فلسطینی اتھارٹی اور حماس: تسلط کے آلاتِ کار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 صدر محمود عباس تمام فلسطینیوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ کسی معاہدہ پرپورے علاقے میں عمل کروا سکیں۔ تیسرا اس تقسیم نے جمہوری اداروں کو بڑی حد تک مفلوج کر دیا ہے، اختیارات کی تقسیم کو تہہ و بالا کر دیا ہے اور سیاسی آزادی کو محدود کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ سالوں میں ایک پائیدار جمہوری فلسطینی ریاست کی طرف پیش قدمی کا سفر الٹ سمت میں رہا ہے۔ ایسے میں مذاکرات کے ذریعے بات چیت کا حل تقریباً ناممکن ہے۔

 تاہم بنیادی ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد ہوتی ہے جو نہ صرف دو ریاستی حل کے لئے سنجیدہ نہیں ہے بلکہ آبادیوں کی تعمیر اور مغربی کنارے کے حصے اپنے ساتھ ملانے کے تیاریوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس پس منظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی امن منصوبہ دے بھی دیں (جو خود ایک انہونی بات لگتی ہے ) تو بھی نا امیدی کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال میں پر تشدد واقعات میں اضافے کا بڑا خدشہ ہے جو مختلف عوامل سے پھوٹ سکتے ہیں مثلاًفلسطینی اتھارٹی کا خاتمہ اور اس سے نتیجے میں پیدا ہونے والی افراتفری، اسرائیلی آباد کاروں کی مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اشتعال انگیزی (جو اسرائیلی حکومت سے حوصلہ افزائی پاتے ہیں )، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اہم مقامات پر آبادیوں کی تعمیر کی اجازت اور حرم الشریف پر تنازعہ وغیرہ۔

 اقتدار کے لئے فلسطینیوں کی باہمی کشمکش شدت اختیار کر سکتی ہے اور حماس اسرائیل پر حملوں کو ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔ یورپی یونین کے لئے پالیسی کا انتخابیورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے لئے یقینا تسلط کی مضبوطی اور مستقل قبضے کی راہ روکنے اور تازہ تصادم کا رخ پھیرنے سمیت کئی راستے کھلے ہیں۔ اس حوالے سے تین نکات کو ترجیح دینی چاہیے۔ اول تو امریکی ثالثی میں ایک اور معاہدے کا انتظار کرنے کی بجائے یورپی ممالک کواس ڈھانچے پر اثرانداز ہونا چاہیے جس کے تحت مذاکرات ہوں گے (یہ فرض کر لیجیے کہ مذاکرات ہوں گے )۔

 مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب وہ فریقین کے جائز مفادات کو تسلیم کریں۔ اس حوالے سے یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کو چاہیے کہ اسرائیلی حکومت اور عوام کے نفع نقصان کے حساب کتاب پر اس طرح اثر انداز ہوں کہ انہیں مستقل قبضے کی بجائے تسلط کے خاتمے کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اسی تناظر میں یورپی یونین کے ارکان کو یہ بحث کرنی چاہیے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے آبادکاری سے متعلق اقدامات (جو عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں ) کو یورپ کی طرف سے رد کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے۔

ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس بات کو کس طرح پہلے سے بہتر انداز میں اسرائیلی حکومت اور عوام کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ دوم یہ کہ جہاں تک فلسطینی علاقوں کی اندرونی سیاسی صورتحال کا تعلق ہے تو یورپی ممالک کو الفتح اور حماس کے درمیان مفاہمت کے عمل کی حمایت کرنی چاہیے جو اکتوبر 7102 ء سے تعطل کا شکار ہے۔ مفاہمت کے لئے درکار اقدامات پر عملدرآمد اسرائیل اور غزہ کے درمیان ایک اور مسلح تصادم سے بچاؤ کے لئے ناگزیر ہے۔

 دسمبر 2017 ء میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلے گا، غزہ میں صورتحال خطرناک حد تک کشیدہ ہو گئی ہے۔ جن اقدامات پر اکتوبر 2017 ء میں اتفاقکیا گیا تھا وہ بھی جمہوری عمل کی طرف واپسی اور غزہ کو انسانی بنیادوں پر ملنے والی امداد پر انحصار سے معاشی ترقی اور اس کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے بے حد ضروری ہیں۔ یہ مسئلہ انسانی بنیادوں کے حوالے سے فوری حل طلب ہے۔

غزہ میں دیرپا امن کے لئے ایک دیرپا جنگ بندی اور بحرانوں سے نمٹنے کے موثر نظام کا قیام بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر 2005 ء کے نقل و حرکت اور رسائی کے معاہدے کے تجارت اور آمد و رفت سے متعلق کچھ حصے دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے یورپی یونین کا سرحدی اعانت مشن برائے رفاہ سرحدی گزرگاہوں اور ساحلی پانیوں کی نگرانی کا کام کر کے بحران کے حل کے لئے کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ عمل حماس حکومت کی زمینی سطح پر شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔

 اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی ممالک کو اب فلسطینی صدر کی اپنے حریفوں کے ساتھ سختی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں حماس کے ساتھ رابطوں پر پابندی ختم کرنی چاہیے اور اسے مذاکرات کا حصہ بنانا چاہیے۔ حماس کی 2017 ء کی پالیسی دستاویز کو اس کے تمام تر نقائص کے باوجود ایک حوالے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ سوم یہ کہ یورپی یونین اور اس کے ارکان کو فلسطینی علاقوں کی حمایت کے حوالے سے اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

یہاں دو امر فیصلہ کن ہیں۔ پہلا یہ کہ ذرائع معاش اور علاقائی یکجہتی کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ فلسطینی سول سوسائٹی کی مضبوطی، جمہوری اداروں کی بحالی اورطاقت کی موثر تقسیم پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کے لئے پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے نہ کہ آمرانہ طرزِ حکومت اور تسلط کے آلۂ کار بنی رہے۔

یہ تحریر سٹفٹنگ وِسنشفٹ اُنڈ پولیٹِک جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی و سیکورٹی امورجرمنی کے جون 2018 ء میں شائع کردہ انگریزی تحقیقی مقالے ’اسرائیل فلسطین تنازعے کے کردار‘ کے ایک مضمون کا ترجمہ ہے۔

تحریر: مورئیل ایسبرگ ترجمہ: وجاہت رفیق بیگ

Source: https://www۔ swp۔ berlin۔ org/fileadmin/contents/products/research۔ papers/ 2018 RP 03۔ ltl۔ pdf

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں