فلسطینی اتھارٹی اور حماس: تسلط کے آلاتِ کار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر فلسطینی اتھارٹی اور حماس حکومت کو تسلط کا آلاتِ کار کہا جائے تو شاید یہ ایک عجیب بات لگے۔ آخر باہمی اختلافات کے باوجود دونوں کا بنیادی مقصد تو فلسطین کی آزادی ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں حکومتیں قابض اسرائیلی فوج کی تقویت اور غزہ کے محاصرے کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے پاس قبضے کو ختم کرنے کی گنجائش بہت محدود ہے کیونکہ موجودہ حالات میں حکومتی امور سنبھالنے کا نتیجہ یہی ہے کہ ان کی بقاقابض طاقت کے ساتھ تعاون سے ہر طرح مشروط رہے۔

یہ بات حماس پر بھی پوری طرح لاگو ہوتی ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سرکاری روابط نہیں لیکن بالواسطہ سیکورٹی امور میں تعاون ضرور ہے۔ مختصر یہ کہ دونوں فلسطینی حکومتیں اپنے زیرِانتظام علاقوں میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے کو جدوجہدِآزادی پر فوقیت دیتی ہیں۔ اسرائیلی قبضے میں فلسطینی خود انتظامیاگرچہ اسرائیل نے باقاعدہ طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا صرف ایک حصہ (مشرقی بیت المقدس) اپنے ساتھ ضم کیا ہے تاہم ابھی بھی مغربی کنارے اور غزہ پر اس کی وسیع غیر علانیہ عملداری قائم ہے۔

اس عملداری کی بنیاد 1967 ء میں اسرائیل کے ان علاقوں پر فوجی قبضے اور ان کی قانونی اور انتظامی تعمیرِنو (بشمو ل اتحاد ِ یروشلم اور یروشلم لا 1980 ) سے ڈالی گئی۔ یہ عملداری 1993 ء اور 1995 ء کے اوسلو معاہدوں کے نتیجے میں مزید مضبوط ہو گئی جن پر تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) نے یہ سمجھ کر دستخط کیے کہ وہ مستقل حل نہیں بلکہ پانچ سالہ عبوری مدت کے لیے تھے اور 1999 ء میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک معاہدے کے ساتھ ختم ہو جاتے۔

اگرچہ اوسلو معاہدوں میں یہ تسلیم کیا گیا کہ فلسطینی علاقوں کی علاقائی وحدت کو برقرار رکھا جائے گا تاہم مستقل امن معاہدے تک مغربی کنارے اور غزہ کو مختلف حیثیتوں کے حامل ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور مشرقی یروشلم بلا شرکتِ غیرے اسرائیل کی عملداری میں دے دیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی ان معاہدوں نے فلسطینی اتھارٹی کی ذمہ داریوں کواسرائیل کے اندر چھوٹے چھوٹے محصور ٹکڑوں پر مشتمل ’اے‘ اور ’بی‘ علاقوں میں خود انتظامی اور اندرونی نظم و ضبط تک محدود کر دیا۔

 ’سی‘ علاقے (جو آج مغربی کنارے کا تقریباً ساٹھ فیصد ہیں ) اسرائیل کی وسیع عملداری میں دے دیے گئے۔ سادہ الفاظ میں فلسطینیوں کی کوئی حفاظتی فوج ان علاقوں میں تعینات نہیں کی جا سکتی اور تعمیر و ترقی کا کوئی منصوبہ اسرائیل کی اجازت کے بغیر شروع نہیں ہو سکتا۔ اوسلو میں طے کی گئی شرائط سے سب سے بڑا انحراف غزہ کی پٹی میں نظر آیا۔ 2005 ء میں اسرائیل نے رضاکارانہ طور پر غزہ (جو مذہبی یا نظریاتی نقطہئی نظر سے غیر اہم ہے ) سے اپنے آباد کار اور فوجیں واپس بلا لیں۔

 تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسرائیلی تسلط ختم ہو گیا۔ اسرائیل آج بھی غزہ کی زمینی اور بحری سرحدوں، اس کے سمندری پانیوں، وسائل، فضا، برقی نظام اور ترقی کے مواقع (جیسے بندرگاہوں یا ہوائی اڈوں کی تعمیر) پر قابض ہے۔ غزہ اور مصر کی سرحد البتہ اسرائیل کے تسلط میں نہیں۔ آج فلسطینی علاقوں کی وحدت کی بات کرنا شاید مضحکہ خیز لگے گا۔ انہیں چھوٹے چھوٹے علاقوں اور مختلف درجوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہے۔

مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں اور متعلقہ انتظامی ڈھانچے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آج تقریبا 125 آبادیوں اور 100 چوکیوں میں میں چھ لاکھ سے زائدآبادکار رہتے ہیں۔ 2002 ء میں قائم کی جانے والی دیوارِعلیحدگی اب مغربی کنارے کے تقریبا آٹھ فیصد علاقے اور مشرقی یروشلم کو باقی ماندہ فلسطینی علاقوں سے الگ کرتی ہے۔ اسرائیل اور مصر نے افراد اور اجناس کی نقل و حرکت اور ماہی گیری کو محدود کرنے کے لئے غزہ کا سخت محاصرہ یقینی بنایا ہے۔

 مزید یہ کہ فلسطینیوں کے ’سی‘ علاقوں کے تقریبا ستر فیصد علاقوں میں (جو مغربی کنارے کا چالیس فیصد ہیں ) تعمیر یا کاشتکاری کی مکمل ممانعت ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو یا تو اسرائیلی آبادیوں کے لئے مخصوص ہیں یا سرکاری زمین قرار دیے گئے ہیں یا پھردیوارِعلیحدگی کی اسرائیلی سمت میں واقع ہیں۔ اسرائیل ان علاقوں اور مشرقی یروشلم میں بغیر اجازت ہونے والی تعمیرات کو باقاعدگی سے مسمار کرتا رہتا ہے۔ بعض علاقوں میں زمینیں ضبط کر کے، پینے کے پانی اور نکاسیِ آب کے نظام تک رسائی روک کر اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کی زد میں لا کر فلسطینیوں کو روزگار سے محروم کیا جاتا ہے۔

 یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے یورپی سول تحفظ واقدامات برائے انسانی امداد نے ان جبری بے دخلیوں کے متعلق لکھا ہے۔ فلسطینی آبادی کی مغربی کنارے کے علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کو مخصوص سڑکوں کے استعمال پر پابندی اور اسرائیلی فوج کے ناکوں کے ذریعے محدود کیا جاتا ہے جبکہ مشرقی یروشلم جانے یا مغربی کنارے اور غزہکے درمیان نقل و حرکت کے لیے خاص اجازت نامہ درکار ہوتا ہے جو کم ہی عطا کیا جاتا ہے۔

1994 ء سے فلسطینی اتھارٹی نے بتدریج فلسطینی علاقوں میں اندرونی نظم و ضبط، خود انتظامی اور عوامی خدمات کی ذمہ داری اپنے ذمے لی جب کہ اخراجات کا بڑا حصہ عالمی برادری سے آتا رہا۔ اوسلومعاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان وسیع سیکورٹی تعاون بھی عمل میں آیا جس کا علامتی مظاہرہ فلسطینی علاقوں میں مشترکہ گشتوں کے ذریعے کیا جاتا۔ ایک فلسطینی سیکورٹی ڈھانچا تشکیل دیا گیا اور اسے چھوٹے ہتھیاروں سے لیس کیا گیا تاہم اسرائیل نے ’اے‘ اور ’بی‘ علاقوں میں مطلوب افراد کا پیچھا کرنے کا اختیار برقرار رکھا۔

 آج تک اسرائیل باقاعدگی سے وہاں مطلوب افراد کو حراست میں رکھتا ہے۔ 2005 ء میں غزہ سے اسرائیلی انخلاء، جنوری 2006 ء کے پارلیمانی انتخابات میں حماس کی فتح اور جون 2007 ء میں اس کے غزہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد سے حقیقی انتظامی ذمہ داری حماس ہی کے پاس ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق ایک قابض طاقت مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ اوسلو معاہدوں کے ذریعے اسرائیل ایک قابض فوج کی کئی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو گیا ہے۔

 ساتھ ہی ساتھ اس نے حقیقی کنٹرول بھی اپنے پاس رکھا ہے۔ معاہدوں میں یہ بات طے کی گئی کہ اسرائیل عبوری مدت کے لئے فلسطینی علاقوں کی زمینی اور بحری سرحدوں، فضائی اور برقی حدود کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گا۔ ان معاہدوں نے فلسطینی معاشی نظام پر بھی اسرائیلی اثرورسوخ مستحکم کیا۔ ایسا فلسطینی علاقوں میں معاشی اورمالیاتی یگانگت، بیرونی سرحدوں پر عملداری اور وسائل تک رسائی کے ذریعے کیا گیا۔ حتیٰ کہ فلسطین کی آبادی کی رجسٹری بھی اسرائیل کے زیرِانتظام ہے جس میں مغربی کنارے اور غزہ میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کا اندراج ضروری ہوتا ہے۔

 پچیدہ ترین سیاسی اور سرحدی مسائل کو اگلے مذاکرات تک ٹال کر ایک جامع اسرائیلی تسلط کی راہ ہموار کی گئی۔ ان مسائل میں یروشلم کی حتمی حیثیت، اسرائیلی آبادیوں کا مستقبل، اسرائیل اور فلسطین کی باہمی سرحد کا تعین اور مہاجرین کے مسائل شامل ہیں۔ آج تک ان میں سے ایک بھی مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔ فلسطینی اتھارٹی کا تسلط کے خدمت گار کے طور پر کردار 1994 ء سے فلسطینی اتھارٹی نے فلسطینی علاقوں میں فلسطینی خود انتظامی کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے اور کوڑا جمع کرنے سے لے کر ٹریفک کنٹرول، تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور کاروباری ترقی تک کئی خدمات انجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں