فلسطینی اتھارٹی اور حماس: تسلط کے آلاتِ کار؟
اگرچہ حماس اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے ساتھ بڑی سختی سے پیش آتی ہے اور انہیں پھانسیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتی، تاہم وہ ایسی تمام ذمہ داریاں جن کی اسرائیل کو ضرورت ہے، اٹھاتی ہے۔ بنیادپرست گروہوں کو اسرائیل میں راکٹ فائر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ سرحد پر دراندازی کو روکنے کے لئے گشت کی جاتی ہے۔ عوامی مزاحمت کے مظاہروں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ مسلح سلفی گروپوں اور القاعدہ کے حامیوں کو دبایا جاتا ہے جو نہ صرف اسرائیل مخالف ایجنڈا لئے ہوئے ہیں بلکہ حماس کے مقابل ہوتے ہیں۔
حماس یہ حفاظتی خدمات اپنی طاقت کو بڑھانے اور (فلسطین میں ) طاقت کے استعمال پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے مہیا کرتی ہے خواہ ایسا کرنا صرف مسلسل تسلط میں ہی کیوں نہ ممکن ہو اوراس حوالے سے کیے گئے اقدامات قابض طاقت کے مفادات کے کتنے ہی موافق کیوں نہ ہوں۔ بالواسطہ تعاونفلسطینی اتھارٹی حماس حکومت اور اسرائیل کے درمیان لوگوں اور اجناس کی نقل وحمل کے سلسلے میں بالواسطہ تعاون خصوصاً اجازت ناموں اور کاغذی کارروائی کے لئے پل کا کام کرتی ہے۔
مثال کے طور پر نقل وحرکت اور رسائی کے معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کے فلسطینی طرف اسرائیل اور حماس کے درمیان رابطے کے لئے اہلکار تعینات کیے۔ اکتوبر 2007 ء میں الفتح اور حماس کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل اور مصر کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کا مکمل اختیار سنبھال لیا۔ حماس حکومت کی قائم کردہ اضافی چوکیوں کو منہدم کر دیا گیا۔ (تاہم وزیرِاعظم رمی حمداللہ پر مارچ 2018 ء میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد ایک نئی چوکی قائم کر دی گئی)۔
بالواسطہ تعاون کی ایک اور مثال فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے غزہ کو اسرائیل سے ڈیزل اور بجلی کی فراہمی ہے جس کی قیمت ترکی اور قطر ادا کرتے ہیں۔ خصوصاً صدر عبد الفتح السیسی کی حکومت میں مصر سے ایندھن اور گیس کی عدم فراہمی اور رفاہ کی گزرگاہ بند ہونے سے بلواسطہ تعاون کی یہ شکل غزہ کے لئے ناگزیر ہو گئی ہے۔ عوام کے لئے بنیادی ضرورتوں کی فراہمی اور اپنی حکومت کرنے کی اہلیت ثابت کرنے کا یہی ایک راستہ ہے۔ اور یہ اس کے لئے محصولات کے چند ذرائع میں سے ایک بھی ہے کیونکہ بیرونی تجارت پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
اس تناظر میں شفافیت کی کمی کے باعث اور سب سے بڑھ کر سمگلنگ کے پھیلتے ہوئے شعبے میں ٹیکس لگنے سے ذاتی مفادات کے حصول کے مواقع بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ کچھ برسوں سے اسماعیل ہنیہ (غزہ کے سابق وزیرِاعظم) کا خاندان خاصی تنقید کا شکار ہے۔ اسرائیل نے حماس پر دباؤ ڈالنے اور غزہ کے باسیوں میں ان کی قیادت کے خلاف نفرت بڑھانے کے لئے اپنا محاصرہ وقتی طور پر سخت کر دیا ہے۔ ساتھ ہی مصر نے عام فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ حماس کے عہدیداروں کی آمد و رفت کو سختی سے محدود کر دیا ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے سرحدی اہلکاروں کی واپسی کو غزہ کی پٹی کو جانے والی گزرگاہ کو مستقل طور پرکھولنے کی شرط قرار دیا ہے۔
تاہم مصری یقین دہانیوں کے باوجود 2018 ء کے موسمِ گرما کے آغاز تک رفاہ کی گزرگاہ نہیں کھولی گئی حالانکہ حماس نے اکتوبر 2017 ء کے سمجھوتے کے تحت سرحدی گزرگاہوں پر فلسطینی اتھارٹی کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے اور سرحدپار کام کرنے والے جہادی گروپوں پر بھی گھیراتنگ کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اپنے پل کے کردار کو کئی بار حماس کو اپنی شرائط پر صلح پر آمادہ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر بہار 2017 ء میں رام اللہ (فلسطینی اتھارٹی) نے غزہ کے خلاف سزا کے طور پر سخت ترین اقدامات کیے۔
غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سٹاف کی تنخواہیں روک لی گئیں، غزہ کی بجلی کی مد میں اسرائیل کو معاوضہ ادا نہیں کیا گیا اور صحت کی سہولتوں میں کمی کر دی گئی۔ لیکن یہ غزہ کے عوام ہی ہیں جو ہر طرف سے شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ 2017 ء میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے عائدکردہ پابندیوں کے باعث انسانی فلاح کی صورتحال میں ڈرامائی بگاڑ پیدا ہوا۔ 2014 ء کی مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِنو ابھی بڑی حد تک نامکمل ہے اور موجودہ حالات میں پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔
ایسے میں عوام کے بڑے حصے کا انحصار عالمی امداد پر ہے۔ گذشتہ برسوں میں ماحولیاتی صورتحال بھی بگاڑ کا شکار ہوئی ہے۔ غزہ کا زیرِزمین پانی بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے کھاری ہو گیا ہے اور اس میں گنداپانی اس حد تک شامل ہو چکا ہے کہ زیرِزمین پانی کا بمشکل پانچ فیصد پینے کے قابل بچا ہے۔ ساحلی پانی بے حد آلودہ ہو چکا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ کیوبک میٹر گنداپانی روزانہ مناسب صفائی کے بغیر بحیرہئی روم میں بہا دیا جاتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پانی کی صفائی کے کارخانے بجلی کی قلت کے باعث اپنی مطلوبہ استعداد پر کام نہیں کر پاتے۔ ناکہ بندی کی وجہ سے تعمیری سامان نہ پہنچنے کے باعث پانی کی صفائی کے اضافی کارخانے فی ا لحال مکمل نہیں کیے جا سکتے۔ ماحولیانی مسائل نہ صرف بیماری اورخصوصاً شیرخوار بچوں میں غذائی اجزاء کیشدید قلت کا باعث بنتے ہیں بلکہ غزہ کی پٹی کی باقی رہنے کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ غزہ میں جابرانہ طرزِحکومت ہے اور جمہوری اقدار کا شدید فقدان ہے۔
غزہ کی حکومت کو اپنی مقبولیت میں بتدریج بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا ہے۔ آخرکار حماس کی قیادت نے یہ جان لیا ہے کہ وہ تسلط، ناکہ بندی اور دوررس عالمی تنہائی کی صورتحال میں کامیاب حکومت نہیں چلا سکتی۔ وہ یہ بھی جان چکی ہے کہ روزمرہ کے بحرانوں کے حل پر توجہ دیتے دیتے ان کے قومی مقاصد کہیں کھو گئے ہیں۔ لہذٰا 2017 ء کے موسمِ گرما میں حماس نے حقیقت پسندانہ سیاست کی طرف قدم بڑھایاجو رام اللہ سے صلح، غزہ میں طاقت کی تقسیم اور قاہرہ کے ساتھ مصالحت میں نظر آیا۔
فلسطینی علاقوں میں دونوں حکومتوں نے اپنی محدود طاقت بڑھانے کو اسرائیلی تسلط ختم کرنے پر ترجیح دے رکھی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، اس حوالے سے کلیدی عوامل میں اسرائیل (جو حقیقی اختیارات کا حامل ہے ) پر بھاری انحصار، بیرونی ذرائع پر معاشی انحصار، عالمی سطح پر دوسروں کے مقابلے میں اپنی کامیابیاں منوانے پر زور اور موجودہ نظام میں رہتے ہوئے ذاتی مراعات اور مواقع کا تحفظ شامل ہیں۔ ان حالات میں فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے نہ چاہتے ہوئے سہی الگ الگ حد تک اسرائیلی تسلط کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
حالات کی اس صورتحال کو فلسطینیوں کی اندرونی تقسیم سے تقویت ملتی ہے جو اکتوبر 2017 ء کے مصالحتی سمجھوتے کے باوجود تاحال ختم نہیں ہوئی۔ اول تو یہ تقسیم جدوجہدِ آزادی میں ایک متحدہ فلسطینی حکمتِ عملی کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بلکہ دونوں حکومتوں کے مختلف علاقائی دوست تلاش کرنے کے عمل میں فلسطینی جدوجہد علاقائی دشمنیوں کے ماتحت ہو چکی ہے (مثلاً ایران اور سعودی عرب کی رقابت)۔ دوسرا اس سے اسرائیل کو ایک آسان بہانہ مل گیا ہے جس کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


