رموز اوقاف کا استعمال


جملے کے اختتام کو ظاہر کرنے کے لئے رموز اوقاف (وقف کی علامات) میں سے کوئی ایک علامت، اور صرف ایک علامت استعمال کی جاتی ہے۔ ان علامتوں میں وقف (۔ فل سٹاپ)، استعجاب کا نشان (! ) یا سوالیہ نشان (؟) شامل ہیں۔ ان میں سے صرف ایک کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ جملے کے اختتام پر ان میں سے اکٹھی دو تین مثلاً (۔ !) یا (۔ ؟) وغیرہ ڈالنا غلط ہے۔

وجاہت مسعود صاحب ان علامات کے استعمال کی تفصیل کچھ یوں بیان کرتے ہیں:


ایک نکتہ یہ کہ صحافت میں رموز اوقاف یعنی پنکچوایشن کا ایک خاص منصب ہے۔ رموز اوقاف کا مقصد تحریر کے معنی کو واضح کرنا ہے تا کہ تفہیم میں کوئی ابہام نہ پیدا ہو۔ جملہ ختم ہوتا ہے تو وقف کا نشان دیا جاتا ہے۔ جملے میں کوئی ذیلی حصہ شامل ہوتا ہے تو اسے کوما (، ) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ تحریر میں کبھی کبھار استعجاب کے نشان (! ) کی گنجائش بھی ہوتی ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ لکھنے والا پڑھنے والے سے یہ درخواست کرے کہ یہاں رک کر توجہ فرمائیے کہ ہم نے کیا خاص بات کہی ہے یا کون سی بات کہے بغیر محض اشارہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر (۔ ۔ ۔ )کا نشان دینا مناسب ہے۔ جہاں سوال کیا جائے وہا ں (؟ ) کی علامت دی جاتی ہے۔

ہمارے کچھ لکھنے والے اوقاف کی بجائے جہاں دل چاہے چھ وقفے ڈال دیتے ہیں۔ ایک کی بجائے چار مرتبہ سوالیہ نشان دیتے ہیں۔ کچھ اصحاب باقاعدگی سے ایک کی بجائے تین دفعہ ’کوما‘ دینا پسند کرتے ہیں اور کچھ تو صحافت میں فیس بک کے مخصوص نشانات (سمائلی) بھی دیتے ہیں۔

یہ بے تکلفی پڑھنے والے کے ساتھ نا انصافی ہے۔ املا کی درستی نہایت اہم بات ہے۔ ادارتی عملے کا منصب پیشہ ورانہ اصولوں پر آپ کی تحریر کو پرکھنا ہے۔ تحریر میں رموز اوقاف اوراملا ٹھیک کرنا نہیں۔ املا یا رموز اوقاف کی غلطی کسی بھی انسان سے ہو سکتی ہے لیکن یہ غلطی نادانستہ ہونی چاہیے۔ جان بوجھ کر بلکہ اصرار کر کے اپنی ’ذاتی زبان‘ لکھنا غیر ذمہ دارانہ صحافت ہے۔


وجاہت مسعود صاحب کی مندرجہ بالا بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات بھی توجہ طلب ہیں۔ مضمون ٹائپ کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ہر لفظ کے بعد ایک سپیس ڈال رہے ہیں۔ فارمل رائٹنگ میں کومے کے بعد ایک اور فل سٹاپ کے بعد دو سپیس ڈالی جاتی ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں ان دونوں کے بعد ایک ایک سپیس بھی روا ہے۔ ہر جملے کے اختتام پر فل اسٹاپ یا دیگر موزوں علامت ضرور ڈالیں۔ ایک سے زیادہ رموز اوقاف استعمال مت کریں، ایک ہی کوما، فل اسٹاپ یا دیگر علامت لکھیں اور ،،، یا ۔۔۔۔ یا ؟؟؟ یا !!!! وغیرہ لکھنے سے گریز کریں۔ استعجاب کی علامت (!) بہت کم استعمال کی جاتی ہے۔ اگر آپ یہ استعمال کر رہے ہیں تو رک کر ایک مرتبہ سوچیں کہ کیا آپ کا جملہ استعجابیہ ہے؟ اسی طرح عنوان میں اسے استعمال کرنے والے کئی ہیں۔ ادھر بھی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ اسے استعمال نہ کیا جائے۔

مزید تفصیل کے لئے وجاہت مسعود صاحب کے اس مضمون کا مطالعہ مفید ہو گا: ہم سب کے لیے لکھنے والوں سے چند گزارشات

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar