جسٹس فائز عیسیٰ کا صدر مملکت عارف علوی کے نام دوسرا خط


اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ اور اپنے دو بچوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ عبد الحق کھوسو اور مرحومہ فیلیسا کیریرا (ہسپانوی شہری) کی صاحبزادی ہیں اور اعلی ٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی بیٹی کی عمر 31 برس ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ ان کے صاحبزادے کی عمر 28 برس ہے۔ دونوں نے بیرون ملک مختلف اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور بیرون ملک مقیم ہیں۔ قاضی صاحب نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے والد (مرحوم قاضی عیسیٰ) بلوچستان کے پہلے بیرسٹر تھے اور ان کی اپنی صاحبزادی بلوچستان کی پہلی خاتون بیرسٹر ہیں۔

صدر مملکت کے نام اپنے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ حکومتی اہل کاروں کو یقیناً علم ہو گا کہ میرے بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک قانونی طور پر کاروبار کر رہے تھے۔ وہ لندن کی جن جائیدادوں کے مالک ہیں، وہ ان کے اپنے نام رجسٹرڈ ہیں۔ میری اہلیہ اور بچے خود وہاں مقیم ہیں۔ میرا ان جائیدادوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ ان جائیدادوں کو چھپایا جائے۔ نہ کبھی انہیں کسی ٹرسٹ کی ملکیت دکھایا گیا ہے اور نہ میں نے کبھی کوئی آف شور کمپنی بنائی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ مجھ پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے کہ میں اپنے مالی معاملات پبلک کروں لیکن میں رضاکارانہ طور پر ایسا کر رہا ہوں کیونکہ میرے کردار پر شک کیا گیا ہے۔ میں ٹیکس قوانین کا مکمل طور پر پابند ہوں۔ میں ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کرتا ہوں۔ مجھے زندگی میں کبھی اپنے بارے میں یا میری اہلیہ اور بچوں کے تعلق سے ٹیکس کا کوئی نوٹس نہیں ملا۔ میں نے جب سے قانون کا پیشہ اختیار کیا، میں واجب الادا ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔ میرے ذمہ کوئی ٹیکس واجب الادا نہیں ہے اور نہ آج تک میرے خلاف کوئی ٹیکس کارروائی ہوئی ہے اور نہ اس وقت زیر التوا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے خلاف جنہوں نے ریفرنس تیار کیا ہے، انہوں نے اچھی طرح چھان بین کی ہوگی اور جب کچھ نہیں ملا تو اس طرح کے جھوٹے الزامات لے کر سامنے آئے ہیں۔ میرے معاملے میں تو میں نے ری فنڈ کے لئے جو درخواست کی تھی یعنی میں نے جو زائد از واجب ٹیکس جمع کروایا تھا، محکمہ انکم ٹیکس نے وہ بھی کبھی واپس نہیں کیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر ہونے سے پہلے میں ایک معروف قانونی فرم کا پارٹنر تھا جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی تھی۔ اس لا فرم میں میرے پارٹنر کو پاکستان کا سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر صدر پاکستان نے 2004 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں بلولچستاں ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا تو میری سالانہ تنخواہ اس سے پچھلے برس میں میرے ادا کردہ انکم ٹیکس سے کم تھی۔

جناب صدر کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ جو لوگ سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، انہیں نشانہ بنایا جائے اور جن کا رہن سہن ان کے ٹیکس ریٹرن سے کوئی تناسب نہیں رکھتا، انہیں کھلا چھوڑ دیا جائے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدر مملکت سے پوچھتے ہیں کہ اگر میرے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ میں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کی جائیدادیں کی تفصیل بیان کی ہے یا نہیں ، تو کیا یہ سوال وزیر اعظم پاکسدتان عمران خان سے بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے آج تک اپنی بیویوں اور بچوں کی جائیدادیں اپنے اثاثوں میں ظاہر کی ہیں۔ جناب صدر، میری درخواست ہے کہ قابل احترام وزیر اعظم مجھے اپنی بیویوں اور بچوں کی بیرون ملک جائیداد کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ میں اپنا دفاع کر سکوں۔

آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کہتے ہیں کہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ دستور کی شق 10 (الف) کے تحت منصفانہ ٹرائل کے اصولوں سے متصادم ہے۔ اگر حکومتی اراکین یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے دباؤ میں لاکر مجھے اپنے حلف کی خلاف ورزی پر مجبور کریں گے تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ اب بھی نہیں ہے۔ میں اپنے حلف کے مطابق کام کروں گا، بلا خوف و خطر اور اب بھی کسی سے ناانصافی نہیں کروں گا۔ اگر کسی کے دل میں ایسا کوئی خیال ہے تو اسے دل سے نکال دیں۔

آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کہتے ہیں کہ میرے والد (قاضی محمد عیسیٰ) نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کی آزادی کے لئے لڑائی لڑی تھی۔ میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے نصب العین کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دوں گا۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ صرف میری ذات کا معاملہ نہیں، یہ بہت اوپر کا معاملہ ہے

جناب صدر، میرے اور میرے اہل خانہ کے بارے میں جو ہتھکنڈے آزمائے گئے، اس سے بدتر صورت حال ممکن نہیں تھی اور اس کا مقصد صرف آزاد عدلیہ کو دباؤ میں لانا تھا۔ جناب صدر، آپ یقین رکھیں کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ میں اپنے حلف کے مطابق آئین کا دفاع کروں گا، دستور کا تحفظ کروں گا۔ اگر آزادی عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچایا گیا تو لوگوں کے، عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہوں گے۔ آئین کا آرٹیکل پانچ کہتا ہے کہ قانون اور آئین سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ لیکن اس سے زیادہ بڑی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جن کے پاس آئینی عہدے ہیں۔ اگر آئینی نظام کو بار بار روندا جائے گا تو جمہوریت آمریت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اور حکمرانی ایک تحکمانہ نظام کی صورت اختیار کر لے گی۔

جناب صدر مجھے یقین ہے کہ آپ ہر وہ اقدام کریں گے جس اس امر کی ضمانت مل سکے کہ ہر شہری دستور کی پاسداری کرے گا۔

آخر میں میں آپ سے پھر درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اس ریفرنس کی کاپی عنایت کی جائے جو ابھی مجھے نہیں ملا لیکن میڈیا میں اس کے حصے گردش کر رہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2