانچے سے متعلق اقدامات اور بہت سے امور کے لئے اسرائیل کی اجازت ضروری ہے۔ مزید یہ کہ فلسطینی علاقے معاشی طور پر بڑی حد تک اسرائیل کے پر منحصر ہیں۔ اسرائیل اور اسرائیلی آبادیوں میں روزگاران کے لئے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

 فلسطینی علاقوں میں جانے والی زیادہ تر درآمدات یا تو اسرائیل ہی سے جاتی ہیں یا اسرائیل سے گزر کر جاتی ہیں۔ فلسطینی برآمدکنندگان کو اسرائیلی سہولت کاروں کی ضرورت ہوتی ہیں۔ برآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں اوراسرائیل انہیں سیکورٹی کی بنیاد پر کسی بھی وقت روک سکتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی حکومتی صلاحیت کا دارومدار بڑی حد تک اوسلو معاہدوں میں طے پانے والے محصولات کے نظام پر ہے جس کے تحت اسرائیل فلسطینی برآمدات پر لگائے گئے ٹیکس فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کرتا ہے۔

 اگرچہ فلسطینی اتھارٹی حال ہی میں خود کچھ ٹیکس اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے تاہم یہ ٹیکس کل محصولات کا تقریبا بیس فیصد بنتا ہے جوبہت کم ہے۔ اس کی اہم وجوہات میں کمزور فلسطینی معاشی نظام کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کا ’سی‘ علاقوں اور ( 2007 ء کے وسط سے ) غزہ میں ٹیکس اکٹھا نہ کر سکنا شامل ہیں۔ ناپسندیدہ طرزِعمل پر اسرائیل کا کثرت سے (معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ) سزا کے طور پر ٹیکس کی منتقلی کو روکنا فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل پر انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔

 مثال کے طور پر جب 2015 ء میں فلسطین نے عالمی عدالتِ جرائم کی رکنیت حاصل کی تو اسرائیل نے چار ماہ تک فنڈز کو منجمد کیے رکھا۔ متنازعہ سیکورٹی تعاوناوسلو معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین موثر سیکورٹی تعاون نظر آیا۔ اگرچہ دوسرے انتفادہ کے ساتھ ہی مشترکہ گشت ختم ہو گئی تاہم 2005 ء میں محمود عباس کے صدر بننے کے بعد دوسرے طریقوں سے یہ تعاون دوبارہ شروع ہو گیا۔ تب سے امریکہ اور یورپی یونین کی پرزور حمایت سے تعاون مزید بڑھایا گیا ہے۔

 فلسطینی سیکورٹی ادارے اسرائیل کو ایسی معلومات مہیا کرتے ہیں جو دہشتگردی کے فلسطینی ملزمان کو حراست میں لینے یا قتل کرنے میں اسرائیلی فوج کے لئے مددگار ہوں جبکہ اسرائیل بھی فلسطینی اتھارٹی کو معلومات فراہم کرتا ہے اور اسے ’چھوٹی مچھلیوں‘ کو خود پکڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایسے میں فلسطینی اتھارٹی ایک دوراہے پر آ کھڑی ہوتی ہے۔ ایک طرف تو وہ مغربی کنارے مسلح مخالف گروہوں کی افزائش کو روکنے کے لئے اسرائیلی تعاون کی مرہونِ منت ہے تو دوسری طرف جب وہ سیکورٹی تعاون پر سوال اٹھاتی ہے یا اسرائیلی مفادات کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو اسے اس کی قیمت اجازت ناموں اور مالیاتی معاملات میں رکاوٹ، مخصوص علاقوں کے سیل ہونے اور اسرائیل اور اسرائیلی آبادیوں میں کام کے لئے ملنے والے اجازت ناموں میں کمی کی صورت میں ادا کرنی پڑتیہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے لئے مغربی (خصوصاً امریکی) حمایت بھی اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی تعاون سے مشروط ہے۔ لہٰذافلسطینی صدر کا سیکورٹی تعاون کو ’مقدس‘ کہنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری طرف فلسطینیوں نے جن کی اکثریت فلسطینی اتھارٹی کو دشمن کا حمایتی سمجھتی ہے اس بات کا خوب مذا ق اڑایا۔ ان کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ سیکورٹی تعاون کا مقصد فلسطینی آبادی کو اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں سے بچانا نہیں بلکہ صرف اسرائیل اور اس کے آبادکاروں کی حفاظت کرنا ہے اور فلسطینیوں کی باہمی پھوٹ کے بعد سے سیکورٹی تعاون سے صرف فلسطینی اتھارٹی کی حکومت کی حفاظت ہوئی ہے۔

مخالفین خصوصاً حماس کے نمائندوں کو تو اسرائیلی فوج کے اشتراک سے مروا دیا جاتا ہے۔ سروے یہ بتاتے ہیں کہ تسلط کے خاتمے اور فلسطینی آزادی کی کوئی امید باقی نہ رہنے کے بعد آبادی کا ایک بڑا حصہ اب سیکورٹی تعاون کو مسترد کرتا ہے اور تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد کا حامی ہے۔ آج کا فلسطینی سیکورٹی تعاون کو بنیادی طور پر قابض طاقت کی حفاظت کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ تسلط کے تحت حکومت کرنے کے دوران مفادات کا ٹکراؤفلسطینی اتھارٹی کی اشرافیہ قابض طاقت کے ساتھ سمجھوتاکر چکی ہے جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی علمِ بغاوت بلند کرنے کی بجاے قابض طاقت کی کچھ ذمہ داریاں سنبھال کر تسلط برقرار رکھنے میں مدد کی جاتی ہے۔

اس طرزِعمل کی کئی وجوہات ہیں۔ اجازت ناموں کے اس نظام میں فلسطینی اشرافیہ کو کئی مراعات حاصل ہیں جو انہیں موجودہ نظام کے تسلسل کے فوائد میں حصہ دار بناتی ہیں۔ ان میں فلسطینی اتھارٹی کی قیادت اور منتخب تخلیقی کاروباری لوگوں کو ملنے والا وی آئی پی پروٹوکول اور وسیع سفری آزادی شامل ہیں جو عام فلسطینیوں کو میسر نہیں۔ اوسلو معاہدوں میں فلسطینی اتھارٹی کو یہ حق بھی دیا گیا تھا کہ کہ وہ جسے چاہے کاروباری لائسنس دے اور فلسطینی تجارت میں (مثلاًمواصلات میں ) جس کی چاہے اجارہ داری قائم کرے۔

 اس شق نے فلسطینی اتھارٹی کی قیادت اور ان کے خاندانوں کو دولت سمیٹنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دوسرے انتفادہ ( 2000 ء سے 2005 ء) کے بعد سے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادیوں میں مسلسل اضافے اور آزادی کے کسی نظریے کے فقدان نے فلسطینی سول سوسائٹی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ شاید وقت آگیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کر دیا جائے اور مکمل ذمہ داری قابض طاقت پر ڈال دی جائے۔ یہاں تک کہ صدر محمود عباس نے بھی ایسی پیشکش کی ہے۔

 یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ کئی بار تو اس پیشکش کو حکمتِ عملی میں ایک بڑی بنیادی تبدیلی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس کے تحت الگ ریاست کا مطالبہ ترک کر کے ایک ہی ریاست میں یکساں حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ تاہم ابھی تک فلسطینی معاشرے میں اس خیال کے حامیوں کی اکثریت نہیں ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی تحلیل اور تمام ذمہ داریاں قابض طاقت کو واپس کرنے کی راہ میں فلسطینی اشرافیہ کے ذاتی مفادات کے علاوہ تین اہم رکاوٹیں ہیں۔

 اول تو ایسا کرنے کا مطلب دو لاکھ سے زائد قومی اور مقامی سرکاری ملازمین کے ذریعہئی آمدن کا خاتمہ ہوگا۔ یہ نقصان غزہ اور مغربی کنارے دونوں کو متاثر کرے گا کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے غزہ کے ملازمین کی تنخواہیں بھی رام اللہ (مغربی کنارے ) سے ہی ادا کی جاتی ہیں حالانکہ وہ 2007 ء کے وسط سے اب تک کبھی بھی حاضر سروس نہیں رہے۔ دوم ایسا کرناخصوصاً مغربی کنارے میں معیارِ زندگی کو شدید متاثر کر سکتا ہے کیونکہ (سوائے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کے ) بین الاقوامی امدادفلسطینی اداروں کی اسرائیل سے شراکت داری سے مشروط ہے۔

ایسا تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ عالمی عطیہ دہندگان مقامی آبادی سے متعلق ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کے لئے قابض طاقت کی براہِ راست اعانت کریں گے۔ سوم فلسطینی اتھارٹی کی تحلیل کا مطلب غیرعلانیہ طور پر اوسلو معاہدوں سے دستبرداری ہوگا۔ ایسا کرنے سے یورپی یونین اور امریکہ کی حمایت کی بنیادی وجہ ختم ہو جائے گی جو ایک دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی ریاست کی مضبوطی کے لئے میسرہے۔ ایسا کرنا تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی قیادت کی ان کوششوں پر بھی جو اس نے فلسطینی ریاست کو عالمی سطح پر ایک شناخت دلوانے کے لئے کی ہیں، ایک سوالیہ نشان ہوگاکیونکہ یہ عمل فلسطینی اتھارٹی کے وجود سے جڑا ہوا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں